صحافیوں کو خود بھی اپنا محاسبہ کرنا ہو گا


تحریر، افضال احمد تتلا
[email protected]

جھوٹ بولو اور سچ چھپاؤ جھوٹ بولنے کےلئے ہوتا ہے اور سچ چھپانے کےلئے مگر آپ جو بھی جھوٹ بولو اس کا سچ آپ کے پاس ہونا چاہیے یہ الفاظ میں نے امن کالمسٹ فورم کے حوالے منعقد ایک تقریب میں سنئیر اور معروف صحافی رفعت سروش فیصل کی زبان سے سنے اور سچ یہ ہے جب سے سنے ہیں ان الفاظ کو میرے دماغ کا معدہ ہضم نہیں کر پارہا۔دماغ کا بھی معدہ ہوتا ہے یہ اصطلاح بھی انہی کی زبانی مجھے معلوم ہوئی ہے۔ ان نئی باتوں کے علاوہ میں نے اُس اجلاس سے کیا سیکھا اور اس اجلاس میں کیا کیا کاروائی ہوئی اور کس طرح مجھ جیسے نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کی گئی اور ہم نئے ,لاوارث لکھاریوں کو باقاعدہ ایک نام ) شناختی کارڈز کے اجراء اور باقاعدہ امن کالمسٹ فورم کا حصہ بنانے کا اعلان کرکے (دینے کے لیے کس فراخ دلی کا مظاہرہ کیا گیا اس پر بات کرنے سے پہلے میں رفعت سروش فیصل صاحب کا تعارف قارئین کو کروانا ضروری سمجھتا ہوں۔


مانچسٹر آف پاکستان فیصل آباد کو ماضی میں جب انگریزوں نے ساندل بار کے نام سے ایک نیا شہر آباد کرنے کی منصوبہ بندی کی تو 1890ء میں اس غیر آباد علاقہ کو آباد کرنے کے لئے جو پلاننگ کمیشن یہاں بھیجا گیا اس میں اکثریت گورے اراکین کی تھی شاید اس لیے متعدد تاریخ دان یہ سمجھتے ہیں کہ ساندل بار کی آباد کاری میں جو کچھ بھی کیا یہ سب انگریزوں کی مرہون منت ہے تو یہ غلط کیونکہ اس کمیشن میں کمال الدین خان صاحب جیسے مقامی لوگ بھی شامل تھے کمال الدین خان صاحب مال آفیسر کی حیثیت سے اس کمیشن کا حصہ بنے تھے اور ساندل بار کی مربع بندی, جمع بندی, کلّہ بندی سمیت نہری اور کھالہ بندی نظام بنانے میں کمال الدین خان صاحب (جن کا تعلق گرداس پور سے تھا) کے زرخیز دماغ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے یہ پلاننگ کمیشن کئی برسوں تک اپنے کام میں مشغول رہا۔کمال الدین خان صاحب قیام پاکستان سے7 سال قبل وفات پاگئے جبکہ پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد ان کا خاندان اسی ساندل بار یعنی اس وقت کے لائل پور کے چک نمبر 279 میں آکر آباد ہوا ان کے بیٹوں میں حاجی محمد افضل جو کہ زرعی پیشہ سے منسلک تھے کے بیٹے چوہدری امیر اللہ جنہوں نے ایک کنسٹریکشن کمپنی کے حوالے سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا تھا مگر ترقی پسند سوچ کے مالک ہونے اور ذوالفقار علی بھٹو کا کچلے ہوئے طبقات کے حق بولنے کی وجہ سے چوہدری امیر اللہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ابتدائی کارکنوں میں شامل ہوگے-

جب قیادت نے چوہدری امیر اللہ کو ڈسٹرکٹ فیصل آباد میں پارٹی بنانے کی ذمہ داری سونپی تو انہوں رانا سخاوت علی خان کو ضلعی اور رانا شمیم احمد خاں کو سٹی صدر نامزد کیا جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کا ڈسٹرکٹ فیصل آباد میں پہلا جھنڈا چوہدری امیر علی کی حویلی پر نصب کیا گیا اور پی پی پی کا یہ فیصل آباد میں پہلا جھنڈا لہرانے والا شخص چوہدری امیر اللہ کا بیٹا رفعت سروش فیصل ہی تھا۔ مگر حیران کن بات یہ ہے کہ رفعت سروش فیصل نے سیاست کی بجائے صحافت کا راستہ چنا جو 1972ء میں کہانی ڈائجسٹ سے شروع ہوا تھا اور روزنامہ امن کی صورت میں آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے نوائے سروش , امریکی یلغار ( یہ کتاب انہوں نے سابقہ صدر پاکستان پرویز مشرف کے صحافتی وفد میں شامل ہوکر امریکہ کے دورے کے بعد لکھی تھی), پتلی تماشہ , اللہ اکبر , اصل ٹارگٹ , وردی سے شیروانی تک, لاہور سے اجمیر تک , جنرل کلچر , جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے اور جنرل نالج کے نام سے 10 کتابیں بھی لکھی ہوئی ہیں۔ اتنی کتابوں کے مصنف اور انٹرنیشنل وژن کے کسی صحافی کے ساتھ گفتگو کرنا میری زندگی کا پہلا تجربہ تھا شاید اسی لئے جب امن کالمسٹ فورم کے اجلاس میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دینے والے ایک سینئر نے میرا نام پکار کر ڈائس پر آکر خیالات کے اظہار کی دعوت دی تو میں کنفیوز ہوگیا تھا اور الفاظ کی روانی برقرار نہ رکھ سکا جو حاضرین محفل نے واضح محسوس بھی کی خیر میں نے جیسے ہی ڈائس چھوڑا رفعت سروش فیصل صاحب نے فوراً کہا کہ ہم اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ کر بات کرتے ہیں کیونکہ یہاں پر تقرری مقابلہ نہیں ہورہا اور نہ ہی ہم یہاں تقرریں کرنے آئے ہیں ہم تو یہاں گفتگو کرنے آئے ہیں, گفتگو بیٹھ کر ہوتی ہے اور گفتگو ہی اظہار خیالات کا بہترین ذریعہ ہے ان کے یہ الفاظ میری ڈھارس بندھا گئے اور میرا خیال ہے انہوں نے الفاظ بولے بھی مجھ جونئیر کی حوصلہ افزائی کےلئے تھے۔ یوں امن کالمسٹ فورم کے دوستانہ ماحول میں سنئیرز کالم نگاروں اور مجھ جیسے طالب علموں میں باہمی مگر علمی گفتگو کا آغاز ہوا جس سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور ہمیں بتایا گیا کہ کالم نگاری کے لئے ماضی , حال اور مستقبل پر گہری نظر رکھنی چاہیے تب ہی آپ کی تحریر میں جان پیدا ہوگی اسی طرح کتب بینی کی اہمیت پر زور دیا گیا اور بتایا گیا کہ کالم تو کسی بھی خبر کو توڑ مروڑ کر لکھا جاسکتا ہے مگر جاندار کالم نگار وہی ہوتا ہے جو کتابیں پڑھتا ہے۔ عصر حاضر کی تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ پڑھنے والوں سے لکھنے والوں کی اکثریت دکھائی دیتی ہے یہ الگ بحث ہے کہ ایسے لکھنے والوں کے الفاظ قارئین پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ صحافیوں کی جوانیاں عوام کی آواز بلند کرتے کرتے سفید پوشی میں گزر جاتی ہیں اس کے بدلے میں ایک صحافی معاشرے سے صرف عزت کا مطلوب ہوتاہے یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ کالی بھیڑیں صحافت جیسے مقدس پیشے میں بھی گھس آئی ہیں اس لئے میں کہوں گا صحافیوں کو بھی اپنا محاسبہ کرنا ہو گا-

۔کسی بھی پیشے کا تقدس،پیشے سے وابستہ لوگوں کے ہاتھ ہوتا ہے۔ اچھے برے ہر جگہ ہوتے ہیں۔کہتے ہیں زندگی میں قسم،قدم اور قلم بہت سوچ سمجھ کر اُٹھانےچاہیئے، میرا ماننا ہے کہ قلم، لفظ، کتابیں ہتھیاروں سے ذیادہ پُر اثر ہوتی ہیں اس لئےہمیں سوچنا ہو گا کہ کیا ہم قلم کے تقدس کو پامال تو نہیں کر رہے؟
کیا ہمارا قلم لوگوں کی عزتیں اور پگڑیاں تو نہیں اچھال رہا؟
کیا ہمارا قلم بلیک میلنگ کے لئے تو استعمال نہیں ہو رہا؟
کیا ہمارا قلم بے حیائی وعریانی کو تو فروغ نہیں دے رہا؟
کیا ہمارا قلم جھوٹ منافقت کی پرچار تو نہیں کر رہا؟
کیا ہمارا قلم صرف محکموں کی خامیاں بیان کرنے کی آڑ میں ملک کے محکموں کو کھوکھلا تو نہیں کر رہا؟
کیا ہمارا قلم محکموں ،سیاسی شخصیات اور عوام کی اچھائیوں پر پردہ ڈال کر صرف برائیاں ہی تو بیان نہیں کر رہا؟
کیا ہمارا قلم معاشرے میں سدھار لانے کے بجائے معاشرے میں بگاڑ کا سبب تو نہیں بن رہا؟
کیا ہمارا قلم صرف طاقت ور کے لئے ہی چلتا یے یا کمزور مظلوموں کی آواز بھی بنتا یے؟
ہمیں سوچنا ہو گا صرف دوسروں پر تنقید ہی نہیں ہمیں اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنا ہو گا ریٹنگ، خودنمائی اور تکبر ہمیں لے نہ ڈوبے اور یہ سب سوچنے اور اپنا محاسبہ کرنے کے لیے ضروری ہےکہ رفعت سروش فیصل جیسے اہل قلم کے ساتھ بٹھک ہوتی رہیں اور میں اپنے اس کالم کے ذریعے ان سے التماس بھی کرو گا کہ امن کالمسٹ فورم کے زیر اہتمام ہم نئے لکھاریوں کی تربیت کے لیے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا جائے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے۔۔
ہم پرورش لوح قلم کرتے رہیں گے
جو دلوں پر گذرتی ہے وہ رقم کرتے رہیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں