جی سی یونیورسٹی، وائس چانسلر نے خود کو 2 کمیٹیوں میں نامزد کروا لیا، اکیڈمک کونسل کی تنقید

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد حکام ان دنوں خود اور اپنوں کو نوازنے کے لئے عجیب فیصلے کررہے ہیں اور پنجاب کی کہاوت “انا ونڈے شیرنیا موڑ کھوڑ اپنایا نوں ” کے مصداق قائم مقام وائس چانسلر نے الحاق کمیٹی کی چیئرمین شپ اور فنانس کمیٹی کی ممبر شپ کے لئے خود ہی اپنی نامزدگی کر لی جس کی منظوری بھی حاصل کر لی گئی – اکیڈمک کونسل کے اراکین وائس چانسلر کے جانبدارانہ روئیے اور اپنوں کو نوازنے پر اجلاس میں پھٹ پڑے –

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی اکیڈمک کونسل کا 19 واں اجلاس منعقد ہوا جو انتظامیہ کی جانبداری کی وجہ سے ہنگامہ خیز بن گیا ، اجلاس کے دوران کئے گئے فیصلوں کے مطابق موجودہ وائس چانسلر نے الحاق کمیٹی کی چیئرمین شپ اور فنانس کمیٹی کی ممبر شپ کے لئے خود کو نامزد کر لیا اور باضابطہ طورپر اس کی منظوری بھی حاصل کر لی جس کے بعد اجلاس میں دیگر اراکین جن میں شہزاد علی شاہد چٹھہ ، رائے مظہر حیات اور ڈاکٹر ہمایوں عباس کی جانب سے شدید تنقید کی گئی –

یونیورسٹی ذرائع کے مطابق قوانین کے تحت اجلاس کے لئے ایجنڈا مقررہ تاریخ سے 7 روز قبل تمام ممبران کو فراہم کرنا لازمی ہوتا ہے لیکن اراکین کو ایجنڈے کی کاپیاں یکم جولائی کو فراہم کی گئی جس کی وجہ سے اراکین کو مختلف ایجنڈا آئیٹم پر تیاری کرنے کا موقع نہیں مل سکا اور اس کی وجہ سے انہوں نے کئی ایجنڈا آئیٹم کی منظوری کی مخالفت کی جس میں شعبہ تاریخ اور شعبہ مطالعہ پاکستان کو الگ الگ کرنے کی منظور دینا تھا وہ بھی ممکن نہ ہو سکی اسی طرح شعبہ انوائرمنٹل سائنسز کو فزیکل سائنسز میں ضم کرانے کی کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی اور یونیورسٹی انتظامیہ ان دونوں ایجنڈا آئیٹمز کی منظوری کروانے میں ناکام رہی –

ذرائع کے مطابق اکیڈمک کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کے پس پشت بھی یہ وجوہات سامنے آئی ہیں کہ نئے وائس چانسلر کی تقرری بالکل قریب ہے اس لئے موجودہ قائم مقام وائس چانسلر نے اپنے مفادات کے حصول کے لئے اجلاس بلایا اور اس میں دو کمیٹیوں میں خود کو ہی نامزد کروا لیا اور اسی طرح دیگر معاملات جن میں مختلف شعبوں کو ضم کرنا یا الگ کرنے کی منظوری حاصل کرنا تھا تاکہ نئے آنے والے وائس چانسلر شائد یہ نامزدگیاں انہیں نہ دیں – اس صورتحال میں اجلاس کے دوران ڈاکٹر ہمایوں عباس کے بارے میں بھی انکوائری ان سے جونئیر کروانے پر سخت تنقید کی گئی اسی طرح ڈاکٹر عاصم محمود اورڈاکٹر محمد ابراہیم کی بطور سنڈیکیٹ ممبر نامزدگی کے لئے اکیڈمک کونسل کو استعمال کیا گیا جس پر بھی اراکین نے شدید اعتراض کیا –

واضح رہے کہ جی سی یونیورسٹی کے مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی کے لئے 3 ناموں کو حتمی شکل دے کر باضابطہ منظوری کے لئے وزیراعلی پنجاب کو بھجوایا جا چکا ہے جس کے بعد موجودہ قائم مقام وائس چانسلرڈاکٹر ناصرامین نے اپنے مفادات کے لئے ہنگامی اجلاس طلب کرکے اپنے من پسند فیصلوں کی منظوری کروانے کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا –

اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اکیڈمک کونسل میں فیصلوں کی منطوری مشاورت سے دی جاتی ہے اگر کونسل کے اراکین متفق نہیں ہونگے تو اس ایجنڈا آئیٹم کی منظوری نہیں ہو گی ، اس میں کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں