اج چند چڑھیا تے پل کے عید


تحریر۔ افضال احمد تتلا

آج اُن عیدین کا ذکر کر کررہا ہے جو قمری کیلنڈر کی محتاج تھی اور نہ ہی رویت ہلال کمیٹی کے اشارے کی منتظر۔یہ میرے بچپن کا زمانہ تھا رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتے ہی ایسا محسوس ہوتا جیسے ایک تقدس کی چادر پورے گاؤں کے ماحول کو اپنی لپٹ میں لے لیتی تھی بڑے بوڑھے تو روزوں اور روزہ داروں کا احترام کرتے ہی تھے بچے بھی رمضان المبارک کی بے ادبی کو گستاخی سمجھتے تھے یہ سب لکھتے وقت بچپن کی یادیں اور اپنے گاؤں کی کچی گلیاں میری آنکھوں کے سامنے گھومتی ہوئی محسوس ہورہی ہیں ہمارے گاؤں والے گھر کے سامنے مسجد ہے تب اس مسجد کو چڑھدی مسیت کے نام سے جانا جاتا تھا اس وقت گاؤں میں کُل چار مساجد تھی ان مساجد کو چڑھدی مسیت, وڈی مسیت, دربار شریف والی مسیت اور کھال والی مسیت کے نام جانا جاتا تھا ان مساجد کے نام بھی اُس دور کے بزرگوں نے سادہ سے رکھے ہوئے تھے تب نہ تو فرقہ واریت تھی اور نہ ہی تیری میری والی کوئی بات ہوتی تھی۔

رمضان المبارک کے مہنے میں مسجدوں کی صفائی ستھرائی میں ہر کوئی بڑھ چڑھ کا حصہ لیتا ہمارے گھر کے قریب والی مسجد کی دیوار کے ساتھ ہی کنواں ہوتا تھا یہ کنواں مسجد کے احاطے سے باہر ہوتا تھا اس کے ساتھ نہانے کے لئے تین غسل خانے اور دو طہارت خانے ہوا کرتے تھے تب دیہی لوگوں کی اکثریت نہانے کے لئے مساجد کے ہی غسل خانے استعمال کیا کرتے تھے صبح اور شام کے وقت مسجد کے غسل خانوں کے باہر کافی رش ہوتا تھا ان غسل خانوں میں پانی پہنچانے کے لیے کنواں سے غسل خانوں تک دیوار کے اوپر ایک نالی بنی ہوئی تھی کنواں کی منڈیر سے پانی اس نالی میں ڈالا جاتا اس طرح یہ پانی غسل خانوں کی چھوٹی چھوٹی ہدیوں میں چلا جاتا ان ہدیوں سے میں ایک سوراخ کیا ہوا تھا جس کو لکڑی کے “ڈکے”سے بند کیا ہوا ہوتا نہانے والا پہلے کنواں سے پانی نکال کر یہ ہدیاں بڑتا پھر غسل خانے میں جاکر وہ لکڑی وہ “ڈکا” نکال کر نہانے کے لیے پانی استعمال کرتا تب متعدد چیزیں بالکل سادہ اور دیسی ساخت ہی ہوا کرتی تھی رمضان المبارک میں جہاں لوگ اپنے گھروں کی صفائی ستھرائی اور پاکیزگی پر خصوصی توجہ دیتے وہی اس کنواں کے پانی میں باقاعدہ دوائی ڈال کر اس کو صاف وشفاف کرنے کی کوشش کی جاتی سحری اور افطاری کے اوقات کی گاؤں کا بازی گر بابا شریف ڈھول کی تھاپ سے لوگوں کو آگاہی دیتا اور پھر رمضان کے آخری عشرے میں ہر گھر سے بابا شریف بازی گر کےلیے گندم کے دانے,گڑ یا مونجی بطور عیدی دی جاتی۔رمضان المبارک شروع ہوتے ہی عید کارڈز کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ان کارڈز پر ہم بچے مختلف قسم کے اشعار لکھتے تھے جیسے کہ

عید عید کرتے ہو عید بھی آجائے گی
پہلے تیس روزے رکھوں عقل ٹھکانے آجائے گی

شعر لکھنے کا اتنا رواج تھا کہ عید کارڈ کے اوپر والے لفافے پر شعر ہی لکھے ہوتے تھے سلام کی بجائے یہ ایک شعر لکھ دیا جاتا تھا

آم لگے انگور لگے پھر لگے بادام
عید کارڈ کھولنے سے پہلے میرا سلام

اسی طرح ہی روزے رکھتے اور ایک دوسرے کو تحائف دیتے ہی یہ ماہ مقدس اپنے اختتام کو پہنچتا تو رمضان کی انتیس تاریخ کی افطاری کے فوراً بعد ہی لوگ کی اکثریت گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر آسمان پر نظریں جمالیتے اور بچے بےتابی سے بار بار سوال کرتے چاند نظر آیا ہے کہ نہیں؟یوں بعض اوقات چاند کی شہادت نہ ملنے پر لوگ تیسویں روزے کے لیے مساجد میں چلے جاتے جبکہ بچے امید اور ناامیدی کی کشمکش میں چارپائیوں کا رخ کرلیتے پھر یکدم کسی ایک طرف سے چاند نظر آنے کی شہادت کا اعلان ہوتا تو بچے گاؤں کی گلیوں میں خوشی سے ناچتے ہوئے۔

اج چند چڑھیا تے پل کے عید
مکہ مدینہ تے مکہ شریف

کی نعرے لگاتے ایک دوسرے کو گلے لگاتے بناوٹ اور شعبدہ بازی سے پاک یہ دیہی لوگ بچوں کی اسی آواز کو ہی چاند نظر آنے کا اعلان سمجھتے اور عورتیں رات کو ہی گھروں کے کام نمٹا لیتی اور مہندی لگانے کا خاص اہتمام ہوتا۔مجھے اپنے بچپن کی بہت سی عیدیں یاد ہیں جن کا ہمیں صج پتہ چلتا تھا اور وہ بھی ماں جی کی جانب سے ہمارے ہاتھوں پر لگائی جانے والی مہندی سے ہمیں شہادت مل جاتی کہ عید ہوگئی ہے۔دور حاضر نے یہاں بچوں سے بچپن اور ماں کی مامتا سے چاشنی چھین لی ہے وہاں عید کے لفظ سے مٹھاس بھی کم کردی ہے اب اس مٹھی عید میں پتہ نہیں کیوں وہ مٹھا پن نہیں رہا جو بچوں کے ان الفاظ سے محسوس ہوتا تھا

اج چند چڑھیا تے پل کے
مکہ مدینہ تے مکہ شریف

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں