سیلز ٹیکس کا نفاذ ، ٹیکسٹائل یونٹس کی بندش جاری ، جمعرات سے سائزنگ فیکٹریاں بھی بند ہونگی

میکم جولائی سے وفاقی بجٹ میں منظور کئے گئے 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کئے جانے پر فیصل آباد سمیت دیگر 4 بڑے اضلاع میں ایک ہزار کے قریب ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز بند ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں مزدور بیروزگار جبکہ معیشت کا پہیہ جام ہو کررہ گیا ہے اور ملز کی بندش کو آج دوسرا روز ہے اور اس وقت تک حکومتی عہدیداروں کی جانب سے کسی تنظیم یا عہدیدار سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے –

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیکسٹائل پروسیسنگ یونٹس کی جانب سے کہا گیا کہ اگر حکومت نے ان کے جائز مطالبات ماننے سے مسلسل روگرانی کی تو اگلے 10 روز میں اپنے حتمی فیصلے سے آگاہ کریں گے – اس حوالے سے آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حبیب گجر کا کہنا تھا کہ کراچی، فیصل آباد، لاہور اور گجرانوالہ کے تمام ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز بند ہو چکی ہیں جن میں فیصل آباد کی 240 جبکہ کراچی کی 225 سے زائد ملز شامل ہیں -اسی طرح آل پاکستان ٹیکسٹائل سائزنگ ایسوسی ایشن نے بھی فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور حافظ آباد میں جمعرات سے 100 سائزنگ فیکٹریز بند کرنے کا اعلان کردیا ہے – اور اس حوالے سے سائزنگ ایسوسی ایشن کے پیٹرن شکیل انصاری کا کہنا تھا کہ ایک کا اہم مسئلہ یہ ہے کہ تمام صنعتی شعبے تاحال رجسٹراڈ نہیں ہوسکے اس لیے حکومت کو پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ضرورت ہے اسی طرح تجارتی شعبے شناختی کارڈ کی بنیاد پر ہم سے خریداری کے لیے آمادہ نہیں ہیں جس کی وجہ سے فیکٹریاں بند کرنے پر مجبور ہیں –

اپٹپما چیئرمین حبیب گجر نے حکومت سے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اہم فیصلوں میں ساتھ شامل کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’ہم حکومت کے ساتھ ہیں لیکن وہ صنعتی شبعوں میں بدنظمی پیدا کررہی ہے – چیف شیکل انصاری نے فیصل آباد میں صحافیوں کوبتایا کہ ایس آر او 1125 کے تحت ٹیکس استثنیٰ کی حامل پانچ صنعتی شعبوں پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا اور ایس آر او منسوخ کردیا ہے – ڈالر کی قدر میں اضافے سے صنعتی شعبے بری طرح متاثرہوئے کیونکہ ہمیں ٹیکسٹائل کیمیکلز اور آلات درآمد کرنے پڑتے ہیں اور گیس اور بجلی کی قیمتوں کا تعلق بھی ڈالر سے کردیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاور لوم مالکان پر مشتمل ایسوسی ایشن کی کونسل وحید خالق رامے نے تجویز دی کہ حکومت تمام تجارتی شعبوں کے لیے سیلز ٹیکس مختص کردے – ہم دھاگے کی خریداری پر سیلز ٹیکس دے رہے ہیں لیکن خریدار ایف بی آر سے رجسٹراڈ نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں