پاکستان کے اگلے دونوں میچز ” ڈو اینڈ ڈائی ” کے مترادف ، قومی ٹیم کو کیا کرنا ہو گا ؟؟

انگلینڈ میں کھیلے جانے والے ایک روزہ میچز کا عالمی کپ کے اگلے دونوں میچز پاکستان کے لئے “مارو یا مر جائو” کے مصداق ہیں جس کے لئے پاکستانی سکواڈ بہترین تیاریوں میں مصروف ہے – واضح رہے پاکستان 12 جون کو دفاعی چیمپئن آسٹریلیا سے ٹکرائے گا جبکہ 16 جون کو روایتی حریف بھارت کے مدمقابل ہوگا اور یہی دونوں میچ ورلڈ کے فاتح کا پتہ بھی دیں گے-

میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کا ویسٹ انڈیز اور بھارت کا جنوبی افریقہ کے ساتھ میچ بال ٹو بال دیکھا اور احساس ہوا کہ یہ تینوں ٹیمیں (آسٹریلیا+ ویسٹ انڈیز+ بھارت) بہتر کمبی نیشن کے ساتھ آئی ہیں، ویسٹ انڈیز کے پاس اگرچہ بیٹنگ لائن آخری نمبروں میں کمزور ہے،لیکن اس کے پاس فاسٹ باؤلروں کی زبردست پیس بیٹری موجود ہے اور یہ باؤلر مخالف ٹیم کو آؤٹ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔آسٹریلیا کی جیت اور ویسٹ انڈیز کی شکست میں بھی حوصلے، تدبر اور حکمت عملی کا ہاتھ تھا، کہاں آسٹریلیا کے چار بہترین بلے باز ابتدا میں صرف 38رنز کے عوض آؤٹ ہو گئے اور کہاں اس کی مڈل اور ٹیل اینڈر بیٹنگ نے یہ میچ جیت لیا اور ویسٹ انڈیز کو ہرا کر رہے۔

رپورٹس کے مطابق اس طرح یہ احساس ہوتا ہے کہ دونوں ٹیمیں پروفیشنل سوچ رکھتی ہیں اور ان سے مقابلہ آسان نہیں۔دوسری طرف بھارت نے زیادہ تر انحصار اپنے سپن باؤلروں پر کیا اور بیٹنگ میں روہیت شرما بہتر ہو کر سامنے آئے، بھارت نے دو فاسٹ باؤلروں اور دو ریگولر سپن باؤلروں کے ساتھ باقی آل راؤنڈر کھلائے اور جنوبی افریقہ کو شکست دے کر ثابت کیا کہ ان کی حکمت عملی درست اور کھلاڑی فارم میں ہیں۔اب ہمارے شاہینوں کو پہلے12جون کو آسٹریلیا اور پھر16جون کو بھارت سے ٹکرانا ہے۔ یقین ہے کہ کوچز اور ٹیم مینجمنٹ نے آسٹریلیا اور بھارت کا کھیل اپنے کھلاڑیوں کو ویڈیو کے ذریعے بار بار دکھایا اور کھلاڑیوں کی خوبیوں اور کمزوریوں کے بارے میں آگاہ کیا ہو گا، اور کھلاڑیوں نے بھی سمجھ لیا ہو گا کہ یہ دونوں میچ ”ڈو آر ڈائی“ کی حیثیت رکھتے ہیں اور اپنی کمزوریوں پر قابو پا کر دوسروں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا ہو گا،اللہ کرے باؤلروں کی فارم اور یادہ بہتر اور بلے بازوں کے حوصلے بلند ہو جائیں-

واضح رہے کہ بھارت دونوں میچز جیت کر 4 پوائنٹ اور آسٹریلیا 3 میں سے 2 میچ جیت کر 4 پوائنٹ حاصل کرچکا ہے جبکہ پاکستان اپنے تین میچز کھیل کر تین پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل پر موجود ہے اس لئے ٹیبل پر پوزیشن بہتر کرنے کے ساتھ دیگر ٹیموں پر اپنی دھاک بٹھانے کے لئے ان دونوں میچز کو جیتنا لازمی ہے اگر پاکستان نے اپنے یہ دونوں میچز جیت لئے تو پھر پاکستان کو عالمی کپ کا فاتح بننے سے کوئی نہیں روک سکتا –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں