رانا ثناء اللہ کی سیاسی جدوجہد پر ایک نظر……… ( تحریر، زوار حسین کامریڈ )

پنجاب حکومت اور مسلم لیگ نون میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھنے والے رانا ثناء اللہ خاں جنہیں آج اینٹی نارکوٹکس فورس نے گرفتار کر لیا ہے، کے ساتھ زیر نظر تصویر 2007 میں موصوف کے پنجاب اسمبلی کے چیمبر میں روزنامہ “ امن “ کے لیے ان کے انٹرویو کے دوران لی گئی تھی. جس میں رانا صاحب نے مشرف کی خوب دھنائی کی تھی . رانا صاحب کی سیاسی جماعت ، سیاسی طرز عمل و فکر سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ان کی سیاسی جدوجہد نہ صرف لائلپور/فیصل آباد ، پنجاب بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھی جاے گی.

ان کی مزاحمتی سیاست کے دلیرانہ انداز و جدوجہد کو ایم آر ڈی کی ضیاء ہٹاؤ تحریک میں ذاتی طور پر دیکھنے کا موقع ملا تھا جبکہ پی پی پی فیصل آباد میں بھی میرا بطور پارٹی کارکن ان کے ساتھ طویل ساتھ رہا ہے .جس دوران رانا صاحب کی سیاسی ، تنظیمی و قائدانہ صلاحیتوں کو بھی جانا. ان کی سیاسی استقامت وکمٹمنٹ کو دیکھتے ہوے وہ سیاست دان کم اور ایک سیاسی کارکن کے طور پر سیاسی میدان میں چار دہائیوں سے غالب ہیں. عام لوگوں کے ساتھ رہنا اور کارکنوں کے دکھ سکھ میں شامل ہونے کی سیاست انھیں سیاسی منظر پر حد درجہ مقبول رکھے ہوے ہے. مسلم لیگ نون فیصل آباد میں ان کی انٹری گو شریف فیملی کے قریبی عزیز چوہدری شیر علی کی سرپرستی میں ہوئی تھی مگر رانا صاحب نے اپنی طاقتور سیاسی حکمت عملی ، سیاسی ویژن، لیگی کارکنوں سے قربت اور اپنی جماعت اور قیادت سے اٹوٹ وفاداری کی بنا پر فیصل آباد میں لیگی سیاست کے ستون چوہدری شیرعلی کی سیاست کو محدود کرنے میں کامیاب رہے .

برقی میڈیا نے موصوف کی بولڈ و دبنگ طرز سیاست و گفتگو کی بنا پر وہ نون لیگ کے سب سے زیادہ ریٹنگ لینے والے سیاسی رہنما ہیں . عوام ، پارلیمنٹ اور میڈیا میں حاصل ہونے والی مقبولیت ، سیاسی میدان میں ہر محاز پر کامیابی کی بنا پر رانا صاحب سیاسی طور ہر پل انڑ جیٹک رہتے ہیں. رانا صاحب نے ستر کی دہائی میں سیاسی کارکنوں کو تخلیق کرنے والی نرسری پیپلز پارٹی سے سیاسی تربیت حاصل کی تھی جو ابھی تک ان کے سیاسی عمل میں بدرجہ اتم موجود ہے . پاکستان کو آج تمام سیاسی جماعتوں میں ایسی سیاسی نرسریوں کی شدید ضرورت ہے جو بالغ نظر، کمٹڈ اور بہادر سیاسی کارکنوں کو جنم دے سکیں .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں