ایکپسورٹرز نے ریفنڈز کی فوری ادائیگی کیلئے خودکار سسٹم کے نفاذ کا مطالبہ کردیا

پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے ری فنڈز کی فوری اور بروقت ادائیگی کیلئے موثر اور خودکار ری فنڈسسٹم کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔ خودکار ری فنڈ سسٹم کے نفاذ میں مزید تاخیر ایکسپورٹرز کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بنے گی اور مزید 500ارب روپے سے زائد کا ورکنگ کیپٹل ری فنڈ نظام کی نذر ہو جائے گا۔ یہ بات پی ٹی ای اے کے چیئرمین خرم مختار آج یہاں ایک بیان میں کہی۔


انھوں نے پر ی بجٹ مشاورتی میٹنگز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی معاشی ٹیم کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ایکسپورٹرز کے ری فنڈ کلیمز کی ادائیگی میں غیر ضروری تاخیر کے خاتمے کیلئے بجٹ کے بعد ایک مربوط خودکار ری فنڈ سسٹم نافذ کیا جائے گا جس سے ناصرف ایکسپورٹرز کے مالی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ برآمدی عمل میں بھی تیزی آئے گی۔انھوں نے کہا کہ ری فنڈ کے پیچیدہ نظام کے باعث ایکسپورٹرز کا 200 ارب روپے سے زائد ورکنگ کیپٹل اس نظام کی نذر ہو چکا ہے جسکے باعث سرمائے کی شدید کمی سے پیداواری عمل متاثر ہو رہا ہے ۔ زیر التوا ری فنڈز کی فوری ادائیگی سے ٹیکسٹائل ویلیو چین کی مشکلات میں کمی آئے گی اور صنعتی عمل کو تقویت ملے گی۔انھوں نے موجودہ بجٹ میں انڈسٹریل مینوفیکچچرز کیلئے پلانٹ اور میشنری کی خریداری پرٹیکس کریڈٹ کی شرح میں کمی اور مدت معیاد ۳۰ جون 2019؁ تک محدود کرنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے صنعتی سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ تفصیلات بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فنانس بل 2010 میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے میشنری اور پلانٹ کی خریداری پر 10 فیصد ٹیکس کریڈت کی سہولت دی گئی تھی جس میں بعد ازاں متعدد مرتبہ ترامیم کے ساتھ اس ٹیکس کریڈٹ کا دائرہ کار جون 2021 تک بڑھایا گیا۔ موجودہ بجٹ میں ناصرف ٹیکس کریڈت کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دی گئی بلکہ اسے ۳۰ جون 2019 تک محدود کر دیا گیا ہے۔ صنعتی ترقی کے فروغ کیلئے ٹیکس کریڈٹ کی پرانی شرح اور مدت کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ری فنڈز کی فوری اور بروقت ادائیگی کے خودکار نظام کے نفاذ اور ٹیکس کریڈٹ کی پرانی شرح کی بحالی جیسے اقدامات سے صنعتی سرگرمیاں بڑھیں گی ، آمدات میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

ُ ملکی برآمدات کے فروغ کیلئے لئے گئے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے پی ٹی ای اے کے وائس چیئرمین محمد ادریس نے کہا کہ ان اقدامات سے جہاں ایک طرف ایکسپورٹرز کا اعتماد بحال ہوا ہے وہیں ٹیکسٹائل برآمدات میں بھی بہتری آئی ہے۔برآمدی اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جولائی تا اپریل نٹ وئیر برآمدات کے مقداری حجم میں 15.81 فیصد جبکہ مالی حجم میں 8.76 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح بیڈ وئیر کا مقداری حجم 10.11 فیصد جبکہ مالی حجم 2.40 فیصدبڑھا ہے۔ ریڈی میڈ گارمنٹس کا مقداری حجم 29.21 فیصد اور مالی حجم 3.21 فیصد جبکہ میڈ اپس کا برآمدی حجم 1.15 فیصد بڑھا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہی وقت ہے کہ ٹیکسٹائل ویلیو چین کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ معاشی ترقی کے مطلوبہ اہداف کا حصول ممکن ہو سکے۔انھوں نے کہا کہ برآمدی صنعت ملک کی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اس کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے سدباب کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔انھوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز وزیر اعظم کے معاشی خوشحالی کے وژن کی تکمیل کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں اور اس مقصد کیلئے اگلے دو سال میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کیساتھ 2 لاکھ روزگار کے نئے مواقع اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیلئے سرکرداں ہیں۔انھوں نے حکومت سے ری فنڈز کی بروقت ادائیگی کیلئے موثر اور خودکار سسٹم کے نفاذ کا مطالبہ کیا تاکہ ایکسپورٹرز کو درپیش سرمائے کی کمی جیسے مسائل سے نجات مل سکے اورملک میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں