رانا ثنا اللہ خاں منشیات کیس ، اے این ایف عدالت کے جج کو تبدیل کردیا گیا ، لیکن کیوں ؟؟

اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ خان کو گرفتار کرکے 14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا تھا لیکن اب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ رانا ثنا اللہ کے مقدمے کوسننے والے جج کو تبدیل کر دیا گیا ہے جس پر مسلم لیگ کی قیادت نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے –

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزارت قانون نے لاہور ہائیکورٹ سے درخواست کی ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کے مقدمے کو سننے والے جج کو تبدیل کیا جائے – لکھے گئے خط میں حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ لاہور کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مسعود ارشد کو سات فروری 2017 کو عرصہ تین سال کے لیے ڈیپوٹیشن پر لاہور میں خصوصی عدالت برائے انسداد منشیات کے جج کا چارج دیا گیا تھا – اسی طرح یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اب منیبہ طور پر مذکورہ جج کی غیر جانبداری اور ساکھ کے مسائل سامنے آئے ہیں۔ ”لہذا رجسٹرار یہ خط لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے رکھیں تاکہ مذکورہ جج کی جگہ انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں کسی غیر جانبدار جج کو تعینات کیا جا سکے۔“

لکھے گئے خط کے مطابق یہ بھی واضح کیا ہے س دوران یہ وزارت جج مسعود ارشد کو حکم دیتی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنا کام چھوڑ دیں – اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ رانا ثنا اللہ خاں کے کیس کے معاملے کو انتہائی ضروری اور ترجیحی خیال کرتے ہوئے فوری طور پر عمل کرنے کی درخواست کی جاتی ہے –

پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے اینٹی نارکوٹکس عدالت کے جج کی تبدیلی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کیا یہ نیا پاکستان ہے جہاں انصاف کی فراہمی تو دور کی بات ، اپنے مرضی کے فیصلے لینے کے لئے جج تبدیل کئے جارہے ہیں –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں