عوام کو ایک اور جھٹکا ، آئندہ ماہ سے بجلی کے نرخوں میں کتنے روپے فی یونٹ اضافہ ہو گا ؟؟

پاکستان کے عوام ان دنوں مہنگائی کے چکر میں بری طرح پھنس چکے ہیں لیکن یہ چکر ختم ہونے کو نہیں ہے اب آئی ایم ایف سے مزید واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کو آئندہ ماہ بجلی کے نرخوں میں مزید اڑھائی روپے فی یونٹ بڑھانا لازمی ہے ج کی خبر آتے ہیں صنعت کاروں ، تاجروں اور عوام نے اپنے شدید تحفظات کااظہار کر دیا ہے – واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ پاکستان کو اپنی معیشت کی بہتری کے لئے پچیس ارب ڈالرز کی ضرورت ہے جس کے لئے بجلی کےنرخوں میں اضافہ ناگزیر ہے-

پاکستان کی معیشت پر آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کےستائیس نکات پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا اسی طرح پارلیمنٹ کو بھی یہ بتایا گیا کہ بجٹ میں 516 ارب روپے کے ٹیکس لگائے گئےجو حقیقتاً 733 ارب 50 کروڑ روپے کے تھے، پاکستان کوستمبرتک 1 ہزار ارب روپے ٹیکس جمع کرنا ہوگا -اس کے ساتھ ساتھ مئی سے کرنسی کی شرح تبادلہ مارکیٹ طے کر رہی ہے جسے اسٹیٹ بینک ماننے کو تیار نہیں، آئی ایم ایف کا پیکیج مکمل ہونے تک پاکستان کوئی ایمنسٹی اسکیم نہیں لاسکے گا۔

عالمی مالیاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو بجلی کےفی یونٹ نرخ میں ڈھائی روپے بڑھانا ہوں گے، نیا ٹیرف اگست 2019 میں جاری کیا جائے گا، جبکہ 2020 کے لیے بجلی کا نیا ٹیرف ستمبر 2019 میں جاری کرنا ہوگا – اسٹیٹ بینک اور نیپرا خود مختاری کا بل دسمبر 2019 میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، پاکستان گیس سیکٹر کے واجبات کی وصولی یقینی بنائے گا، اور وصولی کا پلان ستمبر 2019 میں پیش کرناہوگا۔گردشی قرضے کے خاتمے کا پروگرام اوراوگرا کی خود مختاری کا ترمیمی بل بھی منظوری کےلئےپارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا – ریئل اسٹیٹ سیکٹر اور زرعی آمدن پر ٹیکس لگانےاورپراپرٹی کی قیمتیں مارکیٹ ویلیو کے قریب لانے کی یقین دہانی کرائی، پاکستان نے سگریٹ، چینی اور سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی، درآمدی گیس اور لگژری اشیاء پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا – 2020 میں قرضوں کی شرح بلحاظ جی ڈی پی 80 اعشاریہ 5 فیصد تک پہنچ جائے گی، پاکستان نے ٹیکسز کی شرح میں جی ڈی پی کا 4 سے 5 فیصد بڑھانے پر اتفاق کیا –

آئی ایم ایف کی رپورٹ سامنے آنے اور نئے نرخوں اور ٹیکسز کی شرح بڑھانے پر صنعت کاروں ، تاجربرادری اور عوام نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ نئے نرخوں اور ٹیکسز کی شرح سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا اور عام آدمی کے لئے جینا محال جبکہ تاجروں کے لئے کاروبار کرنا ممکن نہیں ہو گا –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں