نیب چیئرمین سے ملاقات ، کالم نگار کی تحریر کے بعد نیب حکام کا سرکاری بیان ، لیکن لکھا کیا؟؟

سینئر کالم نگار جاوید چوہدری نے نیب چیئرمین کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے دو کالم تحریر کئے جس میں بہت سے نیب کیسز ، اور دیگر واقعات کا ذکر کیا گیا جو بہت حساس تھے لیکن اب نیب کی جانب سے ان کالموں پر رد عمل دیا گیا ہے جس میں نیب حکام نے واضح کیا ہے کہ کالم نگار نے اپنی تحریروں میں حقائق کو درست انداز میں پیش نہیں کیا اور مختلف افراد کے حوالے سے مقدمات کے جو نتائج اخذ کئے ہیں وہ بھی مکمل درست نہیں ہیں –

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب حکام کا کہنا تھا کہ کالم نگار کے ساتھ صرف اس حد تک گفتگو کی گئی کہ نیب ریفرنسز کو تیار کر کے معزز عدالت کے سامنے پیش کرے گا ۔ نیب کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کالم نگار کے ساتھ صرف اس حد تک گفتگو کی گئی کہ نیب ریفرنسز کو تیار کر کے معزز عدالت کے سامنے پیش کرے گا، نیب کی جانب سے ہر شخص کی عزت نفس کا خیال رکھا جاتا ہے ، ادارہ آئین اور قانون کے تحت اہنے فرائض کو انجام دے رہا ہے اور ہمیشہ دیتا رہہے گا ۔

قومی احتساب بیورو کی جانب سے جاری کئے گئے سرکاری ہینڈ آئوٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے چیئرمین نیب کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے نہ صر اقدامات کیے ہیں بلکہ حکومت کی جانب سے چیئر مین نیب کو سیکورٹی فراہم کی گئی ہے ، یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ نیب کی جانب سے مذکورہ ریکارڈ کی گمشدگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ریکارڈ کو نیب سے باہر لیجانے پر مکمل پابندی عائد ہے اور یہ نا ممکنات میں شمار پوتا ہے ، یہ درست ہے کہ چند گمشدہ فائلیں جن کے تعلق کئی سال پہلے کے کیسز سے ہے ، ان مقدمات سے متعلق تھیں ، جو فیصلے صادر ہوئے بھی کئی سال گزر چکے ہیں اور وہ قانون کی کتابوں میں رپورٹ شدہ ہیں ، انکا نیب کے کاغذات سے کوئی تعلق نہیں ہے ، نیب کی ہر کارروائی بلا امتیاز اور قانون کے مطابق ہے ، ان کارروائیوں کا سیاست یا کسی بھی جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے –

اپنے بیان میں نیب حکام کی جانب سے میڈیا پر بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ نیب کے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کرے ، مثبت تنقید چاہے حکومت کی جانب سے ہو یا اپوزیشن کی جانب سے ، ہمیشہ اس تنقید کا خیر مقدم کیا گیا ہے کیونکہ ملک سے بد عنوانی کا خاتمہ نہ صر ف اولین ترجیح ہے بلکہ ایک قومی فریضہ بھی ہے ۔

جاوید چوہدری کے تحریر کردہ کالم اور نیب حکام کی جانب سے اس بات کی مکمل تردید نہیں کی گئی کہ ملاقات نہیں ہوئی ، صحافتی حلقوں میں یہ بات بھی کی جارہی ہے کہ نیب کی جانب سے جو تردید کی جارہی ہے وہ بالکل واجبی سی ہے اور اس میں کالم نگار کے تحریر کردہ معاملات سے انکار نہیں کیا گیا –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں