لارڈز کا تاریخی گرائونڈ ، وزیٹرز ڈریسنگ روم کی اہمیت کیا ہے؟ نیوزی لینڈ کو ایڈوانٹیج

205 سال تاریخی لارڈز کرکٹ گرائونڈ کے وزیٹرز ڈریسنگ روم کی کیا اہمیت ہے اس سے ہر کوئی واقف نہیں لیکن یہ بات آپ کو بتا رہے ہیں کہ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ 5 ویں مرتبہ کرکٹ ورلڈکپ کا فائنل کھیلا جارہا ہے اور اس بات کی اہمیت سے پتہ چلتا ہے کہ آج سے پہلے کھیلے جانے والے فائنل مقابلوں میں 4 مرتبہ وہی ٹیم فائنل جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے جو وزٹرز ڈریسنگ روم میں بیٹھی تھی لیکن انگلینڈ پہلی مرتبہ لارڈز میں فائنل کھیل رہا ہے اس طرح انگلینڈ ہوم ٹیم کے ڈریسنگ روم جبکہ نیوزی لینڈ کی ٹیم وزیٹرز ڈریسنگ روم میں براجمان ہو گی جس کے بعد لکی وزیٹرز ڈریسنگ روم کی اہمیت مزید بڑھ گئی-

2019 میں کھیلوں کے مقابلوں میں سب سے بڑا ٹاکرا آج کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں میزبان انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے مابین ہو گا جس کے شروع ہونے میں صرف ڈیڑھ گھنٹہ باقی رہ گیا ہے – اور یہ معرکہ تمام تر رعنائیاں سمیٹے ہوئے ہو گا کیونکہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ایونٹ کی طاقتور ترین ٹیموں بھارت اور آسٹریلیا کو سیمی فائنل میں شکست دے کر ٹورنامنٹ سے آؤٹ کیا – بیٹنگ کے شعبے کی بات کی جائے تو بلا شبہ انگلینڈ کی ٹیم کا پلڑا بھاری ہے جبکہ باؤلنگ کے شعبے میں نیوزی لینڈ نے تمام ٹیموں کو پیچھے چھوڑ دیا – اسی طرح میزبان ٹیم کو اپنے سب سے زیادہ رنز اسکور کرنے والے جو روٹ، میچ وونگ اوپننگ جوڑی جیسن رائے اور جونی بیئرسٹو کے ساتھ ممکنہ طور پر مین آف دی ٹورنامنٹ بین اسٹوکس، ہارڈ ہٹننگ بیٹسمین جوز بٹلر اور کپتان آئن مورگن جیسے خطرناک کھلاڑیوں کی خدمات حاصل ہوں گی ، اس کے ساتھی اگر کیوزیز کی بیٹنگ لائن دیکھیں تو پھر مرد بحران اور مسٹر ڈیپینڈایبل کپتان کین ولیمسن کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے – اگر چہ کیویز کی اوپننگ جوڑی ورلڈکپ میں فلاپ رہی ہے تاہم اسے ابھی بھی مارٹن گپٹل کی بیٹنگ سے امیدیں ہیں جبکہ آل راؤنڈرز بھی اچھی کارکردگی دکھانے میں مصروف ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر دونوں ٹیموں کی باؤلنگ کے موازنہ کیا جائے تو اس شعبے میں نیوزی لینڈ کو انگلینڈ پر برتری حاصل ہے، جہاں میزبان ٹیم کا مکمل انحصار نوجوان فاسٹ باؤلر جوفرا آرچر اور کرس ووکس پر ہے وہیں کیوز کے لوکی فرگیسن، ٹرینٹ بولٹ اور اسپنر مچل سینٹر مستقل مزاجی کے ساتھ وکٹیں لینے میں مصروف ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تاریخ کی بات کی جائے تو دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف متوازن دکھائی دیتی ہیں، تاہم حالیہ کارکردگی پر نگاہ دوڑائی جائے تو انگلینڈ کی ٹیم بہتر کھیل پیش کر رہی ہے اوررواں ورلڈ کپ سیزن کے پہلے مرحلے کے میچ میں بھی انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو یکطرفہ مقابلے میں شکست سے دوچار کیا تھا –

رپورٹس کے مطابق آج سے قبل عالمی کرکٹ مقابلوں میں دونوں ٹیمیں 9 مرتبہ آمنے سامنے آچکی ہیں جن میں 5 مرتبہ نیوزی لینڈ جبکہ 4 مرتبہ انگلینڈ کی ٹیم کامیاب رہی۔ اسی طرح 205 سال تاریخی لارڈز کے گرائونڈ میں ون ڈے فارمیٹ کے 2 میچز میں کیویز ٹیم ہی میزبان ٹیم کے خلالف فاتح رہی۔

دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ فائنل میں مدمقابل ہیں جبکہ نیوزی لینڈ 2015 میں بھی فائنل کھیل چکا ہے تاہم انگلینڈ کرکٹ ٹیم 27 سال بعد ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچی ہے تاہم یہ واضح ہے کہ آج جو بھی ٹیم جیتے گی وہ پہلی مرتبہ کرکٹ کی دنیا پر حکمرانی کریگی-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں