زرعی یونیورسٹی میں کلاس رومز کوآئی سی ٹی سہولیات سے آراستہ کرنے کا عزم ، وائس چانسلر

فیصل آ باد(ویب ڈیسک)زرعی یونیورسٹی کے تدریسی کمروں کو جدید آئی سی ٹی سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ علم کی بنیاد پر معاشی خدوخا ل ترتیب دینے کیلئے ایسی تربیت یافتہ افرادی قوت مارکیٹ میں اُتاری جائے جو صحیح معنوں میں اپنے علم کی بنیاد پر خدمات اور ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف خودروزگار کے قابل ہو بلکہ ڈیجیٹل ورلڈ میں کامیابی کا ایک روشن استعارہ بھی بن سکیں-

یہ باتیں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد اشرف (ہلال امتیاز) نے نیو سینٹ ہال میں یونیورسٹی آف ویٹرنری و اینمل سائنسز لاہور کے سابق وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد نواز کے خصوصی لیکچر میں مہمان خصوصی کے طو رپر خطاب میں کہیں۔ ڈاکٹر محمد اشرف نے کہا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف کے حوالے سے بہت سے افریقی ممالک غیرمعمولی پیش رفت کر رہے ہیں تاہم وہ توقع رکھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں نئی حکومت ان اہداف کیلئے سنجیدہ اور پائیدار اقدامات اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے کسان کے ساتھ ساتھ عام پاکستانی کی زندگی میں آسانی کیلئے نہ صرف درآمدات و برآمدات کے تناسب میں بہتری لانا ہے بلکہ زراعت کو بھی نئی نسل کیلئے پرکشش پیشہ بنانے کیلئے چھوٹے رقبوں کیلئے سمارٹ‘ معیاری اور سستے زرعی آلات پر مبنی ایسے ٹیکنالوجی پیکیج متعارف کروانا ہونگے جن کی مدد سے فی ایکڑ پیداوار اور کسان کی آمدنی میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے ہمیں پائیدارترقیاتی اہداف کیلئے صحت و تعلیم‘ ماحولیات‘ غربت‘ بے روزگاری‘ صنفی توازن کے شعبوں میں اقوام متحدہ کی گائیڈ لائنز کی روشنی میں خاطر خواہ پیش رفت کرنا ہوگی تاکہ تجارتی خسارہ میں کمی لاتے ہوئے اپنے وسائل عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کئے جا سکیں۔ ان سے پہلے سیمینار کے کلیدی مقرر ڈاکٹر محمد نواز نے کہا کہ نالج بیسڈ اکانومی کیلئے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کیلئے عوامی سطح پر نوجوانوں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈرائیڈ موبائز کے دور میں ایسے اپلی کیشنز متعارف کردائی جانی چاہئیں جن کی مدد سے بچوں کو ان کی دلچسپی کے مطابق آگے بڑھنے اور اپنی سمت متعین کرنے میں رہنمائی اور مدد مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومتوں کوگورننس بہتر کرنے کیلئے جدید تقاضوں اور رجحانات کے مطابق قانون سازی کرنے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے تاکہ دستیاب آئی ٹی وسائل کا بہتر استعمال یقینی بناتے ہوئے شفاف‘ موثر اور فوری نتیجہ خیز سسٹم متعارف کروانے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو سوشل میڈیا اور موبائل ٹیکنالوجی کا محض تفریحی استعمال کے بجائے تعمیری اور سائنسی استعمال بڑھانا ہوگا تاکہ ترقیاتی اہداف کے حصول کیلئے ہر نوجوان ا س تحریک کامتحرک کارکن بن کر اپنے کردار ادا کر سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں