سرکاری ہسپتالوں کا احوال


تحریر، افضال احمد تتلا

سرکاری ہسپتالوں کی جب بھی بات ہوتی ہے تو اکثریت کے غصے کی دھاڑ وہاں پر تعینات سٹاف پر جاکر ٹوٹتی ہے ادویات کمی ہو بیڈز پورے نہ ہو ہسپتال کی عمارت خستہ حال ہو یا ایمبولینسوں کی تعداد تسلی بخش نہ ہو تو قصوار ہسپتال کا عملہ ہی ٹھہرایا جاتا ہے بغیر یہ سوچے ان پر زبان درازی کی جاتی ہے کہ جب آپ اپنے کسی عزیز کو جان کنی کی حالت میں ہسپتال لےکر آتے ہیں تو یہ ہی سٹاف اسٹریچر لے کر آپ کے عزیز کو لے کر بھاگے پھرتے ہیں اور اس سارے عمل میں آپ کیا کرتے ہیں؟کبھی اپنے رویے پر غور کیا ہے؟تھوڑا سا بس تھوڑا غور کریں آپ کو اپنا رویہ یاد آجائے گا کہ جیسے ہی ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں سب سے پہلے گیٹ پر کھڑے سکیورٹی گارڈز کے ساتھ بدتمیزی بعض اوقات مغلظات سے بھی نواز دیا جاتا ہے اس کے بعد اسٹریچر لےکر آنے والے سٹاف سے شروع ہوکر ڈاکٹرز کو گریبان سے پکڑنے تک کی کوشش کی جاتی ہے اور باور کروایا جاتا ہے کہ ہمارے مریض کو کچھ ہوگیا تو اس کی سزا آپ کو بھگتنی پڑے گی ان تمام حالت کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اسٹریچر پر لیٹے ہوئے آپ کے عزیز کو فوری علاج کے لیے ہسپتال میں متعلقہ جگہ پہنچانے تک ہسپتال میں تعینات عملہ جس جان فشانی سے کام کرتا ہے –

کبھی اُس پر غور فرمایا ہے آپ نے؟ یہ تو ابھی صرف ہمارے رویوں کی بات ہوئی ہے اور میرا خیال ہے ایسے رویے بھی بہت سے مسائل کا سبب بن جاتے ہیں۔اب ہسپتالوں کی زبوں حالی کی وجہ ملاحظہ فرمائیں ایک رپورٹ کے مطابق یورپ میں ایک ہزار افراد کے لیے 63 بیڈز کا معیار مقرر کیا گیا جبکہ 2012ء کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں یہ تناسب 60. 0 تھا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1960ء میں بھی ایک ہزار مریضوں کو60. 0بیڈز ہی میسر تھے۔یعنی 10 دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی حالات یوں کے توں ہی رہے۔ یہاں پر ایک بات واضع کرتا چلوں سابقہ وزیر اعلی پنجاب اور موجودہ سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی جب وزیر اعلی پنجاب تھے تو ان کا دور حکومت اس حوالے سے قدرے بہتر تھا ان ہی کی کوششوں کی وجہ سے 2005ء میں پنجاب میں ایک ہزار افراد کو20 .1 بیڈز میسرز تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے پہلے سے موجود ہسپتالوں میں بیڈز کی تعداد میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ نئے ہسپتال بھی بنائے چوہدری پرویز الٰہی کی خصوصی کوششوں سے ہی پنجاب کے مختلف اضلاع میں کارڈیالوجی سنٹرز معرض وجود میں آئے تھے۔اب بات کرتے ہیں پنجاب میں بیماریوں کی شرح پر 2018ء میں 18 تا 24 فروری تک ہیلتھ اسکریننگ کیمپس لگائے گئے تھے پنجاب کے 36 اضلاع میں منائے جانے والے ہیلتھ ویک کے مطابق 9 لاکھ 66 ہزار 585 افراد کی اسکریننگ میں 5 لاکھ 10 ہزار 939 افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا پائے گئے جن میں سے1لاکھ 31 ہزار ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریض نکلے ہیں ,1 لاکھ 8 ہزار 114افراد شوگر, ایک لاکھ 74 ہزار بلڈ پریشر ,78 ہزار 720 افراد سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں جبکہ 17 ہزار 409 افراد کو ٹی بی تھی اگر ہر ضلع کی بات کریں تو فیصل آباد میں سب سے زیادہ 62 ہزار 787 افراد کی سکریننگ کی گئی تھی جبکہ جنگ میں 41 ہزار 692 ہزار اور راولپنڈی 38 ہزار 237 افراد کی سکریننگ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔

جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق52فیصد سے زائد افراد مختلف بیماریوں کے شکار پائے گئے تھے واضح رہے397افراد ایڈز کے مرض میں مبتلا نکلے ان میں سب سے زیادہ 148مریض ضلع راولپنڈی ,48ننکانہ صاحب اور 35 کا تعلق جھنگ سے تھا,ایک لاکھ8ہزار114افراد شوگر میں مبتلا تھے جن میں سے سب سے زیادہ 7 ہزار 342 فیصل آباد , 4 ہزار 743 سرگودھا اور 4 ہزار 571 مریض شیخوپورہ میں پائے گئے۔ بلڈ پریشر کے مریضوں میں فیصل آباد پہلے نمبر پر رہآ جہاں مجموعی مریض ایک لاکھ 74 ہزار میں سے 11 ہزار 397 صنعتی شہر سے تھے۔ سرگودھا میں 7 ہزار 132 اور راولپنڈی میں 7 ہزار 61 مریض پائے گئے۔رپورٹ کے مطابق 78 ہزار 720 افراد کو سانس کی بیماریاں نکلی جن میں سرگودھا 5 ہزار 446 مریضوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہآ, وہاڑی میں 4 ہزار 389 جبکہ سیالکوٹ میں 4 ہزار 383 مریض سامنے آئے۔ ٹی بی کے سب سے زیادہ مریض فیصل آباد سے نکلے کل پنجاب بھر کے17ہزار 409 مریضوں میں سے فیصل آباد میں ایک ہزار 204 , راولپنڈی میں ایک ہزار 199جبکہ ملتان میں717 مریض پائے گئے ہیپاٹائٹس کے سب سے زیادہ مریض بھی فیصل آباد میں پائے گئے رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ 19 ہزار ہیپاٹائٹس سی اور 12 ہزار 774 ہیپاٹائٹس بی کے مریض نکلے۔ ہیپاٹائٹس سے 12 ہزار 891 مریض فیصل آباد 6 ہزار 345 وہاڑی اور 5 ہزار 802 سرگودھا سے تھے۔سکریننگ کے دوران پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 6 لاکھ 79 ہزار 21 افراد کو ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین دی گئی اس رپورٹ میں مذکورہ بیماریوں کے علاوہ مزید 15 بیماریوں کے اعدادوشمار بھی جاری کیے گئے تھے۔

اب سننے میں آرہا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے صوبہ میں 200 بیڈز پر مشتمل 5 نئے ہسپتال بنانے کی منظوری دے دی گئی ہے ایسے دگرگوں حالات میں یہ یعقیناً خوش آئند بات ہے مگر وزیر اعلی پنجاب کو چاہیے کہ موجودہ ہسپتالوں پر بھی خصوصی توجہ دیں ان کی حالت زار بہتر کریں اسی طرح جو ہسپتال زیر تعمیر ہیں پہلے ان منصوبوں کی تکمیل کریں فیصل آباد کی تحصیل چک جھمرہ کا ٹی ایچ کیو ہسپتال کو ن لیگ کے دور حکومت میں اپ گریڈ کرکے باقاعدہ تعمراتی کام شروع کردیا گیا تھا اس عمارت کی تعمیر کا کام 24 مہنوں میں مکمل ہونا تھا جو ابھی تک التواء کا ہے اس تاخیر کی وجہ سے اس کے بجٹ میں 50فیصد تکے اضافے کی خبریں سامنے آرہی ہیں عوام یہاں تک جھمرہ کے مقامی صحافی ان سب باتوں سے بے خبر ٹی ایچ کیو ہسپتال چک جھمرہ میں تعینات عملہ پر دباؤ ڈالنے پر تلے ہوئے ہیں حالانکہ اس ہسپتال کے ایم۔ایس ڈاکٹر وسیم بھٹی ایک متحرک شخص ہیں میں ان کو ذاتی طور پر جانتا ہوں بھٹی صاحب ہمہ وقت ڈیوٹی دینے والے بندے ہیں مگر عوامی اور نام نہاد صحافتی رویوں سے یہ بھی محفوظ نہیں ہمیں چاہیے کہ اپنے رویے دوست کریں تاکہ سرکاری ہسپتالوں میں تعینات سٹاف پرفارم کر سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں