اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس ، کیا اہم فیصلے کئے گئے ؟؟ سب سامنے آ گیا

آج ملک بھر میں اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کا چرچا رہا اور میڈیا سمیت سیاسی حلقے اس بات کے منتظر رہے کہ اس اہم کانفرنس میں کیا فیصلے کئے جائیں گے اب اطلاعات سامنے آ گئی ہیں کہ اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام کے قائد فضل الرحمٰن کی سربراہی میں ہونے والی اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں انتہائی اہم فیصلے ہوگئے جبکہ اے پی سی میں مسلم لیگ ن کے سربراہ شہباز شریف ، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ، مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نوازشریف اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی ، و دیگر رہنمائوں نے بھرپور شرکت کی –

میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے- اسی طرح اجتماعی استعفوں،25جولائی کو یوم سیاہ منانے، چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے اور پنجاب کو احتجاجی تحریک کا محور و مرکز بنانے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔

آل پارٹیز کانفرنس کی جانب سے کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کے لئے گیارہ رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کو شامل کیا گیا ہے جن میں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال،رانا ثنا اللہ،رحمت اللہ کاکڑ، میاں افتخار حسین،شاہ اویس نورانی، فرحت اللہ بابر، یوسف رضا گیلانی، علامہ شفیق پسروری، سینیٹر عثمان خان اور حاصل بزنجو شامل ہوں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے فضل الرحمٰن کی اسمبلیوں سے استعفوں کی تجویز کی حمایت نہیں کی – مسلم لیگ ن اور پی پی قیادت نے اے پی سی میں موقف اختیار کیا کہ اسمبلیوں سے استعفے ملکی مسائل کا حل نہیں ہے جبکہ اے پی سی میں پیپلز پارٹی اورپی ٹی آئی کے سینیٹرز کے ووٹوں سے بننے والے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے جس کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ سینٹ کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوجائیں گے،جس کے بعد اپوزیشن نیا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ لائے گی –

اے پی سی میں کئے جانے والے فیصلوں پر سیاسی حلقوں میں ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں