والیم دو نمبری


تحریر، مطیع اللہ جان

اپوزیشن جماعت ن لیگ کو والیم دس نمبری سے ڈرانے والے جے آئی ٹی اور اعلی عدلیہ کے غیر تراشیدہ ہیروں کو ازخود ہی ایک والیم دو نمبری کا سامنا ہے- جج ارشد ملک کی غیر حلفیہ ویڈیو نے ان ہیروں کی اصلیت اور انکے جوہریوں کی دو نمبری اور متعصب ماضی سے پردہ اٹھا دیا ہے- سیاست بھی کوئلے کی ایک کان ہے اور کوئلے کی دلالی میں منہ تو کالا ہوتا ہی ہے- کوئلے کی کان ہی ملکیت میں آ جائے تو ہر قسم کے ہیرے بھی دریافت ہونے کا امکان رہتا ہے- پانامہ کی کان کے وہ ہیرے اتنے عرصے میں ایسے تراشے جا چکے ہیں کہ اب حاکم وقت (حکم چلانے والا) کی انگھوٹی کا نگینہ ہی بن کر رہ گئے ہیں- ان ہیروں نے لوہے کو کاٹنے کی ناکام کوشش کی ہے-

عدالت عظمی میں پانامہ کیس کی سماعت کے دوران پانچ معزز ججز صاحبان پر مشتمل بنچ والیم دس نمبری کا جس طرح دبے الفاظ اور دبی مسکراہٹ سے ذکر کرتاتھا اس پر خواجہ حارث ایڈوکیٹ بھی جھینپ جاتے تھے- مگر اب جج ارشد ملک کی جواب آں غزل ویڈیو بھی بظاہر کسی والیم دو نمبری سے کم نہیں ہو گی- خاص کر ویڈیو کا وہ دوسرا حصہ جسے ن لیگ نے والیم دس نمبری کی طرح ابھی تک مخفی رکھاہے اور جس میں مبینہ طور پر اعلی عدلیہ کی کسی شخصیت کا نام بھی لیا جا رہاُہے- اب اس والیم دو نمبری کو مارکیٹ میں آنے سے روکنے کے لئیے پانامہ کی پرانی فلم کے کردار ہی پردہ سکرین پر جلوہ گر ہو رہے ہیں- معاملہ جج ارشد سے بہت اوپر کے لیول کا ہے- پانامہ کیس میں نواز شریف کو نا اہل قرار دے کر جیل بھیجنے والے ٹرائل کورٹ کی جج ارشد ملک کی ہی نہیں بلکہ اعلی ترین عدالت کے معزز ترین ججوں اور انتہائی قابل احترام خفیہ اداروں کی عزت بھی داؤ پر لگی ہے جنھوں نے پانامہ سکینڈل کو لے کر نواز شریف اور اسکی جماعت کا سیاسی جنازہ نکالنے کی بھرپور کوشش کی تھی- گذشتہ الیکشن سے پہلے پانامہ بنچ کے معزز ججوں نے عدالتی سوالات اور جے آئی ٹی کے ذریعے پردہ سکرین اور اخبارات میں وہ تہلکہ مچایا کے اللہ کی پناہ- رہی سہی کثر ثاقب نثار نامی چیف جسٹس نے ہسپتالوں کے دوروں اور ڈیم فنڈ اور دوسرے معاملات پر بیانات دے کر نکال دی-

ن لیگ کے اس عدالتی قتل کے بعد لاش ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری بھی چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے سر تا پا کے بیچ ناتواں کاندھوں پر آن پڑی- احتساب عدالت میں نیب کا ادارہ بطور مدعی پیش ہوتا ہے- احتساب عدالت کا جج یقیناً منصف کہلاتا ہے- نیب چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی بطور مدعی اور جج ارشد ملک کی بطور منصف ہوس زدہ ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد فیض احمد فیض کی طرح اس وطن کی گلیوں پر نثار ہونے کا دل کرتا ہے- فرماتے ہیں

بہت ہے ظلم کے دست بہانہ جو کےلئیے
جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں

مگر ن لیگ کی بوری بند اس سیاسی لاش کو الیکشن کی گنتی ذریعے بھی ٹھکانے نہیں لگایا جا سکا- جج ارشد ملک کی ویڈیو نے جنازے میں جان ڈال دی ہے- فارورڈ بلاک کو ریورس گئیر لگ گیا ہے- مگر جنازے کو کندھا دینے والے اور مولوی صاحب ن لیگ کو قبر میں اتارنے پر بضد ہیں- اسی لئیے جج ارشد ملک کی ویڈیو سے متعلق کیس کی سماعت پانامہ والے منصفوں کے علاوہ کسی اور کے سامنے لگانا خطرے سے خالی نہ تھا- سپریم کورٹ کے تشکیل کردہ تین رکنی بنچ پر اکثریت میں وہ دو معزز منصفین ہیں جنھوں نے نواز شریف اور ن لیگ کو اٹالین مافیا گاڈ فادر اور سیسیلین مافیا سے تشبیح دی تھی- معزز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تو بغیر ٹرائل کے ہی وزیر اعظم نواز شریف گاڈ فادر سے تشبیح دے کر عہدے سے فارغ کر دیا تھا- وہ تو اللہ پوچھے ان فاضل دوستوں کو جنھوں نے سوچا کہ باقاعدہ گرفتاری ڈالنے سے پہلے ملزم کی جے آئی ٹی کے ہاتھوں ذرا سیاسی لتر پریڈ بھی کر لیں-

اب مسئلہ یہ ہے کہ کسی نے گاڈ فادر کو جان دینی ہے تو کسی نے سیسیلین مافیا کو- ارشد ملک کی ویڈیو متعلق سپریم کورٹ کی سماعت میں جو ہونے جا رہا ہے اس کے لئیے وزیر قانون فروغ نسیم نے ہمراہ مشیر خاص شھزادہ اکبر کے پریس کانفرنس میں فضا ہموار کر دی ہے- نجانے یہ کونسی اور کہاں کی ملاقاتوں میں طے ہوا ہے مگر لگتا ہے کہ مریم نواز کی پریس کانفرنس میں جاری کردہ ویڈیو میں جج ارشد کے اعتراف گناہ بعد از نظارہ ویڈیو گناہ کبیرہ پر جج کے اس حلفیہ بیان کو فوقیت دی جائیگی جس میں جج صاحب نے پکڑے جانے کے بعد کا سچ بولا ہے- اس حلفیہ بیان سے پہلے تردیدی بیان بھی میڈیا کو جاری ہوا- یہ ویسے ہی تھا جیسے امریکہ میں ایک لڑکے نے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ دوسرے بندے کو دیکھا تو اس پر پل پڑا- گرل فرینڈ نے بھی دو ہاتھ جڑتے ہوئے الزام لگادیا کہ مجھے اکیلا دیکھ کر یہ ناجائز فائدہ اٹھا رہا تھا- شروع میں مار کھانے والا لڑکا سنبھلا تو کراٹے کے وار سے بوائے فرینڈ کو چت کر دیا- اس پر لڑکی نے بھی حلفیہ بیان دیتے ہوئے گرے ہوئے بوائے فرینڈ کو لات جڑ دی اور بولی یہ فضول بوائے فرینڈ ہے خود میں ٹائم نہیں دیتا اور دوسروں کو بھی منع کرتا ہے- دلچسپ بات یہ ہوئی کہ کراٹے کا ماہر یہ بول کو چل دیا کہ میرا کام تو ہو گیا اب یہ معاملہ تمہارے اور تمہارے بوائے فرینڈ کے بیچ ہے-

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ معاملہ کہاں تک جائے گا- نواز شریف رہا ہو گئے تو ن لیگ کے لئیے سب ویسے ہی ٹھیک ہو جائیگا جیسے طیارہ ہائی جیکنگ میں سزا ختم ہونے پر ہو گیا تھا- نواز شریف کا ۱۲ اکتوبر کی آئین سے بغاوت کا بیانیہ بیان تک محدود ہو گیا تھا- اسی طرح سپریم کورٹ میں درخواست بھی جج یا کسی بڑی سازش کے خلاف نہیں اسکو بے نقاب کرنے والوں کے خلاف کاروائی کے کیلئیے ہے- ہو سکتا ہے سپریم کورٹ خون کے چھینٹے اپنے دامن تک پہنچنے سے روکنے کیلئیے مریم نواز (یا کسی بھی شخص) کی تحویل میں ویڈیو کے دوسرے حصے کے اجرا پر پابندی کا حکم جاری کر دے- مگر دوسری ویڈیو کے اجرا سے پہلے ہی چھینٹے تو پڑ چکے-سپریم کورٹ میں طویل میڈیا ٹرائل کے بعد جب احتساب عدالت میں پانامہ ٹرائل شروع ہوا تو اس ٹرائل کی نگرانی انتہائی قابل احترام جسٹس اعجاز الاحسن کو سونپی گئی- نگران جج کی تعیناتی پر بہت شور اٹھا مگر نگرانی جاری رہی- اب اتنی کڑی نگرانی کے دوران جج ارشد کے ساتھ وہ سب کچھ کیسے ہو گیا جو اس نے پہلے ناصر بٹ کو گھر بلا کر بتایا، پھر میڈیا کو دفتر بلا کر بتایا اور پھر قائم مقام چیف جسٹس کو ملاقات میں اور حلفیہ بیان میں بتایا؟ جج ارشد نے اگر نہیں بتایا تو سپریم کورٹ کے نگران جج جسٹس اعجاز الاحسن کو آج تک اور خاص کر اسوقت نہیں بتایا جب بقول انکے انکو بلیک میل کیا جا رہا تھا- اور تو اور انہوں نے اپنے گھر والوں کو بھی کچھ نہیں بتایا (ملتان والی ویڈیو کا قصہ سیسنسر کر کے باقی بتا دیتے)- ناصر بٹ کو ویڈیو میں بولا تھا کہ ایسی ویڈیو دیکھ کر بندہ خود کشی کر لے- مگر اب شاید اعلی حکام نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا ہے ترقی دینے کا وعدہ کر کے-

اچھی بات یہ ہے کہ نگران جج ویڈیو کیس کی سماعت کرنے والے بنچ میں نہیں- مگر پانامہ بنچ والے دو معزز جج جو رائے اور ریمارکس پانامہ کیس میں سر عام دے چکے ہیں اس کا پاس رکھنا بھی “عظمی” اور اسکے “وقار” کے لئیے ضروری ہے- ذرا سوچیئے اگر جج ارشد کے بریک فیل ٹرالے کو یہاں پر ہی نہ روکا گیا تو یہ نگران چوک سے کراس کر کے بشیر منزل کے اندر گھس کر آبپارہ اور بنی گالہ میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتا ہے- “دو سال کی محنت ضائع ہو جائیگی” اور وہ جو نیشنل ڈائیلاگ کے لیکچر جھاڑے گئے، ماڈل کورٹس کی فوٹو شوٹ کی گئی، ۲۰۲۳ میں منصوبے کے مطابق مزکورہ نگران کی مدت چیف جسٹسی میں توسیع، سب کچھ خاک میں مل جائیگا- اس لئیے بات اب حلفیہ بیان کی ہوگی جسکا متن بڑی اہم ملاقاتوں میں طے ہوا ہے- ناصر بٹ والی ویڈیو کو تب اہمیت ملے گی جب ناصر بٹ کٹہرے میں آنے کو تیار ہو گا- مبینہ طور پر قتل کے مقدمات میں ملوث ناصر اب اتنا بھی بٹ نہیں- اور ملتان والی ویڈیو جسے دیکھ کر جج ارشد خودکشی کرنے لگے تھے اسکے اصل ڈائریکٹروں اور پروڈیوسروں کا تو اگلے ستتر سال بھی نہ پتہ چلے گا-

جج ارشد کا حلفیہ بیان پڑھ کر یاد آ گیا اڈیالہ جیل سے رہائی پانے کے فورا بعد گیٹ سے ہی “لاپتہ” اور پھر عرصے بعد فوج کی تحویل سے برآمد ہونے والے ان گیارہ افراد کا ایک کیس بھی- اس میں جنرل مشرف حکومت کے باریش ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ارشاد نے چیف جسٹس افتخار چودھری کو بتایا کہ یہ افراد قبائلی علاقوں میں فوج پر مختلف دھشت گرد حملوں کے دوران گرفتار اور فوجی عدالتوں میں زیر ٹرائل ہیں- گیارہ میں سے چار “بیماری” کے باعث جیل میں ہی دم توڑ گئے باقی کا اب کوئی پتہ بھی نہیں کرتا۔اس باریش ڈپٹی اٹارنی جنرل کے اپنے بیٹے نے بھی افغان جہاد میں جام شھادت نوش فرمائی تھی- اس عجیب تحریری بیان کو افتخار چودھری نے بھی تسلیم کرنے میں غنیمت جانی-

جج ارشد ملک کا بھی کچھ ایسا ہی سکرپٹ ہے حلفیہ بیان کا جس کو تسلیم کرنے میں سب کی بہتری ہے- وگرنہ اس ملک میں جج ارشد رومانٹک فلموں کا واحد ہیرو نہیں ہو گا ۔ عمران خان نے بھی جج ارشد کو لیکر اسکے حلفیہ بیان کو بنیاد بنا کر بیان بازی کرنا شروع کی ہے- اپنے بیانات میں “مافیا” کا لفظ استعمال کر کے وہ بلواسطہ طور پر ججوں کو “بڑے سکرپٹ” کی یاد دہانی کرا رہے ہیں- سپریم کورٹ میں جو بھی ہو پانامہ سکینڈل کو لے کر جو کچھ ہماری عوام، سیاست، عدالت، صحافت اور انتخابات کے ساتھ ہمارے نگرانوں اور نگہبانوں اپنے حلفیہ بیانوں (حلف) کے باوجود کیا ہے اسکے مقابلے میں جج ارشد ملک تو ایک فرشتہ لگتاہے- سولہ جولائی کو ایک اور جائے وقوعہ دھو دیا جائے گا- جب ادارے استعمال ہوتے ہیں تو انہیں دوسروں کی گندگی بھی صاف کرنا پڑتی ہے- مجرم سفاک ہو اور منصف بزدل تو ٹھوس شواہد بھی اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتے- ایسے میں عدالتی کاروائی بھی کاغذی کاروائی کی مانند درد کا علاج ہوتی ہے بیماری کا نہیں-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں