سابق وزیراعلی پنجاب شہبازشریف کا مبینہ طورپر نیا مالی سکینڈل اب برطانیہ میں؟؟

پاکستان میں وفاق ، پنجاب اور سندھ کے سابق حکمرانوں کی کرپشن کے کیسز کھلے ہوئے ہیں اور سابق حکومتی بڑے عہدیدار عدالتوں میں اپنی پیشیاں بھگت رہے ہیں اور اس کو احتساب نہیں انتقام کا نام دیا جارہا ہے لیکن اب سابق وزیراعلی پنجاب شہبازشریف کا مبینہ طورپر نیا مالی سکینڈل سامنے آیا ہے جو برطانوی اخبار ڈیلی میل نے شائع کیا ہے جس میں دعی کیا گیا ہےکہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خاندان نے زلزلہ متاثرین ملنے والی برطانوی امداد میں چوری کی اور برطانیہ کی غیر ملکی امداد میں پوسٹر بوائے کے طور پر استعمال ہونے والے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خاندان نے زلزلہ متاثرین کے لیے دی جانے والی امداد میں سے چوری کی اسی طرح ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو دی گئی امداد میں شہباز دور میں برطانوی امدادی ادارے نے لگ بھگ 50 کروڑ پاؤنڈ پنجاب کو دیئے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تحقیقاتی ذرائع سے واضح کیا گیا ہے کہ ایک جانب عالمی ترقیاتی منصوبوں کے لیے امداد دینے والا برطانوی محکمہ DFID سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر امدادی رقم کی بارش کرتا رہا تو دوسری جانب ان کا خاندان عوامی فنڈ کے ملین پاونڈز منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کرتے رہے۔برطانوی اخبار کی رپورٹ میں تحقیقاتی ذرائع کے مطابق یہ بھی واضح کیا کہ انہیں یقین ہے کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کی جانیوالی رقم میں DFID سے لی گئی امداد کا حصہ شامل ہے۔

اس حوالے سے سابق وزیراعلی پنجاب اور موجودہ قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کی اس رپورٹ کو وزیراعظم عمران خان کی سرپرستی میں سیاسی انتقام قراردیا اور کہا کہ اپنے اور اپنے خاندان پر لگائے جانے والے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور واضح کیا کہ اخبار ڈیلی میل کے پاس الزامات کو ثابت کرنے کے لئے کوئی شواہد موجود نہیں ہے اور یہ صرف مفروضوں پر قائم بے بنیاد خبر ہے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں