مریم نواز کی 19 جولائی کو نیب عدالت طلبی ، گرفتار کر لیا جائے گا ؟؟؟ کس نے کہہ دیا

نیب عدالت نے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو 19 جولائی کو طلب کررکھا ہے جبکہ اس حوالے سے قانونی امور کے ماہرین اپنی آرا کا اظہار کررہے ہیں بعض نے کہا کہ کہ مریم نواز کو ضمانت کروانے کے بعد عدالت میں پیش ہونا چاہئے اگر بغیر ضمانت پیش ہوئیں تو انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے –

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر قانون راجا عامر عباس نے واضح کیا کہ مریم نواز اگر ضمانت کروائے بغیر احتساب عدالت میں پیش ہوجاتی ہیں تو پھر ان کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ کیلبری فونٹ پر چئیرمین نیب سے پوچھنا چاہئیے کہ انہوں نے اس حوالے سے درخواست کیوں نہیں دی۔ یا نیب کو چاہئیے تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا پارٹ اے پر تو فیصلہ ہو گیا تھا اب پارٹ بی پر کام کرنا ہے۔جہاں تک سزا کی بات ہے تو اس میں 7 سال سے لے کر 10 سال تک جب کہ آرٹیکل 461 کے تحت تاحیات قید کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر مریم نواز عدالت جاتی ہیں تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس لیے مریم نواز کو پہلے سے ضمانت کا بندوبست کرنا پڑے گا لیکن وہ بھی اتنا آسان کام نہیں ہے۔ اس لیے اگر مریم نواز عدالت جاتی ہیں اور ان پر چارج لگ جاتا ہے تو اسی وقت انہیں حراست میں لے لیا جائے گا۔

واضح رہے ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے معاملے پر مریم نواز کو نوٹس جاری کرد یا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے 19 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے معاملے پر عدالت طلب کیا تھا۔ نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی پیش کردہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ثابت ہوئی اس لئے انہیں 19 جولائی کو طلبی کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے اب 19 جولائی کو کیا ہو گا کچھ پتہ نہیں لیکن اس حوالے سے قانونی ماہرین مختلف آرا رکھتے ہیں –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں