ہم سب چور پسند — حکومتیں چوروں کی محافظ !


تحریر ، تنویر بیتاب

کالا دھن سفید کرنے کے لئے ایمنسٹی اسکیم ایک بار پھر لانچ کر دی گئ ھے جو کہ فائلرز کے منہ پر زور دار طمانچہ ھے ۔ انہیں یہ بتایا گیا ھے کہ تم لوگ ملک کے بے وقوف ترین شہری ھو جو سیلز ٹیکس ریٹرنز ماہانہ بنیاد پر اور اِنکم ٹیکس ریٹرن سالانہ باقاعدگی سے جمع کرواتے ھو ۔ ان ریٹرنز کے آڈٹ بھی بھگتتے ھو۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس چوروں کو یہ پیغام دیا گیا ھے کہ کوئ بھی حکومت آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔ ہر حکومت انہیں رعائتی سکیمیں دیتی آئ ھے اور آئندہ بھی دینے پر مجبور ھو گی مگر باقاعدگی سے ریٹرنز جمع کروانے والوں اور تمام طرح کے ٹیکس بروقت ادا کرنے والوں کے لئے نہ تو آج تک کو رعائتی سکیم آئی ھے اور نہ ھی کبھی آئے گی کیوں کہ بے وقوف کسی رعائت کے مستحق نہیں ھوتے ۔

ہم بحیثیت قوم چور پرور اور چور پسند ھیں ۔ اگر ایک ہی بنک سے ایک ھی اسکیم کے تحت ایک جیسی رقم کا قرض لینے والے دو افراد میں سے جو شخص باقاعدگی سے قرض کی رقم واپس کرے گا اسے زیادہ رقم بمعہ سود و دیگر بنک چارجز اداکرنا ھوگی ۔ اسے کوئی رعایت نہیں ملے گی مگر ان میں سے جو شخص قرض کی رقم واپس نہیں کرے گا ۔ اسکے لئے بنک رعائتی سکیم دے گا ۔سود اور بنک چارجز معاف کئے جائیں گے ۔ قرض آسان اقساط میں ری شیڈول کیا جائے گا-

موبائل فون کمپنیوں نے بھی آج تک باقاعدگی سے کنکشن استعمال کرنے والے وفادار گاہکوں کے لئے کبھی کوئ رعائتی سکیم نہیں دی مگر سم بند کر دینے اور بار بار نیٹ ورک تبدیل کرنے والوں کے لئے ہر کمپنی نے ترغیبی ورعائتی سکیمیں دے رکھی ھیں ۔
ٹریفک کےسرخ اشارے پر جورک جائے وہ بے وقوف سمجھا جاتاھے اور جو اشارہ توڑکر نکل جائے وہ عقل مند ۔ ون وے کے درست ٹریک پرآنے والے کو غلط سمت سے آنے والے گالیاں دیتے ھیں ۔

سڑکوں پر تجاوزات کرکے کاروبار کرنے راستہ چوروں کو غریب پروری کے نام تحفظ دیا جاتاھے۔ یہ چور نگری ھے اور ہم سب چور پسند ۔۔حکومتیں چوروں کی محافظ !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں