جی سی یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اختیارات سے متجاوز ، بغیر منظوری تعمیراتی کام شروع

قدیر سکندر سے ،

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے مبینہ طورپر بغیر ورک آرڈر کے منظور نظر ٹھیکیدار کو نیو کیمپس میں کروڑوں روپے کے منصوبے پر کام شروع کروا دیا ہے ، اور اس حوالے سے کیمپس کنسٹرکشن کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا نہ ہی اس کی منظوری حاصل کی گئی ہے جس کے باعث کروڑوں روپے کے منصوبوں پر سوالیہ نشان لگ گیا –

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے جھنگ روڈ پر قائم نیو کیمپس میں اکیڈمک حصے اور رہائشی کالونی کو الگ کرنے کے لئے چاردیواری کرنے ، لائٹس کی تنصیب اور موٹرسائیکل ، کار سٹینڈ کی تعمیر کے ٹھیکوں کے حوالے سے ابھی تک کسی قسم کا ورک آرڈر جاری نہیں کیا گیا ہے لیکن پراجیکٹ ڈائریکٹر اعجاز نے مبینہ طورپر منظور نظرٹھیکیدار ذوالفقار علی کو کروڑوں روپے کے ان منصوبوں پر بغیر کسی منظور کام شروع کروا دیا ہے جس میں چاردیواری کے لئے کھدائی ، لائٹس کی تنصیب کے لئے پولز کی کھدائی سمیت دیگرابتدائی کام مکمل کر لئے گئے ہیں اور وہاں پر تعمیراتی کام جاری ہے –

ذرائع کے مطابق نیو کیمپس میں کسی بھی تعمیراتی منصوبے کے لئے قائم کمیٹی جسے ٹرپل سی یعنی کیمپس کنسٹرکشن کمپنی سے تمام منصوبوں کی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے لیکن پراجیکٹ ڈائریکٹر اعجاز نے یہاں پر بھی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے بغیر منظوری کے منظور نظر ٹھیکیدار زوالفقار علوی کو ان منصوبوں پر کام شروع کرنے کی ہدایت کی جس کے بعد تعمیراتی کام شروع کردیا گیا ہے – واضح رہے کہ ذوالفقار علوی جی سی یونیورسٹٰی کے متعدد منصوبوں پر کام کر چکے ہیں اور تعمیراتی محکموں کی جانب سے ان منصوبوں پر ناقص میٹریل استعمال کرنے پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور ان منصوبوں کی سکیورٹی مدت بھی پوری نہیں ہو سکی تھی لیکن ان کی تعمیر کردہ منصوبوں میں ٹوٹ پھوٹ سامنے آ رہی ہے-

اس تمام صورتحال میں دیگر تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا جارہا ہے اور الزام یہ عائد کیا جارہا ہے کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر اعجاز اپنے مفادات کے لئے قریبی اور منظور نظر ایک ہی ٹھیکیدار ذوالفقار علوی کو تعمیراتی ٹھیکے دئیے جارہے ہیں اور اس رقوم سے اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کررہے ہیں – اس حوالے سے پراجیکٹ ڈائریکٹر اعجاز نے اپنے موقف میں بتایا کہ وہ آج شہر سے باہر ہیں آپ صبح آفس آ جائیں تمام دستاویزات آپ کو دکھا دیں گے – ورک آرڈر جاری ہونے سے قبل تعمیراتی کام شروع کروانے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں