” سلیکٹڈ ” جی سی یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ میں پہنچ گیا ، اراکین اسمبلی کی ہنگامی آرائی

وزیراعظم کے لئے سلیکٹڈ کا لفظ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے سنڈیکیٹ اجلاس میں بھی پہنچ گیا جس کے بعد سنڈیکیٹ اجلاس بھی قومی اسمبلی کی طرح مچھلی منڈی بن گیا ، پی ٹی آئی کے اراکین صوبائی اسمبلی مشتعل ہو گئے اور انہوں نے ہنگامہ کھڑا دیا اور وائس چانسلر پر شدید تنقید کی ، سنڈیکیٹ میں قائم مقام وائس چانسلر کے خلاف انکوائری آفیسر تبدیل کرنے کی کوشش بھی ناکام بھی دی گئی –

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے سنڈیکیٹ کا 54 ویں اجلاس کے دوران ایک رکن عمران شریف نے ایک موقع پر وزیراعظم عمران خان کو سلیکٹڈ کہہ ڈالا جس پر سنڈیکیٹ کے ممبرز پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی شکیل شاہد ، میاں وارث عزیز اور فردوس رائے نے شدید رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اجلاس میں ہنگامہ کھڑا کردیا اور اپنی سیٹوں سے اٹھ کر عمران شریف کو برابھلا کہنا شروع کردیا جبکہ بعد میں عمران شریف نے معذرت کر لی جس پر معاملہ ختم کروا دیا گیا -بعد میں تینوں اراکین سنڈیکیٹ اور پنجاب اسمبلی نے یونیورسٹی کے معاملات پر شدید تنقید کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر کی کرپشن کو منظر عام پر لانے کا اعلان کیا جبکہ اس موقع پروائس چانسلر کی جانب سے 16 کروڑ روپے کے ہائی ٹیک لیپ کے انکوائری آفیسر کو تبدیل کرنے کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنا دیا گیا – واضح رہے کہ قائم مقام وائس چانسلر ، سابق ڈین انجینئرنگ فرحت عباس اور سابق چیئرمین کیمسٹری معطل شدہ افتخار حسین بخاری پر کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام تھاجس کے خلاف انکوائری ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے انکوائری کی اور انہیں قصوروار بھی قرار دیا گیا اب اس کیس کی دوبارہ انکوائری کروانے کی کوشش کی گئی لیکن سنڈیکیٹ ممبران نے اس کی منظوری نہیں دی بلکہ اس ایجنڈا آئیٹم کو ڈیفر کردیا –

میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس کے دوران متعدد اراکین سنڈیکیٹ نے متعدد ایجنڈا آئیٹم کو مک مکا کان ما دے کر اس پر بحث کرنے سے انکار کردیا انہیں پینڈنگ کردیا اور واضح کیا کہ مستقل وائس چانسلر ایک ہفتے میں تعینات کر دئیے جائیں گے اور وہی ان ایجنڈا آئیٹمز کو پیش کریں گے جس پر دوبارہ بحث کی جا سکے گی اسی طرح ان دو اساتذہ کے ناموں کی منظوری بھی نہیں دی گئی جن کو گزشتہ روز ہونے والے اکیڈمک کونسل کےک اجلاس میں الحق کمیٹی کی طرف سے ممبر شپ کے لئے نامزد کیا گیا تھا – اس کے ساتھ ساتھ سنڈیکیٹ نے شعبہ ابلاغیات کی ہیڈآف ڈیپارٹمنٹ سلمی عنبر کے کیس بارے فیصلہ کیا کہ اس شعبہ کا چارج دوبارہ ڈاکٹر عاصم محمود کو دیدیا جائے ، اسی طرح ایجنڈے میں شامل سابق ڈین پروفیسر ڈاکٹر ہمایوں عباس اور سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر نعیم محسن کے کیس ڈیفر کر دئیے گئے -اسی طرح اجلاس کے دوران 90کروڑ روپے سے زائد کی ترقیاتی سکیمیں اور یونیورسٹی کا ساڑھے چار ارب روپے کا بجٹ منظور کرلیا گیا-

اس حوالے سے رکن پنجاب اسمبلی اور سنڈیکیٹ کے ممبرشکیل شاہد کا کہنا تھا کہ قائم مقام وائس چانسلر نے اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے کے لئے اجلاس کو فکس کر رکھا تھا اور اپنے منظور نظر اراکین کے ساتھ مل کر 16 کروڑ روپے کی کرپشن کو ختم کروانے کے لئے اپنی مرضی کے فیصلے لینے کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنا دیاگیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں