ہائے یہ مہنگائی ، عید پرعوام کی خریداری میں کتنے فیصد کمی سامنے آئی؟ تشویش ناک خبر

فیصل آباد سمیت ملک بھر میں رواں سال عید کے – موقع پر عوام کی قوت خرید کم رہی جس کی بڑی وجہ مہنگائی کی بلند شرح ہے جبکہ اس حوالے سے کاروباری اداروں اور افراد نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے- میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں غذائی اشیا سے متعلق مہنگائی مئی میں 9.11 فیصد کی سطح تک پہنچ گئی جو اپریل میں 8.8 فیصد تھی جس کے بعد تاجر برادری نے واضح کیا ہے کہ بچوں کے ہمراہ آنے والے بہت سے خریدار کپڑوں، جوتوں اور درآمدی زیور وغیرہ کی قیمتیں سن کر یا تو خالی ہاتھ لوٹ گئے یا کم کوالٹی پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوئے جس کی وجہ سے فروخت کے ہدف میں ناکامی پر کچھ تاجروں نے خریداروں کواپنی طرف مائل کرنے کے لیے پرانا اسٹاک رعایتی قیمتوں پر فروخت کے لیے بھی پیش کیا۔

تاجر راہنمائوں کا کہنا تھا کہ عید کے موقع پر پہلے جو لوگ 3 سے 4 سوٹ خریدتے تھے وہ بھی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ایک سے 2 سوٹ تک محدود ہوگئے – اس طرح پنجاب کے بازاروں میں خریداری میں تقریباً 33 فیصد کمی دیکھنے میں آئی جس کے باعث تاجروں کے لیے اپنا ہدف پانا شدید مشکل ہوگیا۔ یہی صورتحال بلوچستان میں سامنے آئی جہاں پر صوبے کی مختلف مارکیٹس میں خریداری میں 30 سے 40 فیصد کمی دیکھنے میں آئی تاہم تاجر راہنمائوں نے اس کا ذمہ دار کچھ لالچی قسم کے تاجروں کو قرار دیا جو خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے کے دوران قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کردیتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ تاجر برادری کے نمائندے خود مختلف مارکیٹس میں گئے اور کچھ دکانوں کا جائزہ لیا جہاں انہیں مایوس چہروں کے ساتھ کئی والدین نظر آئے جو قیمت جاننے کے بعد اپنے بچوں کے لیے خریداری نہیں کرسکے- دکانداروں نے بچوں کے کپڑوں کی قیمت میں بارگیننگ کا مارجن رکھتے ہوئے ان کی قیمتیں 700-600 سے بڑھا کر 1100-1200 کردی تھیں۔ رمضان المبارک کی وجہ سے مٹھائیوں کی قیمتیں 450 سے بڑھا کر 600 روپے فی کلو کردی گئیں اسی طرح بسکٹ کی قیمت 300 روپے سے بڑھ کر 400 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔

تاجر راہنمائوں کے مطابق رمضان کے آخری عشرے کے دوران بازار میں خریداروں کا ہجوم مصنوعی ثابت ہوا کیوں کہ حقیقی خریداروں کے بجائے زیادہ تر افراد ونڈو شاپنگ والے تھے، جس کی وجہ سے کراچی میں فروخت کا ہدف 45 سے 50 ارب روہے ہونے کے باوجود 35 ارب روپے کی خریداری ہوئی۔ درآمدی اشیا کی قیمتوں میں 40-30 فیصد اضافے کے باعث مقامی مصنوعات کی خریداری میں 25-20 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ کراچی کے ایک مال میں مصنوعی زیورات فروخت کرنے والے شخص نے بتایا کہ روپے کی قدر میں کمی کے باعث درآمد ہونے والے معمولی سے ‘بُندے’ کی قیمت 40-30 روپے سے بڑھ کر 150-140 ہوچکی ہے جبکہ اعلیٰ کوالٹی کے بندے 350 کے مقابلے 500-450 روپے میں دستیاب ہیں۔ اسی طرح دوسری جانب ایک چوڑیاں فروخت کرنے والے تاجر نے بتایا کہ چوڑیوں کی قیمت میں 20-10 فیصد اضافہ ہوا اور گذشتہ برس کے مقابلے خریداری میں 50-40 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، اس لیے خریدار کم کوالٹی کا سامان خریدنے پر بھی مجبور نظر آئے۔

واضح رہے کہ مہنگائی میں پسے عوام پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ ڈالر کے مقابلے میں گرتی ہوئی روپے کی قدر کی وجہ سے شدید معاشی بدحالی کا شکار تھے جبکہ اب دکانداروں کی جانب سے اشیا کی قیمتوں میں بے اضافہ سے وہ عید کی خوشیوں سے محروم رہے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں