جڑانوالہ میں جعلی کھاد تیار کرنے والی فیکٹری پکڑی گئی ، کتنے لاکھ کی بوریاں برآمد؟؟

فیض فریدی سے ،

جڑانوالہ محکمہ زراعت جعلی کھاد تیار کرنے والے فیکٹریوں کے خلاف ان ایکشن، چند یوم میں دوسری بار کارروائی۔نواحی گاؤں میں جعلی کھاد تیار کرنے والی فیکٹری پر محکمہ زراعت توسیع کا چھاپہ، 22لاکھ روپے مالیت کی جعلی کھاد و مشینری قبضہ میں لے لی،4افراد گرفتار فیکٹری مالک سمیت 4افراد فرار۔ جعلی تیار کرنے والے ہزاروں نہیں بلکہ لوگوں و کسانوں کے استحصال کا باعث بنتے ہیں جو کہ کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہوتے۔ استغاثہ تھانہ میں جمع کروا دیا گیا ہے –


تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر زراعت توسیع فیصل آباد چودھری عبدالحمید کی ہدایت پر ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت خالد محمود،اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع، کنٹرول فرٹیلائزر محمد رفیق نے تھانہ صدر جڑانوالہ میں استغاثہ دائر کرتے ہوئے اس میں موقف اختیار کیا کہ مخبر کی اطلاع پر ستیانہ روڈ جسوآنہ بنگلہ کے ساتھ محمد لطیف ولد محمد اقبال کی فیکٹری میں ریڈ کیا تو وہاں پر سلیم رضا جعلی ڈی اے پی کھاد تیار کر رہا ہے۔ جس کے قبضہ سے2ہزارسے قریب تھیلے جن میں ڈی اے پی جعلی بھری ہوئی تھی، مالیتی 22لاکھ روپے،تھیلوں کا میٹریل جس میں جپسم کھاد، چاک مٹی، کیمیکل، رنگ وغیرہ پڑا ہوا تھا جن کو مکسچر کرکے جعلی کھاد تیار کرنا باقی تھی، مذکورہ بالا الزام علیہان وسیع پیمانے پر جعلی کھاد تیار کرکے کسانوں کو بیچ کر ان کے معاشی قتل کا باعث بن رہے ہیں۔

محکمہ زراعت کے عملہ نے جعلی کھاد تیار کرنے والی فیکٹری کو سیل کرتے ہوئے وہاں پر موجود تمام مال و مشینری قبضہ میں لے کر استغاثہ تھانہ صدر میں جمع کرواد یا۔ڈپٹی ڈائریکٹر خالد محمود، محمد رفیق اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت، محمد پرویز زراعت انسپکٹر، فیلڈ اسسٹنٹ محمد امجد نے کہا کہ جعلی کھاد تیار کرنا ایک گھناؤنا جرم ہے جس سے سینکڑوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کا نقصان ہوتا ہے۔ کسان جو کہ معیشت کو رواں رکھنے میں اپنا فعال کردار ادا کرتا ہے جعلساز اس کو لوٹ کر معیشت کے پہیے کو جام کر رہے ہیں۔ دوران کارروائی پکڑے گئے ملزمان میں غلام شبیر، پرویز،محمد آکاش، ڈار محمد جبکہ فیکٹری مالک محمد سلیم، عبدالطیف اور ان کے دو ساتھی شفاقت علی، زاہد رندھاوا فرار ہونے میں کامیاب۔ یادر رہے کہ مذکورہ فیکٹری کے خلاف چند روز قبل جعلی کھاد تیار کرتے ہوئے کارروائی کی گئی تھی اور متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں