جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر امین کی بطور پرفیسر سلیکشن غیرقانونی

قدیر سکندر ،

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر امین کی بطور پروفیسر سلیکشن کو غیر قانونی قرار دیدیا گیا ہے جبکہ وصول کی گئی 15 لاکھ 83 ہزار روپے کی رقم واپس ریکور کرنے کی سفارش کی گئی ہے –


وفاقی ادارے کی جانب سے جاری کردہ آڈٹ رپورٹ کے پیرا نمبر 17 کے مطابق سروس سٹیٹس 2003 کے مطابق گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں پروفیسر کی تعیناتی کے لئے کوالیفکیشن متعلقہ سبجیکٹ میں پی ایچ ڈی بمعہ 15 سالہ ٹیچنگ اور ریسرچ تجربہ اور 8 تحقیقی مقالے انٹرنیشنل معیار کے جرنلز میں شائع کروانا لازمی تھا لیکن 30 جون 2010 کے بعد کسی بھی ایچ ای سی کی تصدیق کردہ کسی یونیورسٹی تقریبا 8 سال پوسٹ پی ایچ ڈی کا تجربہ ، یا پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوشن یا پروفیشنل تجربہ متعلقہ فیلڈ کا بھی پروفیسر کی سلیکشن کے لئے لازمی درکار تھا –

رپورٹ کے مطابق جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں 2014-15 کے آڈٹ کے دوران جب پروفیسر آف فزکس ڈاکٹر ناصر امین کی پرسنل فائل کی جانچ پڑتال کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ ڈاکٹر ناصر امین 2012 میں پروفیسر کے عہدہ پر تعینات ہوئے لیکن ان کی تعیناتی کے لئے ٹیچنگ اور تحقیق کے لئے پوسٹ پی ایچ ڈی کا درکار تجربہ کے قوانین کو پورا نہیں کیا گیا جس کے بعد یہ ثابت ہوتا ہے کہ ڈاکٹر ناصر امین کی بطور پروفیسرر تعیناتی غیر قانونی تھی –

اس کے علاوہ آڈٹ یہ سفارش کرتا ہے کہ ڈاکٹر ناصر امین کی بطور پروفیسر غیر قنانونی تعیناتی کے مدت کے دوران و صول کی گئی 15 لاکھ 83 ہزار سے زائد کی رقم واپس ریکور کی جائے-

آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈاکٹر ناصر امین کی بطور پروفیسر کی تعیناتی متعلقہ آرڈیننس کی خلاف ورزی ، نااہلی اور انٹرنل کنٹرول کی ناکامی ہے اس لئے آڈٹ یہ سفارش کرتا ہے کہ رقم کی وصولی کے ساتھ ساتھ اس معاملہ کے ذمہ داروں کی بے ضابطگیوں کا تعین کیا جائے-

اس حوالے سے یونیورسٹی ترجمان نے اپنا موقف دیتے ہوئے بتایا کہ اس رپورٹ میں تحریر کردہ پوسٹ پی ایچ ڈی تجربہ 2020 تک قابل اطلاق نہیں ، کسی بھی آڈٹ اعتراض کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ متعلقہ شخص قصور وار ہے ، آڈٹ میں اکثر اعتراضات غلط ہوتے ہیں جس طرح اس رپورٹ میں ہوا ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں