1992 اور 2019 کے ورلڈ کپ میں حیرت انگیز مماثلت ، سرفراز کا مستقبل کیا ہو گا ؟؟ دلچسپ رپورٹ

پاکستان نے گزشتہ رات ورلڈ کپ کی ناقابل شکست ٹیم نیوزی لینڈ کو چھ وکٹوں سے شکست دیدی جس کے بعد 1992 اور 2019 کے ورلڈ کپ میچز میں بڑی مماثلت کا سلسلہ مزید گہرا ہو گیا اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اپنے اپنے اکائونٹس پر دلچسپ پوسٹیں کی جارہی ہیں جبکہ ایک صارف نے توحد ہی کر دی کہ لگتا ہے کہ سرفراز 2046 میں پاکستان کے وزیراعظم ہونگے –

میڈیا رپورٹس کے مطابق عزیر الطاف نامی ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’جس طرح سے سب کچھ 92 کے ورلڈ کپ کی طرح ہورہا ہے، مجھے لگتا ہے 2046 میں سرفراز ہمارا وزیر اعظم ہوگا۔ اسی طرح اس صورتحال میں اداکار حمزہ علی عباسی بھی پیچھے نہ رہے اور لکھا کہ یہ اب تھوڑا سا عجیب ہورہا ہے، بہرحال پاکستانیوں کو جیت مبارک ہو – ایک اور صارف شیراز احمد نے بھی 1992 اور رواں ہونے والے ورلڈ کپ میچز کا موازنہ کیا اور لکھا ’انشاءاللہ تاریخ خود کو دہرائے گی۔ ورلڈ کپ 1992 کے میچز خود دیکھنے والے

میڈیا رپورٹس کے مطابق حمزہ معظم نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’1992 میں ورلڈ کپ کے چھٹے میچ میں پاکستان 48 رنز سے جیتا تھا اور مین آف دی میچ ’عامر سہیل‘ تھے جبکہ 2019 میں پاکستان نے 49 رنز سے جیت اپنے نام کی اور مین آف دی میچ ’حارث سہیل‘ رہے۔ جبکہ دونوں بیٹسمین کے نام بھی ایک جیسے اور بلے باز بھی بائیں ہاتھ کے ، اس کے علاوہ مزید لکھا ہے کہ 1992 اور 2019 کے کلینڈرز بھی ایک جیسے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مذاق بھی بنتا رہا ہے کہ اور ایک صارف سعد رسول نامی صارف نےاپنےٹوئٹر اکائونٹ پر سرفراز احمد کی ایک کارٹون والی تصویر شیئر کی ہے جس پر لکھا ہے کہ ’کیا حسین اتفاق ہے 1992 میں بھی زرداری جیل میں تھا، یہ ورلڈ کپ تو اپنا ہے۔ اسی طرح کی مزید ٹویٹس بھی آتی رہی جس میں یہ کہا جارہا ہے کہ ورلڈکپ 1992 جیتنے کے اگلے سال حکومت بھی ختم ہو گئی تھی اب بھی ایسا ہی ہوگا ، اس طرح کی باتیں صارفین کی دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہیں –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں