قدیم پاکستان کا ایک یونانی شہر …. (تحریر : محمد کاشف علی )

کوئی شبہ اس میں نہیں کہ پاکستان تہذ یبی تناظر کے حوالے سے ایک نیا نام اور کم سن ملک ہے—– ہاں مگر یہاں کی تہذ یبی داستان بہت دور تلک جاتی ہے—– تاریخ کے اس دور تلک جب تحریر ابھی رائج نہیں ہوئی تھی—– تاریخ کی اُن راہداریوں تلک جب زراعت پر مبنی تہذیب بھی ابھی وجود نہیں رکھتی تھی—– اس دھرتی نے، جہاں آج پاکستان نام کی ایک جغرافیائی اکائی ہے، نے کئی قرن کئی ادوار کو دیکھ رکھا ہے—– پتھر کے دور سے لے کر زراعت کی دریافت تک—– کانسی کی تہذیب سے لے کر لوہے کے دور تک—–وادیِ سندھ کی عظیم الشان تہذیب سے لے کر گندھارا تہذیب تک۔

سِرکَپ ایک یونانی طرز کا شہر ہے جو پاکستان کی قدیم سرزمین پردوسری صدی قبل مسیح میں بسایا گیا تھا اور بقول ممتاز ماہرِ آثارِ قدیمہ پروفیسر سیف الرحمان ڈار یہ شہر اس وقت کے دو قدیم یونانی شہروں، اولنتھس اور پرائن(موجودہ ترکی)، سے بہتر تھا۔ یہ سرکپ شہر موجودہ ٹیکسلا کا حصہ ہے جہاں کبھی گندھارا تہذیب نے تقریباً ہزار برس (500 قبل مسیح سے 500 عسیوی تک) حکمرانی کی—– گندھارا تہذیب کے پاکستان میں تین بڑے مراکز تھے: تَکشا سِلہ (موجودہ ٹیکسلا)، پُشکالا وَتی (موجودہ چارسدہ) اور اُودیانہ (موجودہ سوات)—– مگر جو مقام ٹیکسلا کا تھا وہ کسی اور کے حصے میں نہ آ سکا کہ ٹیکسلا اس وقت کی مشرقی اور مغربی دنیاؤں کو ملاتا تھا۔

ٹیکسلا کے پہلے قدیم شہربِھڑ ماؤنڈ کی ویرانی کے بعد ہند یونانی بادشاہ ڈیمٹریس کا نام تاریخی طور پر لیا جاتا ہے کہ اس نے سرکپ شہر کو یونانی شہروں کی طرز پر دوسری صدی قبل مسیح میں آباد کیا تھا—– ٹیکسلا کا یہ دوسرا قدیم شہر باقاعدہ منصوبہ بندی کا ثمر تھا جس کے شمال و مشرق میں گاؤ ندی، مغرب میں تمرا ندی کے تازہ پانی کا بہاؤ تھا اس سے نہ صرف شہر کو تازہ پانی کی فراہمی ہوتی بلکہ دفاعی ضرورت بھی پوری ہو جاتی —– شہر فصیل بند تھا، موٹی چٹانی شہر پَناہ اس شہر کا برسوں حملہ آوروں سے دفاع کرتی رہی، یہ فصیل ابھی بھی شہرِ ویراں کا سرمایہ ہے—– شہر کے بیچوں بیچ میں سے گزرتی مرکزی شاہراہ سرکپ کو واضح طور پر دو حصوں میں شرقاً غرباً تقسیم کر دیتی ہے—– شہر کے مشرقی حصے میں مجموعی طور پر زیادہ اہم عمارات کے باقیجات ابھی بھی تاریخ کی تجسیم کےمظاہر ہیں—– شہر کے اس حصہ میں شاہی محل، جین مندر، گول مندر، دو سروں والے عقاب کی قبر، بدھ مت والوں کا ایک نجی سٹوپا واقع ہے۔ جبکہ شہر کے مغربی حصہ کی سب اہم یادگار شائد شمسی گھڑیال ہے، جہاں آج بھی وقت کی آٹھ پہروں میں تقسیم دیکھی جاسکتی ہے—– یہ نہ صرف گھڑیال تھا بلکہ سورج پرستوں کا مندر بھی تھا۔ مرکزی شاہراہ کے شمالی حصہ کے دونوں طرف بازار تھا اور بازار سے تھوڑا آگے جا کر شاہی محل راہ میں پڑتا تھا—– مرکزی شاہراہ پر موجود محل، بازار اور منادر کی پشت پر رہائشی عمارات کے کھنڈرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ شہر پناہ کے ساتھ نسبتاً چھوٹے گھروں کے آثار ملتے ہیں—– شہر کے جنوب مغربی طرف ایک بلند ٹیلہ ہے جس پر کنال سٹوپا ہے اور تاریخی روایات کے مطابق کنال اشوکِ اعظم کا بیٹا تھا—– لوک داستانوں میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے شہزادہ کنال کی داستان میں کافی لبھاؤ اور رچاؤ ہے۔

ہند یونانیوں کے بعد شاکا قبیلے نے یہاں حکمرانی کی اور شہر قائم و دائم رہا پھر جب دوسری صدی عیسوی میں کشان یہاں کے حکمران بنتے ہیں تو وہ سرکپ سے قدرے شمال مشرق میں سِرسُکھ نامی ایک نیا شہر بساتے ہیں تو سرکپ پر ویرانی اتر آتی ہے—– رہی سہی کسر وسطی ایشیاء کے سفید ہُن پوری کر دیتے ہیں جو فطرتاً خانہ بدوش تھے اور وہ پانچویں صدی عسیوی کے وسط میں وسطی ایشیاء سے جنوب کو ہند کی طرف نہ صرف اترتے ہیں بلکہ تباہی بھی ساتھ لاتے ہیں جس کے اثرات سے سرکپ بھی نہ بچ سکا۔

نوٹ: سرکپ کی دریافت اور بنیادی کھدائیوں کے لئے تاریخ سر جان مارشل کی مشکور ہے جنہوں نے بیسویں صدی کی دوسری اور تیسری دہائیاں سرکپ اور گندھارا کی دریافت کرتے گزاریں ان کے کام کو سر مورٹیمر ویلر نے بیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں آگے بڑھایا، جبکہ پاکستان کے دو مایہ ناز آثارِ قدیمہ، پروفیسر احمد حسن دانی اور پروفیسر سیف الرحمان ڈار کا کام گندھارا پر سند کا درجہ رکھتا ہے۔ گندھارا سے رغبت رکھنے والوں کو ان چاروں ماہرین کو تو لازمی پڑھنا ہی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں