خادم حسین رضوی اور افضل قادری کی ضمانت پر رہائی کا حکم ، کتنے کے مچلکے جمع کرائیں گے؟

تحریک لبیک پاکستان کے امیر خادم حسین رضوی اور سابق سابق رہنما پیر افضل قادری کی ساڑھے 5 ماہ کے بعد ضمانت منظور کر لی گئی ہے اور لاہور ہائیکورٹ نے انہیں 5-5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کرنے کا حکم دیا ہے جس کے بعد انہیں رہا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے –

آج لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس قاسم علی خان اور جسٹس اسجد جاوید پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے ٹی ایل پی کے رہنماؤں کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سنایا – واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے دلائل مکمل ہونے پر 8 مئی کو درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

واضح رہے کہ ٹی ایل پی کی جانب سے 25 نومبر 2018 کو بطور یوم شہدا منانے کے اعلان کے بعد حکومت نے پیر افضل قادری کو نومبر میں ہی دہشت گردی اور بغاوت کے الزامات کے تحت ‘حفاظتی تحویل’ میں لے لیا تھا جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا تھا، اس دوران خادم حسین رضوی کو 23 نومبر 2018 کو 30 روزہ حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا اور بعد ازاں انسداد دہشت گردی عدالت نے رواں سال جنوری میں انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

یاد رہے کہ ضمانت سے متعلق درخواستوں کی آخری سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے پولیس کو خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کے خلاف ثبوت پیش کرنے کا حکم دیا تھا اور آج فیصلہ سناتے ہوئے خادم حسین رضوی اور افضل قادری کو رہا کرنے کا حکم سنایا گیا ہے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں