سماجی کارکن پر تشدد کا معاملہ ، جے آئی ٹی نے خود ساختہ رپورٹ تیار لی ، متاثرہ شخص دربدر

سماجی کارکن پر تشدد کا معاملہ , جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ اور عدالتی رٹ کیلئے تھانہ سول لائن سے بھجوائی جانے والی رپورٹ بغیر تحقیق و گواہان تیار کر لی گئی ، متاثرہ شخص انصاف کے لئے دربدر ، مختلف دفاتر کے چکر لگانے کے بعد جے آئی ٹی نے بیان ریکارڈ کرایا نہ ہی دوسرے فریقین کو طلب کیا ، انصاف کی دھجیاں اڑا دی گئیں –


تفصیل کے مطابق CPO گوجرانوالہ ڈاکٹر معین مسعود نے ایڈیشنل کمشنر ریونیو گوجرانوالہ کنول بتول اور سابق تحصیلدار صدر خواجہ ندیم کی جانب سماجی کارکن انجینئر شہباز ملک کئے گئے تشدد کے واقعہ کے بعد دی گئی درخواست پر جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جو دو ڈی ایس پیز پر مشتمل تھی SP سٹی گوجرانوالہ عبدالقیوم گوندل نے JIT کو ٹاسک دیا کہ فریقین کو طلب کر کے ان کا موقف سنیں ان کے درمیان بالمشافہ گفتگو کروائیں اور بعد تصدیق حالات و واقعات حقائق پر مبنی مفصل رپورٹ پیش کریں مگر JIT کے ارکان بے شمار نوٹسز کے باوجود آج تک ایڈیشنل کمشنر ریونیو کو طلب نہ کر سکے-

اس حوالے سے متاثرہ سماجی کارکن انجینئر شہباز ملک کا کہنا تھا کہ وہ JIT کے پہلے رکن DSP سیٹلائٹ ٹاؤن احسان اللہ کے پاس پیش ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کا معاملہ اب SSP انویسٹیگیشن علی وسیم کے پاس ہے اور جب میں JIT کے دوسرے رکن DSP کھیالی کے دفتر پہنچا تو DSP کھیالی نواز سیال کا کمپیوٹر آپریٹر JIT رپورٹ تیار کر رہا تھا میں ساری رپورٹ پڑھ کر حیران ہو گیا کہ رپورٹ گواہان کو بلائے بغیر اور تحقیق کیئے بغیر ہی تیار کر دی گئی تھی مجھے دیکھ کر DSP کھیالی کا PA ہکا بکا رہ گیا اور اس نے فوراً کمپیوٹر بند کروا دیا اور مجھے کہنے لگا کہ ابھی سب پارٹیوں کو بلائیں گے پھر رپورٹ فائنل ہو گی دوسری طرف عدالتی رٹ کیلئے پولیس سے مانگی گئی رپورٹ تھانہ سول لائن کے انسپکٹر ریاض نے بغیر مدعی کی شکل دیکھے بغیر تحقیق کیئے بغیر گواہان بلائے SSP انویسٹیگیشن کو بھجوا دی جب انسپکٹر ریاض کو میں نے فون کیا تو اس نے کہا کہ اوپر سے جو حکم ملا ہے اس کے مطابق رپورٹ تیار کر دی ہے-

انجینئر شہباز ملک نے انکشاف کیا ہے کہ جب شروع میں اس معاملے بارے RPO طارق عباس کے پاس گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر میری درخواست واپس کر دی کہ ایڈیشنل کمشنر ریونیو کنول بتول ہماری افسر ہے ہم اس کے خلاف کاروائی نہیں کر سکتے اور جب یہ درخواست CPO کی مارکنگ سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو CPO کے سکیورٹی انچارج نے انجینئر شہباز ملک کو سائبر کرائم میں پرچہ درج کرنے کی دھمکی دی ان حالات اور وآقعات کے بعد انتظامیہ کے لوگ انجینئر شہباز ملک کو انصاف کیسے فراہم کریں گے-

انجینئر شہباز ملک نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ اس واقعے کا از خود نوٹس لیا جائے اور میرے اوپر ہونے والے ظلم زیادتی اور ناانصافی کا ازالہ کیا جائے اور ADCR کنول بتول اور تحصیلدار کے خلاف FIR درج کر کے قانونی کارروائی کی جائے چونکہ قانون سب کیلئے برابر ہے اگر اس معاملے میں میں جھوٹا ثابت ہوا تو مجھے پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں