فیڈرل بورڈ آف ریونیو ، 3800 ارب روپے جمع کروانےوالے محکمہ کے اپنے مسائل


تحریر ، چوہدری امجد لطیف
ترجمان ایف بی آر فیصل آباد ٹیکس آفس

فیڈرل بورڈ آف ریونیو پاکستان کا ایک ایسا کلیدی ادارہ ہے جس نے پاکستان کو سال 2018 میں 3800 ارب روپے سے زیادہ ریونیو جمع کر کے دیا۔ یہ پیسہ جو صرف اس ایک ادارے نے جمع کر حکومت کو دیا، اس سے ملکی ترقی، سیکورٹی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں عوام کو سہولیات فراہم کی۔گئیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو جن نامسائد حالات کا سامنا ہے ان حالات پر کسی حکومت کی نظر آج تک کیوں نہیں پڑی؟ حکومت اس پیسے اکٹھے کرنے والے ادارے کے ساتھ سوتیلے کا سلوک کیوں کرتی ہے؟ 3800 ارب روپے میں نے کتنا پیسہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے خود خرچ کیا؟ اس سوال کا جواب ہے 1 فیصد بھی نہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اپنے دفاتر ملک کے ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر میں ہی موجود نہیں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اہلکاروں کو پولیس و دیگر صوبائی اداروں کی مدد حاصل کرنے کےلئے ذاتی طور پر درخواستیں کرنی پڑتی ہیں۔ اس ادارے نے جو کام افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اخراجات کو پورا کرنے کےلئے کیا ہے، کیا کبھی اس کام کی بابت اس ادارے کے ملازمین کو کوئی خاص سہولت فراہم کی گئی؟ کیا واپڈا یا سوئی گیس یا ٹیلیفون کے محکمے کی طرح اس ادارے کے ملازمین کا ٹیکس معاف ہے؟ کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ملازمین کا استقبال کرتے ہیں کہ یہ ہیں وہ قوم کے سپوت جو ہمارے لئے ایک ایک پیسہ جمع کرتے ہیں۔ کیا عدالتیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مسائل کو سامنے رکھ کر فیصلے دیتی ہیں؟ کیا فوجی ہسپتالوں میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ملازمین کو افواجِ پاکستان والی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں؟ جبکہ ان تمام ہسپتالوں کے اخراجات کےلئے پیسے یہ ہی ادارہ جمع کرتا ہے۔ کیا کسی حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ملازمین کےلئے کبھی کوئی ہاؤسنگ سکیم بنانے کا سوچا؟

کسی کو معلوم نہیں کہ ان 3800 ارب میں سے 1100 ارب افواجِ پاکستان کو دیئے جاتے ہیں، مگر تنقید صرف فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر کی جاتی ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو پاکستان کی سیکورٹی اور ترقی کےلئے کسی بھی ادارے سے زیادہ کام کرتا ہے۔ اس ادارے کے ملازمین کے مسائل کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ اور آج بھی تنقید کا محور یہ ہی ادارہ ہے۔ اس ادارے کے ملازمین کی صلاحیتوں میں نکھار لانے کےلئے اور عصرِ حاضر سے ہم آہنگ کرنے کےلئے کسی حکومت نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں پھر بھی یہ ادارہ تمام حکومتی اداروں سے آگے ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی تمام وصولیاں ایک کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت ہوتی ہیں، اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا اپنا ڈیٹا سنٹر موجود ہے جس میں پچھلے 15 سال کا تمام ڈیٹا موجود ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو آج تک دوسرے ملکی اداروں کی جانب سے ڈیٹا حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ نادرا سے شناختی کارڈ اور خاندان کا ڈیٹا، فیڈرل انوسٹی گیشن ایجینسی ایمیگریشن کا ڈیٹا، حتی کہ پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں سے فیسوں کا ڈیٹا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا ادارہ پاکستان ریونیو آٹومیشن بھی ان ہی نامسائد حالات کا مسلسل شکار ہے۔ کسی بھی ادارے کا سب سے اہم رکن اس کے ملازمین ہوتے ہیں، اور ملازمین کی استعداد کار میں اضافے کےلئے ادارے اپنے ملازمین کو مختلف جدید کورسز کرواتے ہیں، جب ادارہ ٹیکنالوجی سے متعلق ہو تو جدید کورسز کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے، مگر پرال کے ملازمین کو کسی بھی قسم کے جدید کورسز کی کوئی بھی سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔ پرال کے ملازمین پھر بھی اس قومی جدوجہد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔

حکومتِ وقت اگر واقعی تبدیلی کی خواہش رکھتی ہے اور بالخصوص فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے کام میں بہتری چاہتی ہے تو اس مسائل کی طرف توجہ دے اور ادارے کے ملازمین و افسران کے مسائل کو جنگی بنیادوں پر حل کرے۔ ایسی قانون سازی کرے جس سے ادارے کو مضبوط کیا جا سکے۔ ایک ایسا بیانیہ جاری کرے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو پاکستان کی خدمت میں سب سے آگے ہیں۔ پاکستان کی سیکورٹی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے کردار کو اجاگر کرے۔ ملازمین و افسران کی جدید تکنیکی تربیت کے کورسز کا اجراء باقاعدگی سے کیا جائے، فوجی ہسپتالوں کے کارڈ تمام ملازمین کو جاری کیے جائیں۔ اس کے بعد اگر یہ ادارہ مطلوبہ نتائج نا دے سکے تو ضرور اس ادارے کی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں