ایمنسٹی سکیم کا اجرا ، کتنے فیصد جمع کروا کر کالا دھن سفید کیا جاسکے گا؟

وزیر اعظم عمران خان نے ٹیکس ایمنسی اسکیم 2019 کی منظوری دی گئی۔ جس کے تحت کالا دھن رکھنے والے افراد اسے سفید کرسکیں گے- اس حوالے سے وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے واضح کیا کہ اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا مقصد ریونیو اکٹھا کرنا نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد معیشت کو ڈاکیومنٹیڈ کرنا ہے تاکہ معیشت تیز رفتاری سے چل سکے اور جو ڈیڈ اثاثے ہیں انہیں معیشت میں ڈال کر اسے فعال بنایا جاسکے۔ اسی طرح ہم نے کوشش کی ہے کہ یہ اسکیم سمجھنے اور عمل درآمد کرنے میں بہت آسان ہو، اس کو حقیقت پسندانہ رکھا ہے اور اس میں قیمت اتنی زیادہ نہیں رکھے گئے ہیں، اس کے پیچھے کا مقصد لوگوں کو ڈرانا نہیں بلکہ کاروباری لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ صحیح طریقے سے حصہ ڈالیں۔

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ 30 جون تک اسکیم میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا ہے اور اس اسکیم میں ہر پاکستانی شہری حصہ حصہ لے سکے گا، تاہم وہ لوگ جو حکومت میں عہدے رکھ چکے ہیں یا جو ان پر انحصار کرتے ہیں وہ اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔اس کےساتھ ساتھ اس اسکیم کے تحت پاکستان کے اندر اور باہر تمام اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے اور ریئل اسٹیٹ کے علاوہ تمام اثاثوں کو 4 فیصد کی شرح دے کر اثاثے ظاہر کرنے والی اسکیم میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ملک یا بیرون ملک موجود نقد اثاثے ظاہر کرنے پر شرط یہ ہے کہ انہیں کسی بینک اکاؤنٹ میں رکھا جائے جبکہ ریئل اسٹیٹ کے معاملے میں اس کی قیمت ایف بی آر کی مقرر کردہ قیمت سے ڈیڑھ فیصد زیادہ ہوگی تاکہ وہ مارکیٹ کی قیمت کے قریب آسکے۔ اس موقع پر ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایف بی آر کے مطابق کسی پراپرٹی کی قیمت 10 لاکھ روپے ہے تو اسے 15 لاکھ پر سفید کیا جائے گا اور اس پر ڈیڑھ فیصد ادا کرنا پڑے گا۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سے بیرون ملک لے جائے گئے پیسوں کو اگر سفید کرنا ہے تو اسے بھی کیا جاسکے گا اور انہیں 4 فیصد دینا ہوگا اور بقایا رقم کو پاکستان میں لاکر یہاں کے بینک اکاؤنٹ میں رکھنا پڑے گا، تاہم وہ اگر پاکستان میں پیسے نہیں لانا چاہتے اور بیرون ملک ہی اسے سفید کروا کر رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں 4 فیصد کے ساتھ مزید 2 فیصد دینا پڑے گا۔ اسی طرح اس سکیم کے تحت بے نامی قانون پاس ہوا ہے، اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تحت اگر کوئی اثاثے ظاہر نہیں کرتا تو تمام اثاثے ضبط کیے جاسکتے ہیں اور لوگ جیل بھی جاسکتے ہیں، لہٰذا یہاں بے نامی اکاؤنٹس اور جائیدادوں کو سفید کرنے کی مہلت دی جارہی ہے۔

اانہوں نے مزید واضح کرتے ہوئے بتایا کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے مذاکرات گزشتہ 7 سے 8 ماہ سے چل رہے تھے جو ایک اچھے طریقے سے مکمل ہوئے ہیں اور فی الحال اسٹاک لیول معاہدہ ہوا ہے جس کے بعد ادارے کا فل بورڈ اس معاہدے کو منظور کرے گا، جو یہ کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس کیوں جارہے ہیں وہ سب پہلے اس کے پاس جاچکے ہیں۔ آئی ایم ایف ایک بین الاقوامی ادارہ ہے، جس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ معاشی مشکلات کا شکار ممالک کو مدد فراہم کی جاسکے، ہم جو کرنے جارہے ہیں وہ اس وقت پاکستان کی ضرورت ہے۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ اگر ہم اپنی آمدن سے زائد اخراجات کررہے ہیں تو اس میں کمی پاکستان کے فائدے میں ہے، اگر ہمارے ریاستی ادارے مسلسل خسارے میں ہیں تو ان خساروں کو کم کرنا ملک کے لیے فائدے مند ہے، درآمدات و برآمدات کے فرق کو کم کرنے، قرضوں کے نظام کو بہتر کریں یہ تمام چیزیں پاکستان کے فائدے میں ہیں۔ اسی طرح احساس پروگرام کے بجٹ کو دگنا کیا جارہا ہے اور اسے 100 ارب کے بجائے 180 ارب روپے کیا جارہا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ مدد فراہم کی جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر اس معاہدے سے گیس کی قیمتیں بڑھیں گی تو اس میں بھی 40 فیصد ایسے صارفین جو کم گیس استعمال کرتے ہیں انہیں منفی اثرات سے بچانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق ایمنسٹی سکیم کے حوالےسے پاکستان تحریک انصاف نے خاصی تنقید کی تھی جبکہ اب اپنی حکومت میں ایمنسٹی سکیم متعارف کروا دی ہے جس پر کابینہ کے اراکین نے تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا تاہم ان کے تحفظات کو دور کر دیا گیا ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں