آزاد علی تبسم اور چک جھمرہ کی تاریخ


تحریر، افضال احمد تتلا

ہم پے غریبی نازل ہوتی ہے تو اتنی کہ ہم ذندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں اور اگر دولت نازل ہوتی ہے تو اتنی کہ ہم دوسروں کو زندگی سے مایوس کر دیتے ہیں حالانکہ عزت ،دولت، شہرت اور اقتدار اللہ کی دین ہے وہ جس کو چاہئے جتنی چاہئے اور جب تک چاہئے عنایت کر دئے مگر بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو اللہ کی ان عنایت کے بعد آپے سے باہر نہیں ہوتے اقتدار کے ہاتھ آتے ہی کم ظرف انسان اقتدار اعلی (اللہ تبارک وتعالی ) کو بھول ہی جاتے ہیں اور وہ ذات رحیم وکریم اس کے باوجود انسان کو نوازتی جاتی ہے اس کی رسی دراز کرتی جاتی ہےاور موقع پے موقع دئیے جاتی ہے کہ اقتدار کی کرسیوں پے بٹھنے والے ایک بار اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت میں “جت” جائے تو میں ان کے سارے گناہ معاف کردوں اور جو انسانیت کی خدمت کی ٹھان لے تو اقتداراعلی اس کی عزت،دولت اور شہرت کی ذمداری خود لے لیتا ہے اور جس کی وہ ذات ذمداری اٹھا لے اس کا دنیا کے سارے چوہدری ، وڈیرے ، نمبردار اور ذات پات میں تقسیم انسان کچھ نہیں بگاڑ سکتے

اس کی زندہ مثال تحصیل چک جھمرہ کے حلقہ پی پی51 سے الیکشن لڑکر واضع اکثریت سے ووٹ لےکرجتنے والے عوامی لیڈر آزاد علی تبسم ہیں جو ذات برادری کے جھمیلوں سے بالاتر ہوکر سوچنے والی شخصیت ہے آزاد علی تبسم کی ذات اور ان کےکاموں پر بات کرنےسے پہلے تحصیل چک جھمرہ کےپس منظرپربات کرتے ہیں چک جھمرہ پاکستان کے تیسرے برے شہر فصیل آباد کی تحصیل ہے جس کی ایک اپنی تاریخ ہے اس تحصیل کی وجہ تسمیہ کے پیچھے بھی بڑے دلچسپ حقائق ہیں چنیوٹ سے ہجرت کرکے آنے والی قوم رجوکہ نے تقریباً چار سو سال قبل ( ساندل بار) یہاں آکے پراو کیا تب اس جگہ بارشوں کے پانی سے ایک تالاب بنا ہوا تھا تالاب کے کنارے “ون” کا ایک خوبصورت درخت تھا جس کا سایہ ہمہ وقت تالاب کے پانی میں رقص کرتا ہوا نظر آتا چونکہ رجوکہ جانگی قوم ہے اور اس قوم کا پسندیدہ رقص “جھمر” ہے لہذا مقامی لوگ اس کو جھمر والی جگہ کے نام سے پکارنے لگے جھمرہ “جھمر” کی بگڑی ہوئی شکل ہے تاہم اس کے ساتھ چک کا لفظ لگنے کی وجہ انگریزحکومت بنی انگریز سرکار موجودہ فصیل آباد (اوراس وقت کے ساندل بار) کو آباد کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھی مگر جھمرہ کی زرخیز زمینوں نے بکثرت کپاس کی فصل اگنا شروع کر دی تو نہ چاہتے ہو بھی یہاں ایک غلہ منڈی بن گئی اور سرکار لائلپور کی بغل میں کسی اور علاقہ کو ٹاوٴن کا درجہ دینے سے کتراتی تھی لہٰذا جھمرہ کے ساتھ چک کا لفظ جوڑ کر اس کو چک جھمرہ بنا دیا گیا اگر یہ ٹاون بنایا جاتا تو اس کو ٹاوٴن والی تمام سہولتیں مہیا کرنا سرکار کی ذمہ داری بن جانی تھی تاہم 1896 میں انگریز سرکار نے یہاں ریلوے اسٹیشن تعمیر کروایا تب چک جھمرہ کی آبادی 1086 افراد پر مشتمل تھی عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے 13286 روپے خرچ کرکے یہاں تھانہ اور ڈرینج سسٹم بنایا گیا تھا یہ تھانہ کئ سال تھانہ چنیوٹ روڈ کے نام سے جانا جاتا رہا 1906 میں باقاعدہ اس کو تھانہ چک جھمرہ کا نام دیا گیا تھا تب تک آبادی 2100 نفوس کے لگ بھگ بڑھ چکی تھی دوسری جنگ عظیم کے دوران گورنمنٹ برطانیہ نے یہاں ائیربیس بنایا جس سے اس کی اہمیت برھ گئی اور 1965 کی انڈیا پاکستان جنگ میں انڈیا کی فوج نے اس ائیر بیس کو تباہ کرنے کی خاطر چک جھمرہ پر کئی حملے کیئے لیکن پاک فوج کے شیروں نے دشمن کے تمام ارادے خاک میں ملا دیئے تھے مونسپل کمیٹی چک جھمرہ کے پہلے چیئرمین لالہ کندل لال تھے اس تمام تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ چک جھمرہ شہر کی بنیادیں بہت مضبوط ہے مگر بعدازاں باہمی چپقلش ، دشمنی اور اپنی “ٹور” بنانے والوں نے اس تاریخی شہر کی لگام پے اپنی گرفت مضبوط کرنا شروع کردی اور رفتہ رفتہ جھمرہ کی عوام میں ذات برادری کا اونچ نیچ کا ایسا پہاڑ کھڑا کردیا جس کی چوٹی پر اپنا جھنڈا لگانے کی دوڑ میں اس علاقہ کے لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگے اس طرح علاقہ میں دھڑے بندیاں شروع ہوگئی ان دھڑے بندیوں کو سیاست کے ناخداوں نے مبیّنہ طور پر اپنے مفاد میں کیش کروانا شروع کردیا جس کی وجہ سے لوگ نسل در نسل باہمی دشمنیوں کی دلدل میں دھنستے چلے گے –

ان نامساعد حالات میں چک جھمرہ کے قریبی چک نلے والا کے سپوت آزاد علی تبسم نے عوام کے درد کو محسوس کیااور ان کی خدمت کا بئیرہ اٹھاتے ہوئے حلقہ پی پی 51 سے ن لیگ کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی نشست کیلئے انتخابات میں شرکت کی ٹھانی جس کو علاقہ کے نام نہاد چوہدریوں نے ناگواری سے دیکھا مگر ان کی ظاہری اور اندرونی مخالفت کے باوجود تبسم صاحب کی شخصیت میں ایک باکردار، پرھی لکھی اور غریب نواز شخصیت کو پہچان گے انہی خصوصیات کی بنا پر یہ واضع اکثریت سے چناو کا میدان مار گے با اختیار ہونے کے بعد انہوں نے ایکسپریس ہائی وے ، فصیل آباد سے ساہیانوالہ روڈ سنگل سڑک سے دو رویہ ، اسی طرح مختلف دیہاتوں میں کارپٹ سڑکیں بچھا کر اور چک جھمرہ کے باغ جناح میں ان ڈور جمنازیم کے ساتھ ساتھ 12 ایکڑاراضی پر مشتمل سپورٹس اسٹیڈیم کی تعمر کا آغاز، تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال میں نئی جدید ایمبولینس اور اس کی عمارت کو اپ گریڈ کروانا اور تعلیم کی سہولیات کو مزید بہتر بناتے ہوئے گورنمنٹ ہائر سکنڈری سکول فار بوائز کی اپ گریڈیشن اور گورنمنٹ ہائر سکنڈری سکول فار گرلز کے کلاس رومز کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے فنڈز کا اجرا کروایا ہے اور سب سے بڑی بات علاقے میں باہمی دشمنیوں کو ہوا دینے کی بجائے امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنانے جسے بڑے بڑے کام کرواکے ثابت کردیا ہے کہ اگر اقتدار ، اختیار اور دولت آ بھی جائے تو انسانیت کا درد رکھنے والے دوسروں کو مایوس نہیں کرتے بلکہ ایک رہبر بن کے سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں یوں ترقی ، خوشحالی کی طرف گامزن یہ کارواں اونچ نیچ اور تگڑے مارے کے درمیان حائل ہر دیوار کو مسمار کر دیتا ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں