5 برآمدی سیکٹرز سے زیرو ریٹ کی سہولت واپس لینا صنعتوں کی بربادی ہوگی ، PHMA

فیصل آباد (ویب ڈیسک) قیمتی زر مبادلہ کمانے والے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر نے خام مال تیار کرنے والے سیکٹر کی آڑ میں پانچ اہم برآمدی سیکٹرز سے زیرو ریٹ کی سہولت واپس لینے کی اطلاعات پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے سونے کا انڈا دینے والی مرغی کو ذبح کرنے کے مترادف قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی مشاورت کے بغیر ایسا کیا تو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوجائیں گے۔


پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نارتھ زون کے سینئر وائس چیئرمین میاں کاشف ضیاء نے کہا ہے کہ حکومت اور پانچ اہم برآمدی سیکٹروں کے درمیان زیرو ریٹ کی سہولت کو برقرار رکھنے کے سلسلہ میں کئی مشاورتی نشستیں ہوچکی ہیں جبکہ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن(اپٹما) نے اپنے مفادات کیلئے حکومت کو زیرو ریٹ کی سہولت واپس لینے کے حوالے سے اپنی رضا مندی کا یقین دلادیا ہے حالانکہ اس کا صرف ٹیکسٹائل کے شعبہ میں بھی انتہائی معمولی حصہ ہے اور اسے کسی طور پر بھی پورے ٹیکسٹائل سیکٹر کی نمائندگی کا حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بھی محض اپنے مفادات کیلئے اپٹما کی آڑ میں پورے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر نے کبھی بھی خام مال مہیا کرنیوالے سپننگ سیکٹر کو پورے ٹیکسٹائل سیکٹر کی نمائندہ تنظیم تسلیم نہیں کیا جبکہ ٹیکسٹائل کی پوری چین میں سب سے زیادہ زرمبادلہ ویلیو ایڈڈ سیکٹر کماتا ہے جن میں ہوزری، نٹ ویئر اور گارمنٹ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپٹما محض خام مال مہیا کرنے کی آڑ میں پورے ٹیکسٹائل سیکٹر کی نمائندگی کا دعویٰ کر کے محض اپنے سیکٹر کے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے جس کیلئے وہ حکومت سے سودا بازی کررہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت کو غیر نمائندہ افراد کی آڑ میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے گریز کرنا چاہئے ورنہ پورے ملک میں پھیلا ہوا ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر اپنے مفادات کیلئے سڑکوں پر نکل آئے گا اور اس صورتحال کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت برآمدی سیکٹر پر پہلے بھی دو مرتبہ سیلز ٹیکس نافذ کرنے کا ناکام تجربہ کرچکی ہے جس سے نہ صرف برآمدات بری طرح متاثر ہوئیں بلکہ زر مبادلہ کمانے اور روز گار پیدا کرنے والے ویلیو ایڈڈ سیکٹر کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ باربار ناکام تجربات کو دہرانے کی بجائے حکومت کو پانچ اہم برآمدی سیکٹرز کیلئے زیرو ریٹ کی سہولت کو برقرار رکھنا چاہیے تاکہ برآمدات میں اضافہ کے موجودہ رجحان کو جاری رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بصورت دیگر پورا ویلیو ایڈڈ سیکٹر مالی بحران کی وجہ سے تباہ ہوجائے گا اور حکومت کا برآمدات کو بڑھانے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں