آئی سی سی کا کرکٹ ورلڈ کپ کے مکمل شفاف ہونے کی گارنٹی دینے سے انکار،لیکن کیوں ؟؟

ایک روزہ میچز کا عالمی مقابلہ شروع ہونے میں صرف چار روز باقی ہیں جبکہ اس کے تمام تر انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں اور دوسری جانب سٹہ بازوں کے نیٹ ورک توڑنے کے لئے کارروائیاں کی جارہی ہیں جبکہ اس حوالے سے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کا بیان بھی سامنے آ گیا ہے –

میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ الیکس مارشل نے واضح کیا ہے کہ 30 مئی سے شروع ہونے والے ورلڈ کپ کے مکمل شفاف ہونے کی گارنٹی نہیں دے سکتے لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ ایونٹ میں کرپشن کا خطرہ کم سے کم ہو گا – آئی سی سی نے 12 مشہور کرپٹ افراد کو تحریری، کال پر یا واٹس ایپ کے ذریعے آگاہ کر دیا ہے کہ ٹورنامنٹ کے آس پاس یا قریب آنے کی کوشش نہ کریں اور انہوں نے بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ ورلڈ کپ میں نہیں آئیں گے – تاہم ‘یہ ضروری نہیں کہ وہ سچ کہہ رہے ہوں اس لیے ہم نے اضافی اقدامات کر رکھے ہیں تاکہ انہیں ٹورنامنٹ سے دور رکھا جا سکے-

سربراہ اینٹی کرپشن یونٹ کا کہنا تھا کہ ایونٹ میں حصہ لینے والے تمام 10 ممالک کی ٹیموں کے کھلاڑیوں کی نقل و حرکت کو دیکھنے کے لیے ایک اینٹی کرپشن مینجر رکھا گیا ہے اور ورلڈ کپ کے دوران کرپشن امور کے حوالے سے ٹریننگ سیشنز کر رکھے ہیں اور ہم جانتے کہ ہمیں کیا کرنا ہو گا- اسی طرح میگا ایونٹ کے دوران کرپشن سے نمٹنے کے لیے پولیس، نیشنل کرائم ایجنسی، گیمبلنگ کمیشن اور کئی دوسری ایجنسیاں بھی کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ورلڈ کپ کے دوران سٹہ بازی کرنے کی خواہش رکھنے والےکرپٹ عناصر جانتے ہیں کہ اس ٹورنامنٹ کو محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور پھر بھی اگر کسی نے کسی قسم کے جوئے بازی کی تو وہ اینٹی کرپشن یونٹ کی پکڑ سے بچ نہیں سکے گا –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں