شیطان کے یا انسان کے؟


تحریر ، افضال احمد تتلا
[email protected]

رمضان گزر گیا اور پورے ماہ صیام میں شیطان کو زنجیروں میں جکڑ کر رکھا گیا تھا تو پھر رمضان میں اشیاء خوردونوش کی ذخیرہ اندوزی,کھجوروں کی اچھی کوالٹی میں بُڑی کو مکس کرکے مہنگے داموں فروخت کرنا,کھجوروں کو مضر صحت آئل لگا کر چمکانا,پھلوں کو خطرناک سپرے کرکے ان کے رنگ نکھارنا, تربوز اور خربوز میں بذریعہ سرنج کیمکل ڈال کر ان کا ذائقہ تبدیل کرنا, مشروبات کے ساتھ ہیر پھیر کرنا, سبزیوں کے خود ساختہ نرخ مقرر کرنا,دودھ میں سے کریم نکلوا کر اس کو پھر سے گاڑھا کرنے کے لیے مختلف قسم کے خطرناک پاؤڈر ڈالنا, خطرناک کیمکلز سے دہی بنانا اور پھر اس دہی کی لسی کو چاٹی کی لسی کہہ کر بیچنا,گندم کی بجائے سوکھی روٹیوں کو پیس کر آٹا بنانا,سرخ مرچوں میں لکڑی کا بھوڑا مکس کرنا,استعمال شدہ چائے کی پتی کو سکھا کر اس کو دوبارہ فروخت کرنا,ذائد المیعاد ادویات کے لیبل تبدیل کرکے ان کو بیچتے رہنا,مریض کے لواحقین سے بلاوجہ خون کی بوتل لے کر بعدازاں اس کو فروخت کردینا,عید کمانے کے چکر میں دوران زچگی نارمل ڈلیوری کو بھی آپریشن میں تبدیل کرکے ورثاء سے بھاری رقم بٹورنا,سحری کے وقت پراٹھوں کے ساتھ کھائے جانے والے اچار میں سرسوں کے آئل کی بجائے سرکہ ڈالنا,فربہ جانوروں کی بجائے لاغر جانوروں کو ذبح کرکے ان کا گوشت مہنگے داموں فروخت کرنا,گائے یا بھینس کا ایک دن کا بچہ اس غرض سے خریدنا کہ اس نومولود کا گوشت سوپ میں استعمال کیا جائے گا,چینی کی ذخیرہ اندوزی کرکے اس کے من مانے پیسے وصول کرنا,عید کمانے کے چکر میں دکانداروں کی طرف کہ جانے والی تجاوزات,عید سیل کا ڈھونگ رچا کر گھٹیا چیزوں کو بیچ دینا,مارکیٹنگ کے بہانے خریداری کی غرض سے آنے والی خواتین پر آوازیں کسنا اور ساتھی دکانداروں کو آنکھوں کے مخصوص اشارے سے خواتین کے بارے میں بریف کرنا,ناجائز منافع کمانا اور پھر شام کو دوکان پر کام کرنے والے کم عمر لڑکوں کو مزدوری دینے کی بجائے “مندے” کا رونا روتے ہوئے اجرت کم دینا,عید کا سیزن ختم ہوتے ہی ان “چھوٹوں” کو نکمہ ہڈ حرام اور کام چور کہہ کر نوکری سے فارغ کرتے وقت یہ بھی نہ سوچنا کہ اب ان کے گھروں کا چولہا کیسے چلے گا,روزے کی آر میں ہر وہ کام کرتے جانا جس سے ذاتی فائدہ حاصل ہورہا ہوں روزے کا بہانہ بنا کر دوران ڈیوٹی کام نہ کرنا,دفتر مقررہ وقت کی بجائے تاخیر سے آنا اور جلدی چھوٹی کرجانا,روزے سے ہوں کہہ کر ہر کسی کو جلی کٹی باتیں کرنا,اعتکاف میں بیٹھتے وقت مسجد میں خود کے لیے پنکھے کے نیچے جگہ تلاش کرنے کی غرض سے ساتھی اعتکافیوں کے ساتھ دھکم پیل کرنا,دوران اعتکاف علمی روعب جھاڑنے کی نیت سے لاحاصل گفتگو کرتے ہوئے مسجد کے مقدس ماحول میں خلل پیدا کرنا, افطاری میں جلدی پہنچنے کی کوشش میں سڑک پر بے ہنگم ٹریفک کا سبب بنے رہنا,افطار ٹائم اچھی کھجور اپنی طرف اور ذرا ماری کھجور باقی روزہ داروں کیلئے، آم کی گودے سے بڑی پھاڑ پے اپنا قبضہ اور خالی گھٹلی ساتھی کیلئے، مشروب کا گلاس ایک ہی سانس میں چڑھاتے ہوئے جگ کی دستی کو دوسرے گلاس کی غرض سے تھامے رکھنا،دودھ سوڈے کے جگ میں سے ہاتھ کی انگلیوں سے برف نکال کر اپنے گلاس میں ڈالنے کے بعد ان انگلیوں کو منہ میں ڈال کر چوسنا اور اس عمل سے پیدا ہونے والی آوازوں کو ساتھ بٹھے لوگوں کی پرواہ کیے بغیر انجوائے کرنا,پیپسی کا گلاس بھڑنے کے بعد باقی ماندہ بوتل کو ٹیبل کے نیچے چھپا لینا،پلاو کی ٹرے سے ذیادہ بوٹیاں اور کم چاول اپنی پلیٹ میں ڈالنے کی کوشش میں چمچ پوری ٹرے میں ہل کی طرح چلاتے ہوئے باقی چاولوں کو ٹھنڈا کر دینا,گوشت کی ہڈی سے گودہ نکالنے کی غرض سے ہڈی کو زور زور سے پلیٹ پر مارنا اور ناکامی کی صورت میں ہڈی کو منہ کے ساتھ لگا کر اس میں پھونکے مارنا اس عمل کے دوران ٹیبل مینرز کو یکسر نظر انداز کیے رکھنا,کھانے سے فارغ ہو کر ہاتھ دھونے کی بجائے ان کو روٹی کے ٹکڑے کے ساتھ رگڑ کر صاف کرنا,کھانے بعد اونچی آواز میں ڈکاریں مار کر ٹیبل پر بٹھے ہوئے دیگر روز داروں کی افطاری کو چار چاند لگانا، توند کا توازن برقرار رکھنے کیلئے وہی بٹھے بٹھے آزار بند کو ڈھلا کرنا،دانتوں میں پھنسا ہوا گوشت کا ذرا نکال کر اس کو پھر سے کھاتے ہوئے انجوائے کرنا اور پھر کھانے کی میز پر ہی سگریٹ سلگا کر دھواں کے مرغولے چھوڑتے ہوئے نماز کا وقت باتوں میں مگن ہو کر ہوا میں اڑا دینا کس کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ شیطان کے یا انسان کے؟؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں