جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو ، تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست کس نے دی؟؟

نیب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو جو مسلم لیگ ن کی قیادت کی جانب سے جاری کی گئی ہے اس کے فرانزک آڈٹ سمیت دیگر معاملات کی انکوائری کے حوالے سے مختلف مطالبات سامنے آرہے ہیں پہلے حکومتی عہدیداروں کی جانب سے کہا گیا کہ اس کا آڈٹ کروایا جائے گا بعد میں کہا کہ یہ عدلیہ کا معاملہ ہے وہ اس کو ہینڈل کرے تاہم اب ایک وکیل کی جانب سے اس مبینہ ویڈیو کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی ہے اور یہ آئینی درخواست اشتیاق احمد مرزا نے ایڈووکیٹ چوہدری منیر صادق کے توسط سے سپریم کورٹ رجسٹری میں جمع کروائی گئی ہے-

میڈیا رپورٹس کے مطابق درخواست میں وفاقی حکومت، مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، نائب صدر مریم نواز، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ ظفر الحق کو فریق بنایا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ ویڈیو کے مرکزی کردار ناصر بٹ اور پاکستان الیکٹرنک میڈیا ریگولیٹری (پیمرا) کو بھی فریق بنایا گیا ہے جمع کروائی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے سامنے لائی گئی اس ویڈیو سے عدلیہ کی آزادی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، تاہم ہر صورت اس معاملے کی انکوائری کروائے ، اسی طرح یہ بھی کہا گیا کہ ویڈیو کی تحقیقات سے عدلیہ کے وقار، عزت اور آزادی پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب مل جائے گا۔

جمع کروائی گئی درخواست میں اپنائے گئے موقف کے مطابق مریم صفدر اور دیگر لیگی رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی جس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک اور ناصر بٹ کے درمیان ہونے والی بات چیت کی ویڈیو ریکارڈنگ دکھائی گئی۔ – اور اس ویڈیو سے یہ تاثر گیا ہے کہ عدلیہ آزادی سے کام نہیں کرتی اور یہ بلیک میل ہوجاتی ہے – پریس کانفرنس کا ریکارڈ پیمرا سے طلب کیا جائے اور کیونکہ جو الزامات عدلیہ پر لگے ہیں ان کی انکوائری ہونا ضروری ہے – اسی طرح جج ارشد ملک کی پریس ریلیز کا حوالہ دے کر درخواست میں کہا گیا کہ معزز جج اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کر چکے ہیں جبکہ انہوں نے اس ویڈیو کو مفروضوں پر مبنی قرار دیا ہے۔

درخواست گذار کے مطابق جج ارشد ملک کی پریس ریلیز میں رشوت کی پیشکش کرنے کی جو بات کی گئی وہ سنجیدہ نوعیت کی ہیں اس لئے سپریم کورٹ سے استدعا کی جاتی ہے کہ وہ اس ویڈیو کی تحقیقات کرنے کا حکم دے جبکہ وفاقی حکومت کو عدلیہ کی آزادای کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی جائے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں