قومی عدالت سے بین القوامی عدالت تک


تحریر: مطیع اللہ جان

پاکستان میں قید بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر جیت کا جشن منانے میں کوئی حرج نہیں- کہا جا رہا ہے کہ عالمی عدالت نے کلبھوشن کو بھارت کے حوالے کرنے کا حکم نہ دے کر پاکستان کےُموقف کی تائید کر دی ہے کہ وہ ایک جاسوس اور دھشت گرد تھا- اس عالمی مقدمے میں پاکستان کی نمائندگی اٹارنی جنرل فار پاکستان کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور کی قیادت میں وکلا اور ماہرین کی ایک ٹیم نے کی- اٹارنی جنرل فیصلے کے بعد سے ملک سے باہر ہیں اس لئیے اس وقت پاکستان میں آئین اور قانون سے لیس پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ہی اس کارگل سے بھی بڑی فتح پر بات کرنا مناسب سمجھا- ہمارے آٹارنی جنرل کے عہدے میں لفظ “جنرل” تو آتا ہے مگر اس “کیپٹن” کا کیا جائے جو انور منصور صاحب کے نام اور سوچ کے ساتھ چپک سا گیا ہے- اسی لئیے یہ اندازہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ایک کپتان نے میجر جنرل ترجمان صاحب کو فون کر کے فیصلے کے بارے میں بریف کر دیا ہو گا اور اس فیصلے کو قوم کی جیت قرار دینے کی قانونی طور پر بھاری ذمے داری سے جان چھڑا لی- وگرنہ کسی مہذب جمہوری ملک میں اتنے بڑی قانونی جنگ کے بعد وفاقی حکومت کا کوئی ماتحت فوجی افسر عالمی عدالت کے کسی عالمی کنونشن سے متعلق کھڑے ہو کر کمنٹ کرے تو اٹارنی جنرل اور اس ملک کے وزیر قانون کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئیے- مگر کیا کریں ہمارا کپتان نیوی کا ہو یا کرکٹ کا انکو آٹارنی جنرل یا وزیر اعظم ہی کیوں نہ بنا دو فوج کے جرنیل کو دیکھ کر یا سوچ کر بھی سلیوٹ مار اٹھتا ہے- اب اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ فوج کے ترجمان آئین اور قانون سے واقف نہیں اور انہوں نے اس حوالے سے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں کئی گھنٹے کے سیمیناروں میں انگریزی نہیں بولی یا سینکڑوں صفحات پر مشتمل تحقیقی مقالے نہیں لکھے- بات کا مقصد صرف یہ ہے کہ اور کچھ نہیں تو دنیا میں دکھاوے کیلئیے ہی ترجمانِ اول کو عالمی عدالت اور قوانین کے معاملات میں اپنی من پسند “منتخب حکومت” کے سویلین عہدیداروں پر اعتماد کرنا چاہیئے تھا- عوام کے نہ سہی اس حکومت کو دئیے گئے اپنے ہی مینڈیٹ کا ہی کچھ احترام کر لیا ہوتا-

اب فیصلے اور اس میں پاکستان یا بھارت کی جیت سے متعلق بات ہو جائے- عسکری ترجمان کہتے ہیں کہ عالمی عدالت کا کلبھوشن کی رہائی کا حکم نہ دینا پاکستان کے جیت ہے- کلبھوشن کی رہائی بھارت کی درخواست میں درج بہت سے مطالبات میں سے ایک تھا مگر خود بھارت سمیت دنیا کے تمام قانونی ماہرین اسکو ایک رسمی مطالبہ مانتے تھے- اسی لئیے مقدمے کے دوران میں کسی ملزم کو رہا کرنے سے متعلق عالمی عدالت کے اختیارات پر بحث اور فیصلے کی نوبت ہی نہ آئی- ویسے بھی عالمی عدالت ٹرائل کورٹ تھی نہ ہی اسنے ملزم پر لگائے الزامات کی حقیقت کا جائزہ لینا تھا- بنیادی قانونی نقطہ یہ تھا کہ آیا کونسلروں (سفارتکار) کی تعیناتی سے متعلق ملکوں کے بیچ ۱۹۶۳ کے ویانا کنونشن کا اطلاق جاسوسی کے الزام میں گرفتار غیر ملکی شھریوں پر بھی ہوتا ہے یا نہیں؟ اس کنونشن کے تحت دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے شھری کسی بھی الزام میں گرفتار کرنے کے صورت میں انکے ملک کے سفارتکار سے انکی فوری ملاقات کرانے کے پابند ہیں- پاکستان کا موقف تھا کہ اس معائدے کا اطلاق کلبھوشن یادیو جیسے گرفتار کئیے گئے غیر ملکی جاسوسوں پر نہیں ہوتا- عالمی عدالت نے فیصلہ دیا کہ ویانا کنونشن میں درج گرفتار غیر ملکی شھریوں کی انکے ملک کے کونسلر تک فوری رسائی کا حق اس بات سے مشروط نہیں کہ گرفتار شخص پر جاسوسی کا الزام نہ ہو- اس بنیادی نقطے پر پاکستان کے موقف کو جب مسترد کر دیا گیا تو یہ بھی از خود ہی ثابت ہو گیا کہ پاکستان کلبھوشن یادیو کو بھارتی کونسلر تک رسائی نہ دیکر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے- پاکستان کے ویانا کنونشن کے تحت کسی جاسوس کو کونسلر رسائی نہ دینے کے موقف سے پہلے ہی ثابت تھا کہ یہ رسائی نہیں دی گئی تھی اور ایسا موقف کنونشن کی خلاف ورزی کا کھلے عام اعتراف بھی تھا-

اسی کے تسلسل میں یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ گرفتاری کے وقت کلبھوشن کو کنونشن کے مطابق نہ تو اسکے قانونی حقوق پڑھ کر سنائے گئے اور نہ ہی اسکی مرضی کا وکیل اسے دینے کا بینالاقوامی قانونی تقاضہ پورا کیا گیا- پھر سوال یہ پیدا ہوا کہ جب ملزم کو وکیل ہی اسکی مرضی کا نہیں دیا گیا تو فوجی یا کسی بھی عدالت کی کاروائی اور اس میں سنائی گئی سزائے موت کی کیا حیثیت ہو گی؟ یہاں پر عالمی عدالت نے ایسا حکم جاری کیا کہ پاکستان از خود ہی پرانی عدالتی کاروائی اور کلبھوشن کو سزائے موت دینے کے فیصلے کو ختم نہیں تو کم از کم از سر نو کھلی عدالتی کاروائی کا آغاز کرنے پر مجبور ہو جائے- عالمی عدالت نے بظاہر تو سزا ختم نہیں کی مگر حکم دیا ہے کہ اس سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کرنے والی ہائی کورٹ اس بات کو دھیان میں رکھے کہ سزائے موت دینے والی ٹرائل کورٹ نے ویانا کنونشن کے مطابق ملزم کے تمام حقوق کو یقینی بنایا تھا کہ نہیں- مگر عالمی عدالت نے اس سوال کا جواب اپنے حکم نامے میں پہلے ہی دے دیا ہے یہ قرار دے کر کہ کلبھوشن کیس میں پاکستان ویانا کنونشن کے تحت دستیاب حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے- اب جو بھی ہائی کورٹ اپیل سنے گی تو اسکے پاس کلبھوشن کی سزائے موت کالعدم قرار دے کر از سر نو ٹرائل کا حکم دینے کے سوا کوئی راستہ نہ ہو گا- اگر ہائی کورٹ نے اسکے علاوہ کوئی حکم جاری کیا تو بھارت اسکو عالمی عدالت انصاف کی خلاف ورزی قرار دے کر عالمی عدالت میں ایک بار پھر ہمارے کچھ وکیلوں کی جیبیں فیس کے نام پر لاکھوں ڈالروں سے بھرنے کا موقعہ فراہم کریگا- اگر اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی دشمنی میں اور وفاقی حکومت اور اسکے اٹارنی جنرل سے مشورے و منظوری اور بنیادی قانونی تقاضوں کو پورا کئیے بغیر کلبھوشن کو اچانک سزائے موت نہ سنائی جاتی تو آج ہمارے بینالاقوامی قانون کے ریلو کٹے کھلاڑیوں کو وہ ورلڈ کپ فائینل جیتنے کا دعوہ نہ کرنا پڑتا جو کبھی ہوا ہی نہیں- لگتا ہے ہم ساری رات دعایئں کرتے رہے کہ کلبھوشن کو عزت کے ساتھ بھارت کے حوالے کرنے کا حکم نہ آ جائے۔ اگر اس جاسوس کی تحویل تسلیم نہ کی ہوتی تو لاپتہ افراد اور ان سے متعلق قومی عدالتِ انصاف کے احکامات والا حشر کرنا کونسا مشکل تھا۔ یہ تو عالمی عدالت تھی اور ہم عالمی سطح پر تسلیم شدہ ذمےدار ادارہ۔

عالمی عدالت کے فیصلے پر فوج کے باوردی ترجمان کو بیان بازی کرتا دیکھ کر احساس ہوا کہ عالمی قوانین سے لاعلمی پر شرمندہ ہونے کی بجائے اور غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے ہم لوگ اپنی جھوٹی انا اور عزت کی خاطر ملک کی عزت داؤ پر لگا دیتے ہیں- عالمی عدالت کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں جب یہ کہا جائے کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے تو کیا ملک اور قوم کی بے عزتی نہیں- اسکا کون ذمے دار ہے؟ فوجی عدالت کے جج، جی ایچ کیو کی جج ایڈوکیٹ جنرل برانچ کے افسران یا لاکھوں ڈالر فیس لیکر کیس ہارنے والے “سیلیکٹڈ” وکلا کی ٹیم؟ کیا اس پر بھی کوئی انکوائری ہو گی؟

کلبھوشن کیس میں عالمی عدالت کے فیصلے کو پاک فوج کے ترجمان نے کھلے دل سے تسلیم کیا اور اس پر عملدرآمد کی مکمل یقین دہانی کرائی- یہی یقین دہانی اگر حکومت کے وزیر قانون یا اٹارنی جنرل نے دی ہوتی تو کون اعتبار کرتا- پاکستانی قوم بھارتی جاسوس اور دھشت گرد کو عدالتی اور قانونی عمل کے بعد پھانسی پر لٹکتا دیکھنا چاہتی تھی مگر ہماری قانونی نالائقیوں اور غلطیوں کے باعث ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا- اپنے ملک کے آئین، قانون اور حلف کو بوٹوں تلے روندنے والے اب عالمی عدالت اور بینالاقوامی برادری کو ویانا کنونشن پر عملدرآمد کی یقین دہانیاں کرا رہے ہیں- اپنے شھریوں کو بغیر کسی قانون و اختیار کے اغوا اور لاپتہ کرنے والے سزائے موت پانے والے بھارت کے جاسوس اور دھشت گرد کلبھوشن کو اسکو ویانا کنونشن کے تحت حاصل حقوق پڑھ کر سنا رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ “آپ کو آپکے کونسلر سے ملاقات کے لئیے کب بلایا جائے؟” اور یہ بھی بتا رہے ہیں کہ “آپ کو اپنی مرضی کا وکیل کرنے کا پورا حق ہے۔۔۔ ہماری فوجی عدالت نے جو سزا آپکو سنائی تھی وہ ہائی کورٹ سے ختم بھی ہو سکتی ہے (آپ فکر نہ کریں؟)” کتنا اثر ہے عالمی عدالت اور عالمی قوانین کا- کاش ایسی ہی عزت پاکستان کی عدالتوں اور ملکی قوانین کو بھی ملتی- کاش سینکڑوں لاپتہ افراد کو کلبھوشن جاسوس والی عزت دیتے ہوئے انہیں انکے حقوق سے مطلع کر کے، انکی مرضی کا وکیل فراہم کر کے عدالتوں میں پیش کیا جاتا، کاش ہماری عدالتوں کے بارے میں بھی پاک فوج کے ترجمان وہی کچھ کہہ سکتے جو انہوں نے عالمی عدالت کے ججوں کے بارے میں ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا-
“۰۰۰۰ یہ اس طریقے کی کورٹ نہیں ہے جہاں،۔۔ مطلب ہے کہ جس طریقے سے آپ چاہیں فیصلہ آ جائے۔”

عالمی عدالت نے اپنے حکمنامے میں پاکستان کی فوجی عدالت کی سزا کو برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کی بات نہیں کی اور نہ ہی کلبھوشن کو جاسوس یا دھشت قرار دیا ہے جیسا کہ اپنی جھوٹی انا کو تسلی دینے کے لئیے میڈیا میں تاثر دیا جا رہا ہے- کلبھوشن جیسے جاسوس سے متعلق ہمیں اپنی عدالتوں کے فیصلے پر یقین اور اعتماد کیوں نہیں کہ ہمیں عالمی عدالت انصاف کے حوالے سے غلط خبریں جوڑنی پڑتی ہیں۔ ہوا یوں ہے کہ عالمی عدالت کو پاکستان کے اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کی عدالتیں اور رحم کی اپیل کے راستے ابھی بھی کھلے ہیں- اسی یقین دہانی کے بعد عالمی عدالت نے اپنے حکم نامے میں ایسی شرائط رکھ دیں ہیں (جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے) کہ ہائی کورٹ نے از سر نو اور اوپن ٹرائل کا فیصلہ نہ کیا تو بھارت دوبارہ عالمی عدالت انصاف میں جا سکتا ہے- اب پاکستان کے پاس اس معاملے میں محدود آپشنز ہیں- از سر نو ٹرائل، کونسلر ملاقات، مرضی کا وکیل، اور سول عدالت میں ٹرائل۔ آخر اس میں حرج ہی کیا ہے- ہم سب “محب وطن پاکستانی” اس جاسوس کو کیفر کردار تک پہنچتا دیکھنا چاہتے ہیں- اس میں مشکل بھی کچھ نہیں کیونکہ ہمارے پاس جسٹس ثاقب نثار، جسٹس جاوید اقبال، جج ارشد ملک اور ان جیسے بیشتر دوسرے منصف پہلے ہی موجود ہیں جن کی عدالت میں ہر کام اسی طرح ویانا کنونشن کے مطابق ہو گا جس طرح پانامہ کیس میں ہماری تمام عدالتوں نے پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کئیے ہیں- کلبھوشن کو ہمارے ثاقب نثار المعروف ڈیم چوکیدار جیسے جج کے حوالے کر کے دیکھیں اور لائیو ٹرانسمیشن کر دیں (آئیڈیا برا نہیں) چند سماعتوں کے بعد پوری بھارتی قوم ہی کلبھوشن کی پھانسی کا مطالبہ کرنے لگے گی-

مختصر یہ کہ جس ملک میں لوگ اور ادارے اپنے شھریوں کے حقوق، انکی منتخب حکومت، اپنے آئین اور قانون کی عزت نہیں کرتے اس ملک اور اسکے اداروں کو پھر عالمی قوانین کے سامنے یوں ہی سرعام جھکنا پڑتا ہے- افسوس اس بات کا ہے کہ اپنے آئین کے سامنے جھکنے کو بے عزتی سمجھے والے بینالاقوامی قوانین کے سامنے ناک رگڑنے کو عزت قرار دینے پر مجبور ہوتے ہیں- ہم سے زیادہ تو کلبھوشن عزت کا حقدار ٹھرا- کاش آئین پاکستان ویانا کنونشن ہوتا اور ہماری “قومی عدالت” کی عالمی عدالت والی عزت ہوتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں