بجٹ تحفظات دور کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل ،تاجروں کی ہڑتال بھی ختم ، شرائط کیا طے ہوئیں؟؟

ٖفیصل آباد (ویب ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین شبر زیدی نے حالیہ بجٹ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے خدشات کو دور کرنے کیلئے تمام شعبوں کے نمائندہ افراد پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ سپریم کونسل آف انجمن تاجراں کے سربراہ اسلم بھلی نیشناختی کارڈ واپس لینے کی شرط پر ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شبر زیدی نے کہا کہ حکومت تاجر اور صنعتکار برادری کے مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے اور اُن کی ہر جائز اور قابل عمل تجویز پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک برآمدی تاجروں کا تعلق ہے اُن کے ری فنڈ کی ادائیگی کیلئے اُن کی مشاورت سے متحرک اور فعال طریقہ کار واضع کیا جائے گا اور اس سلسلہ میں وہ بھی اسلام آباد میں اُن سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ انہوں نے برآمدی تاجروں کی زیادہ تر تجاویز کو من وعن تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ آپ اسلام آباد آجائیں تاکہ ان مسائل کا قابل عمل حل تلاش کیا جا سکے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئندہ سے برآمدی تاجروں کے ری فنڈ کلیم مؤخر نہیں کئے جائیں گے جبکہ 20جون سے ری فنڈ کیلئے 38ارب کے پر میسری نوٹ جاری کر دئیے گئے ہیں۔ یہ وافر مقدار میں موجود ہیں اور برآمدی تاجر اپنی مرضی کے مطابق ری فنڈ کے سلسلہ میں یہ پر میسری نوٹ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بزنس کمیونٹی کے مفادات کے تحفظ کیلئے اہم فیصلے کئے ہیں جب سے انہوں نے چیئرمین کا چارج سنبھالا ہے کسی تاجر کا اکاؤنٹ اٹیچ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی ایکٹو ٹیکس پیئر کو نان ایکٹو کیا گیا۔ کسٹم کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس وقت 40فیصد سامان گرین چینل کے ذریعے آرہا ہے جسے 60فیصد تک لے جانے کی تجویز ہے۔ انہوں نے لیکویڈیٹی مسائل کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ اس سلسلہ میں وہ از خود فیصلہ نہیں کر سکتے ۔ تاہم انہوں نے برآمد کنندگان سے کہا کہ وہ اسلام آباد آجائیں تاکہ اس مسئلہ پر مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سے بات کی جا سکے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ موجود ہ حکومت نے نئے ٹیکس لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صرف سابقہ ٹیکسوں کی شفاف وصولی کو یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہے۔ ایمنسٹی سکیم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ اس سکیم کے آخری روز ایف بی آر کے سسٹم میں خرابی کی وجہ سے فائدہ نہیں اٹھا سکے وہ اداشدہ رقم نہ نکلوائیں ہم آج یا کل تک اس مسئلے کو حل کرلیں گے۔

شبر زیدی نے کہا کہ 2015ء تک ٹیکسٹائل کی پوری چین رجسٹرڈ تھی جسے اب دوبارہ رجسٹر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم جہاں جائز مسائل ہوں گے وہاں صنعتکاروں کو ضروری سہولت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ اپنی صنعتیں چلائیں شناختی کارڈ والے مسئلے کو وقتی طور پر مؤخر کیا جا سکتا ہے ۔ سونے اور پراپرٹی کیلئے گھروں پر چھاپوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایسا حکم سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری ہوا اور اس کا ایف بی آر سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں بات کر لی ہے اور توقع ہے کہ ایس ای سی پی بھی بہت جلد اس حکم کو واپس لے لے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تاجروں اور صنعتکاروں کو ہراساں کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے اور اگر کسی شخص نے ایسا کیا تو وہ افسر ایف بی آر میں نہیں رہے گا۔چھوٹے ٹریڈرز کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت اُن کیلئے فکس ٹیکس کا نظام لا رہی ہے کیونکہ ہمار ا مقصد معیشت کو دستاویزی شکل دینا ہے۔ صوبائی وزیر صنعت میاں اسلم اقبال نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کے 3لاکھ 41ہزار صنعتی کنکشن ہیں جن میں سے 19ہزار سیل ٹیکس میں رجسٹر ہیں۔ اور ان میں سے بھی صرف 16ہزار سیل ٹیکس دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صنعتوں کو بجلی کی مد میں 200ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے جن سے یہ بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صرف لوکل سیل والوں سے ٹیکس مانگ رہی ہے جبکہ برآمد کنندگان کو اداشدہ مکمل سیلز ٹیکس ری فنڈ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال حکومت چاہتی ہے کہ صنعتوں کی پیداوار کے صرف بڑے ہول سیل ڈیلر رجسٹر ہوں جبکہ سب ڈیلروں اور ریٹیلرز کیلئے رجسٹریشن ضروری نہیں۔

اس سے قبل خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر سید ضیاء علمدار حسین نے بتایا کہ 17فیصد سیل ٹیکس بہت زیادہ ہے جسے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تمام شعبے رجسٹر ڈ ہو جائیں تو پھر سیل ٹیکس کی شرح کو بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ انہوں نے فیصل آباد چیمبر کا تعارف کرایا اور بتایا کہ حالیہ بجٹ سے پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے کئی صنعتی اور کاروباری شعبے بند ہیں جن کو چلانے کیلئے لوگوں کے خدشات کو دور کرنا ضروری ہے۔ اس طویل اجلاس کے دوران ڈاکٹر خرم طارق، انجینئر احتشام جاوید، نوید گلزار، عبدالحق ، جواد اصغر، وحید خالق رامے، اسلم بھلی، حبیب احمد گجر، شاہد ممتاز باجوہ، راؤ سکندر اعظم اور تنویر ریاض نے اپنے اپنے شعبوں کے مسائل بیان کئے جبکہ آخر میں صدر سید ضیاء علمدار حسین نے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی اعزازی شیلڈ پیش کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اجمل چیمہ، چوہدری ظہیر الدین، ایم این اے فرخ حبیب ، لطیف نذر، شکیل شاہد ، فردوس رائے خیال کاسترو ، سینئر نائب صدر میاں تنویر احمد، میاں آفتاب احمد، کاشف ضیاء اور میاں جاوید اقبال بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں