” اِدھر ڈُوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈُوبے اِدھر نکلے “


تحریر، خاور جاوید رانا

کچھ لوگوں کی فطرت ایسی ہوتی ہے کہ اگر ان کو اوقات سے ذیادہ عزت مل جاۓ تو ان پر طاقت کا نشہ کچھ ایسا چڑھتا ہے کہ وہ آپے میں نہیں رہتے ۔ جیسے ایک گھریلو پالتو جانور کو گھی ہضم نہیں ہوتا ویسے ہی ان لوگوں کو عِزت راس نہیں آتی ۔ اب یہی دیکھ لیں کہ راولپنڈی کا ایک سگ خو سیاست دان کل علی الصبح ان لوگوں پرغرا رہا تھا کہ جن کی چوکھٹ پر وہ کبھی اپنا ماتھا ٹیکا کرتا تھا ۔

یہ بالکل وہی وقت تھا کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی کے لوگ اسامہ قمر شہید کی جواں سال موت پر ماتم کناں تھے اور یہ موصوف تھے کہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کے خلاف نشترزنی کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ ” شہباز شریف کے بعد اب آصف علی زرداری بھی “این آر او” لینے چل پڑے ہیں “۔

پہلے تو مجھے یہ خیال آیا کہ موصوف کل اسامہ قمر شہید کے جنازہ میں شریک تھے لہذا درگزر سے کام لے لینا چاہیے، یوں بھی فرمان رب تعالٰی ہے کہ ” هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ “( کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ اور بھی ہوسکتا ہے؟)
پھر خیال آیا کہ احسان کا بدلہ احسان ہے تو ٹھیک ہے جس دن یہ صاحب رحلت فرما جائیں گے تو پاکستان پیپلز پارٹی والے اس کے جنازہ میں شریک ہو کراس کے احسان کے حساب کو چْکتا کر دیں گے ۔ لہذا اس کی سیاسی موشگافیوں کا جواب سیاسی انداز سے ضرور دینا چاہیے ۔

مجھے شیخ رشید کی یہ منطق سمجھ نہیں آرہی ہے کہ جو وہ یہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ” شہباز شریف کے بعد اب آصف علی زرداری بھی “این آر او” لینے چل پڑے ہیں ، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شہباز شریف کو حکومت نے این آر او جاری کر دیا ہے؟ جو وہ پاکستان چھوڑ کر انگلستان پدھار گئے ہیں جبکہ ماضی بعید اور ماضی قریب نیازی صاحب اور ان کے رنگیلے بیسیوں مرتبہ اس بات کو دہرا چکے ہیں کہ وہ کسی کو” این آر او” جاری نہیں کریں گے ۔ میرے مطابق تو نیازی صاحب اور ان کے رتن درست کہہ رہے تھے کیونکہ یہ این آر او جاری کر ہی نہیں سکتے ۔ کیونکہ 2009ء میں سپریم کورٹ National Reconciliation Ordinance مسترد کر چکی ہے تو پھر حکومت کے ان کھوکھلے دعووں کی وقعت ہی کیا باقی رہ جاتی ہے ۔ اب تو قومی مفاہمتی آرڈیننس محض ایک سیاسی اصطلاح ہے کہ جس کا مقصد اپوزیشن قیادت کی پگڑیاں اچھالنا ہے ۔

شیخ رشید کا کیا ہے ۔ یہ بیچارہ تو خود ہی ساری زندگی بیساکھیوں کی تلاش میں در بہ در مارا پھرا ہے ۔ یہ خود اتنا بڑا لوٹا ہے کہ
اِدھر ڈُوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈُوبے اِدھر نکلے ” کے مصداق پارٹیاں تبدیل کرنا ان کا سب سے پسندیدہ مشغلہ ہے ۔ تحریک استقلال سے سیاست کا آغاز کیا پھر جونیجو لیگ میں جا گھسے ۔ میاں نوازشریف کا عروج آیا تو یہ ان کا منہ چومتے نہیں تھکتے تھے ۔ ان پر برا وقت آیا تو یہ ایسے غائب ہوئے کہ جیسے گدھے کے سر پر سے سینگ ۔ اب یہ جنرل پرویز مشرف کی آنکھوں کا تارہ بن کر سیاست کے افق پر چمکنے لگے ۔ یہاں پر بھی قاف لیگ کا لبادہ اوڑھا اور چوہدری شجاعت حسین کی گود میں جا بیٹھے ۔ بعد ازاں مخدوم جاوید ہاشمی نے انہیں عبرتناک شکست سے دوچار کیا تو یہ لال حویلی تک محدود ہوگئے ۔ یہ ان کے لیے بڑا ہی اوکھا ویلا تھا ۔ ایک تو الیکشن میں شرمناک شکست اور اوپر سے انہیں کھانا بھی گھر سے کھانا پڑ گیا تھا جو بقول شخصے کہ جب بھی گھر سے کھایا ہے حرام ہی کھایا ہے ۔

دلیر اتنے ہیں کہ جب میاں نواز شریف نے 28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کرنے کا پروگرام بنایا تو یہ تابکاری پھیلنے کے خوف سے پاکستان چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور دھماکوں کے بعد ہی وطن واپس لوٹے، یہ سیاسی پہلوان بھی بہت بڑے ہیں مخدوم جاوید ہاشمی کے نشست چھوڑنے کے باوجود یہ لال حویلی سے باہر نہ نکلے اور ضمنی الیکشن ان کے بغیر ہی ہوگیا ۔ یہاں سے نون لیگ کو کامیابی ملی ۔

یہ الگ بات ہے کہ کچھ ہی عرصہ بعد یہاں سے منتخب ہونے والے نون لیگ کے ایم این اے حاجی پرویز خان کو جعلی ڈگری کی بنا پراستعفیْ دینا پڑا۔ 2010ء میں ایک مرتبہ پھر ضمنی الیکشن کا وقت آیا تو شیدا صاحب جو کہ اس وقت قاف لیگ کو بھی چھوڑ چکے تھے صدر پاکستان محترم آصف علی زرداری کے چرنوں میں اس وقت تک بیٹھے رہے کہ جب تک کہ ان سے اپنی حمائت کا وعدہ نہیں لے لیا ۔
اس الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ووٹروں نے تو محترمہ شہید رانی کے صدقہ کہ جن کی یہ دورانِ الیکشن تصویر اٹھائے پھرتا رہا اور ان کے نام کے نعرے مارتا رہا انہیں ووٹ کی خیرات عطاء کر ہی دی لیکن وہ لوگ جو اس کی ذہنیت کو پہچانتے تھے انہوں نے اسے بالکل ہی ووٹ نہ دیا اور یوں یہ مسلم کے ایک ادنی سے کارکن ملک شکیل اعوان کے ہاتھوں ذلت آمیزشکست سے دوچار ہوا۔ اب دیکھتے ہیں کہ عمران خان کا برا وقت کب شروع ہوتا ہے اور یہ کب ان کا ساتھ چھوڑ تے ہیں-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں