یا ﷲ میں حاضر ہوں …. کاروبارِ مقدّسہ ……… رہنمائے زائرین


تحریر ، مرزا ممتاز علی بیگ

دل کے ارادے کا نام ہی نیّت ہے۔ زبان سے الفاظ کی ادائیگی کوئی ضروری نہیں ہے۔آپ نے مسلمان ہونے کی وجہ سے کسی بھی زبان و مکاں سے دعا کی اور قبولیت ہوئی اور آپ کا حجاز ِمقدّس جانا ٹھہر گیاہو ۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ کسی بھی زبان اور جگہ کے محتاج نہیں ہیں۔ سعودیہ میں مروّجہ قوانین یعنی چالیس سال سے کم عمر کا مرد اکیلا نہیں جاسکتا اس کے ساتھ کسی محرم عورت کا ہونا ضروری ہے اسی طرح پنتالیس سال سے کم عمر کی عورت اکیلے نہیں جا سکتی اس کے ساتھ بھی کسی محرم مرد کا ہونا ضروری ہے۔ محرم مرد و عورت کی مکمل تشریح کیلئے کسی مستند عالم دین سے استفادہ کر لیاجائے تو بہتر ہوگا۔ اگر آپ دو سال سے قبل حج و عمر ہ کیلئے دوبارہ جانا چاہیں تو دوہزار ریال فیس سعودی گورنمنٹ کو ادا کرنا ہوگی۔

اب آپ اپنا رخ کسی ایسے شخص یا ادارے کی طرف کرتے ہیں جو آپ کے سفر وغیرہ کا بندوبست کردے۔ یعنی ویزاجو کہ آج کل آن لائن ہے اور ایک گھنٹے میں حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن وہ صرف پندرہ دن کیلئے کارآمد ہوتا ہے آپ کو پاسپورٹ ایمبیسی میں ویزہ سٹیکر لگوانے کیلئے بھجوانے کی ضرورت نہیں ہوتی، جہاز کا ٹکٹ ، ایئر لائن کا چناؤ، روانگی و آمد کا ایئرپورٹ ، سعودیہ میں رہائش و ٹرانسپورٹ وغیرہ کا سب انتظام یہ خود کرتے ہیں۔ عرفِ عام میں آپ اسے ایجنٹ بھی کہہ سکتے ہیں ویسے تو لوگوں کی کہاوت ہے کہ یہ ایجنٹ ،کرنٹ اور وارنٹ ایک جیسے ہی سکے کے دورُخ ہیں ۔ ان کو سنتے ہی آدمی کو پریشانی لاحق ہوجاتی ہے۔ بہرحال ایجنٹ سے ملے بغیر گزارہ بھی نہیں۔آپ ایجنٹ سے اپنی مرضی کا پیکج(Package) طے کرتے ہیں ۔ کتنے دن مکہ اور مدینہ میں اور رہائش حرمِ مکہّ اور مسجد نبویؐ سے کتنے فاصلے پر ہوگی۔پاکستان میں جتنے بھی حج و عمرہ ٹریول اینڈ ٹورز آپریٹرز ہیں یہ سعودیہ کی تقریباً 250 حج و عمرہ کی انٹرنیشنل ٹریول اینڈ ٹورز کمپنیوں (شرکہ) جو کہ پوری دنیا کے زائرین کو سعودیہ میں خدمات مہیا کرتی ہیں کے ایجنٹ ، سب ایجنٹ یا ان کے بھی ایجنٹ ہوتے ہیں۔ پاکستان کے تمام ایجنٹس کا حصہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ یہ تما م اس کاروبارِ مقدّسہ کا حصہ ہیں۔

وہاں جانے کیلئے ضروری سامان کی تیاری کر لیں۔ یعنی کپڑے ، کھلے جوتے، احرام وغیرہ اگر کوئی عورت اور بچہ بھی ساتھ تو اس کی ضروریات کو بھی مدِنظر رکھیں۔ احتیاطً نظر کی عینکیں ، موبائل فون کیلئے چارجر، فون چارجر لیڈ ، چارجر بینک، سم ڈالنے کیلئے ایک عدد اضافی جیکٹ ، کمر پر باندھنے کیلئے بٹوہ ضرور اپنے ساتھ رکھیں کیونکہ وہاں پر یہ چیزیں بوقت ضرورت ڈھونڈنے کیلئے وقت کا بہت ضیاع ہوگا اور ان کی وہاں قیمتیں بھی کافی زیادہ ہونگی۔

اکثر ٹریول اینڈ ٹورز آپریٹر غلط بیانی سے کام لیتے ہیں جوفاصلہ حرمِ مکہّ اور مسجد نبویؐ سے رہائش گاہ تک بتایا جائے گا وہ عموماًصحیح نہیں ہوتا۔ اپنی تسلی کیلئے آپ یہ فاصلہ جدید ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے گوگل میپ پر چیک کر سکتے ہیں کہ صحیح فاصلہ کتنا ہے اور پیدل چلنے کا دورانیہ کتنا ہوگا۔ جو ووچر (Voucher) آپ کو دیا جائے گا وہ بھی سعودیہ کی کسی بڑی ٹریول اینڈ ٹورز کمپنی (شرکہ)کا ہوگا ۔ اس میں ہر چیز بڑی تفصیل سے لکھی ہوگی کہ کس کس مشکل میں آپ نے کس سے رابطہ کرنا ہے اور ان سب کے رابطہ نمبر بھی ووچر پر موجود ہونگے۔ اس کی آٹھ فوٹو کاپیاں کروا کر اپنے پاس ضرور رکھیں جو سعودیہ میں آپ کے کام آئیں گی۔چونکہ آپ پاکستانی ہیں لہذا آپ کی رہنمائی بھی ہم جیسے پاکستانیوں کے سپرد ہوگی۔ وہ آپ کا فون تک اٹھانا گوارہ نہیں کریں گے اگر کبھی خدانخواستہ کال رسیو کر بھی لی تو بد تمیزی ان کا طرۂ امتیاز ہوگی۔

پاکستان میں فنگرپرنٹ کروانے کے بعد آپ کو کسی ایک سعودی موبائل کمپنی کی سم بھی دی جاتی ہے ۔ موبائل سم پر آپ پاکستان سے ہی اپنے پاکستانی نمبر پر انٹرنیشنل رومنگ حاصل کر لیں یا سعودیہ جاکر کسی بھی موبائل کمپنی کی سم لے لیں ہر طرف سے یقینا خسارہ آپ کا ہی ہو گا۔ آپ کان ادھر سے پکڑ لیں یا ادھر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ کا بیلنس ہی بے دردی سے ختم ہوگا۔ آپ حالتِ احرام میں سخت گرمی میں یہ بھی ہو سکتا ہے آپ روزہ کی حالت میں ہوں۔جب جدّہ پہنچیں گے تو سب سے پہلا مسئلہ ٹرانسپورٹ کا ہی ہوگا۔

اس گرمی میں بغیر کسی سایہ کے آپ کو اپنی مطلوبہ کمپنی کی بس کا انتظار کرنا پڑے گا۔ آپ بڑے ہی خوش قسمت ہونگے اگر آپ کو مطلوبہ ٹریول کمپنی (شرکہ)کی بس وغیرہ مل جائے اگر مل بھی گئی تو وہ بس اس وقت تک کبھی نہیں چلے گی جب تک تمام کی تمام سیٹیں مکہّ جانے والے زائرین سے بھر نہ جائیں۔ یہ پریشانی دو یا تین گھنٹوں پر محیط ہوسکتی ہے لیکن اگر آپ کو اپنی مطلوبہ کمپنی کی بس نہیں مل رہی تو آپ کی مشکل میں اوربھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ آپ نے اس سے پریشان نہیں ہونا کیونکہ سفر ایک مشقّت ہے۔ ’’مشکلیں اتنی پڑیں کہ خود ہی آساں ہوگی‘‘ جتنی زیادہ مشقت ہوگی اتنا زیادہ اجر و ثواب بھی ملے گا۔ وہاں پر موجود لوگ آپ کو کسی دوسری کمپنی کی گاڑی میں ایڈجسٹ کرینگے جیسے ہمارے ہاں ہوتاہے کہ اگر کسی ٹرانسپورٹ کمپنی کے پاس سواریاں کم ہیں تو وہ اپنی سواریاں دوسری کسی ٹرانسپورٹ کمپنی کو دے دیتے ہیں تاکہ آپس کے تبادلہ سے پیسوں کا نقصان کم سے کم ہو۔ سعودیہ کی کمپنیاں بھی اسی فارمولے کو بڑی خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہی ہیں۔
یقینا آپ میرے جیسے عام یا متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے ہونگے کیونکہ امراء کیلئے تو پیسے کی وجہ سے مشکلات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں کیونکہ ان کا پیکج مشکلات کے بغیر ہوتا ہے۔آپ مکّہ میں اپنی رہائش گاہ پر خیریت سے پہنچ گئے۔ عمرہ زائرین کے سامان کو ہوٹل کے گیٹ پر ہی آپ کے ہاتھ میں تھما دیا جائے گا۔ حالتِ احرام ، سفر کی مشقّت اور اوپر سے سخت درجہ حرارت بھی آپ کے ساتھ ہونگے۔ اپنا سامان آپ کو اپنی مدد آپ کے تحت خود ہی اپنے مطلوبہ فلور اور کمرہ تک لے کرجانا ہوگا۔ پاکستانی عملہ آپ کو کوئی بھی مدد فراہم نہیں کرے گا۔ آپ کے ووچر میں رہائش Share Basis) ( کے فارمولے کے تحت درج ہوگی لہذا وہاں پر موجود عملہ آپ کو کمروں میں ایسے ٹھونسے گا جیسے مرغیوں کو قصائی اپنے ڈربے میں ڈالتا ہے یعنی برائلر، لیئر اور مصری کو ایک ہی کمرہ میں ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔

ایک کمرے میں پانچ یا سات آدمی ایڈجسٹ کئے جاتے ہیں اگر آپ کے اپنے ہی ساتھی کمرہ کی مطلوبہ تعداد کے مطابق ہیں تو اچھی بات ہے ورنہ آپ کو کسی بھی مختلف مزاج کے لوگوں کے ساتھ ٹھونس دیا جائے گا ہوسکتا ہے کہ آپ کے ساتھ والے ساتھی صفائی پسند نہ ہوں تو یہ مشکل بھی آپ کو اپنی مدد آپ کے تحت حل کرنی ہوگی۔ صفائی وغیرہ آپ نے اپنے مزاج کے مطابق خود اور بار بار کرنی ہوگی کیونکہ ہوٹل انتظامیہ آپ کو بیڈ کی چادر ، تولیے ، تکیّے کے غلاف ، صابن اور شیمپو وغیرہ دینے میں مکمل عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرے گی یہ آپ کی ہمت ہو گی کہ یہ چیزیں ان سے لے لیں ۔

اکثر ہوٹلوں میں یہ سب کچھ سرے سے مہیا ہی نہیں کیا جاتا۔ اس مشکل کو ذہن میں رکھتے ہوئے ضرورت کا سامان ساتھ لیکر جائیں۔ دنیا میں ہوٹلوں کی رینکنگ جوکہ بذریعہ سٹار (Star)ہوتی ہے یہ سٹار سعودیہ میں صرف اور صرف ہوٹل کی رجسٹریشن تک ہوتی ہے اس کے بعد سعودی کمپنیوں کا ٹھیکیداری نظام آتا ہے لہذا فور سٹار ہوٹل تک آپ ان کے چکروں میں نہ ہی پڑیں تو بہتر ہے۔

پاسپورٹ جوکہ غیر ملکی سفر کیلئے سب سے اہم دستاویز ہے اسے ٹریول اینڈ ٹورزآپریٹر کمپنی (شرکہ)سعودیہ پہنچتے ہی اپنے پاس رکھ لیتے ہیں تاکہ آپ مکمل طور پر ان کی گرفت میں رہیں ۔آپ اس یقین کے ساتھ عمرہ کریں کہ اﷲ تعالیٰ اسے یقینا قبول فرما لیں گے اور حالتِ احرام سے باہر آجائیں۔ مکّہ اور مدینہ میں پہنچ کر مقامِ مقدّسہ کی زیارت نہ کی جائے تو دل کی حسرت پوری نہیں ہوتی ۔ دونوں جگہ کی زیارات تقریباً 25 ریال میں ہو جاتی ہیں جوکہ بذریعہ بس ہوتی ہیں اور اردو زبان کا گائیڈر بھی ساتھ ہوتا ہے جو آپ کی مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ اگر آپ تمام زیارات کو بہترین انداز میں دیکھنا چاہتے ہیں تو چار لوگوں پر مشتمل ایک گروپ بنا کر بذریعہ کار کریں۔ سعودیہ میں کار یا ٹیکسی میں سفر کرتے وقت اپنے ساتھ عورت ہونے کی صورت میں حد سے زیادہ احتیاط کریں۔ گاڑی میں بیٹھتے وقت آپ پہل کریں اور اترتے وقت بعد میں اتریں۔ سعودی ڈرائیور آپ کو کوئی چیز لینے یا گاڑی کی خرابی کی صورت میں اترنے کا کہے تو مجبوری کی صورت میں پہلے اپنی خواتین اور بچوں کو گاڑی میں سے اتاریں پھر کوئی دوسرا عمل سرانجام دیں اسی میں آپ کی بھلائی ہے۔

حرم کعبہ کا رقبہ تقریباً(99) ایکڑ پر مشتمل ہے اور وہاں تقریباً چالیس لاکھ لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔حرم کعبہ کی تعمیر ابھی جاری ہے ہوٹل سے حرمِ کعبّہ یا مسجد نبویؐ تک کا فاصلہ جوکہ آپ کے ووچر پر میٹروں میں لکھا ہوتا ہے اس میں بھی غلط بیانی سے کام لیا جاتا ہے ستم ظریفی یہ کہ بتایا نہیں جاتا کہ یہ فاصلہ حرمِ کعبہ یا مسجد نبویؐ کی ابتدائی باؤنڈری تک ہے۔ وہاں سے اندر جانے تک آپ کو بہت زیادہ بھی چلنا پڑ سکتا ہے ۔ذہنی طور پر تیار ہو کر جائیں اور پانچ سے دس کلو میٹر روزانہ پیدل چلنے کی پریکٹس کر لیں۔ اگر آپ راستہ بھول گئے یا کسی خاص شخصیت کی آمد ہو تو یہ فاصلہ اور بھی بڑھ سکتا ہے۔ مسجد نبویؐ میں آپ کسی بھی طرف سے آجائیں آپ اسے قریب ہی پائیں گے اگر آپ عبادت کیلئے کسی مخصوص جگہ کا انتخاب کریں تو پھر کچھ نہ کچھ تو چلنا پڑے گا۔

اہلِ مکّہ کے زیادہ تر لوگ سخت مزاج ہیں اگر سخت نہ ہوتے تو اﷲ تعالیٰ اپنے سب سے پیارے پیغمبرؐ کو کسی اور جگہ بھی پیدا کر سکتے تھے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اگر اہلِ مکّہ پیار کرنے والے ہوتے تو اﷲ تعالیٰ آپؐ کو مدینہ ہجرت کرنے کا کیوں کہتے۔ مکّے کے لوگوں سے پیار و محبت سے ہی پیش آئیں کیونکہ بہر کیف وہ مکّہ کے کسٹوڈین ہیں۔ ان پر اﷲ کا خاص فضل اور کرم ہے ورنہ آبِ زم زم کے علاوہ جس کو مکّہ کا پانی لگ جائے اس کے بارے میں وہاں کے مقیم عام لوگوں کا کہنا ہے کہ ان لوگوں میں سختی کا عنصر اور بھی غالب آجاتاہے۔

مکّہ میں حرمِ کعبّہ کے اندر آپ کو بہترین نظام ملے گا جس کیلئے سعودی حکومت کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے۔ کوشش کریں کہ حرمِ کعبّہ کی اندرونی حدود میں ٹھنڈے چیلروں کی ٹھنڈی ہوا میں عبادات سے لطف اندوز ہوں۔حدودِ مکّہ میں کسی بھی جگہ ، کسی بھی مسجد میں ایک فرض نماز پڑھنے کا ثواب ایک لاکھ نماز کے برابر ہے۔ باجماعت پڑھنے سے یہ پچیس گنا بڑھ جاتا ہے اور اگر مسجد کے اندر نماز پڑھی جائے تو یہ ستائیس گنا ہو جاتا ہے۔یعنی ایک نماز کا ثواب ستائیس لاکھ نمازوں کے برابر ہوجاتا ہے اور اﷲ تعالیٰ اگر چاہے تو اس سے بڑھ کر بھی عطا کر سکتے ہیں اور اگر یہ ثواب وہ بار بار بھی دے دیں تو اﷲ تعالیٰ کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں آسکتی لہذا نماز خشوع اور خضوع کے ساتھ ادا کریں۔

ہیٹ پروف ماربل کا فرش ہونے کے باوجود صحن میں کافی گرمی ہوتی ہے مغرب اور عشاء کے وقت بہتری آجاتی ہے اگر حرم کعبہ کی حدود کے باہر سرِ راہ آپ کو نماز پڑھنی پڑ گئی تو مکمل بے سروسامانی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا انتظام آپ کو خود ہی کرنا پڑے گا کیونکہ وہاں کسی بھی قسم کے سایہ اور نمازوں کی صفوں وغیرہ کا کوئی اہتمام نہیں ہوتا۔

مکّہ میں ہوتے ہوئے فرض عبادات کے بعد زیادہ سے زیادہ طوافِ کعبہ کریں کیونکہ یہ طواف کعبہ دنیا میں کسی اور جگہ نہیں کیا جاسکتا ۔باقی فرائض و نوافل آپ اپنے اپنے مقام پر بھی ادا کر سکتے ہیں۔ (دم)حالت احرام میں ہونے والی کوتاہی کی معافی ہے لیکن کسی بھی غلطی کی صورت میں دم(ایک بکری / بکرے کی قربانی ) ادا کرنا پڑے گی اس قربانی کے گوشت کو مکّہ میں ہی مکّہ کے غریب لوگوں کو دیا جاسکتاہے وہ وہاں پر ضرور ادا کریں۔

مدینہ میں پہنچ کر آپ کو خوشگوار ماحول کا احساس ہوگا لوگ پیار اور محبت سے ملیں گے یہ سب کچھ ان کی بے مثال قربانیوں کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبرؐ کی دعاؤں سے نوازا ہوا ہے۔ کوشش کریں کہ روضۂ رسولؐ پر روز حاضری دیں اور مسجد قباء جوکہ عالم اسلام کی سب سے پہلی مسجد ہے جسے آپؐ اور صحابہ کرامؓ نے خود اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا تھا۔ میں دو نفل ادا کرکے فرائضِ عمرہ کی ادائیگی کے بغیر ایک مقبول عمرہ کا ثواب حاصل کریں یعنی احرام باندھنا (احرام باندھنے کیلئے دنیا کی مختلف سمتوں سے آنے والے مسلمانوں کیلئے چھ مقامات (میقات) طے ہیں، اضافی عمرہ کیلئے مکّہ میں مسجدِ عائشہ سے احرام باندھنے کی گنجائش بھی موجود ہے)۔ طوافِ کعبہ (ہجرِاسود سے ہجرِ اسود تک سات چکر )،مقام ابراہیم پر دو نوافل کی ادائیگی ،صفا و مروہ کی سعی (سات چکر یعنی صفا سے مروہ تک ایک چکر اور مروہ سے صفا تک دوسرا چکراسی طرح سات چکر مکمل ہوتے ہیں) اور حلق ( افضل تو یہ ہے کہ سارا ہی سر منڈوا دیا جائے یا پھر کٹنگ کروا لی جائے سر کے کچھ حصوں کا حلق کروانا یا بال منڈوانا درست نہیں ہے۔ عورت کے بالوں کے آخری تمام سروں سے ان کا معمولی سا کاٹ دینا) ان سب فرائض کی ادائیگی کے بعد ہی مقبول عمرہ کا ثواب حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ اہل مدینہ ہمیشہ نیکیوں کے متلاشی رہتے تھے اور ان کی اس خواہش پر کہ اہل مکہّ تو ہم سے نیکیوں میں بہت آگے نکل جائیں گے اﷲ تعالیٰ نے ہمارے پیارے نبی ؐ کی خواہش پر خصوصاً اہلِ مدینہ سمیت پوری امتِ مسلمہ کو صرف اور صرف دونوافل کی ادائیگی پر مقبول عمرہ کے ثواب سے ہمیشہ کیلئے نواز دیا ہے ۔ دوسرے عمرے میں ہو سکتا ہے کہ اﷲ کے فضل و کرم اور نبی پاکؐ کی امّت ہونے کی وجہ سے عبادات قبول ہوجائیں لیکن پھر بھی یقین سے مہرِ تصدیق ثبت نہیں کی جاسکتی ۔ لہذا مدینہ میں رہتے ہوئے ہر روز مقبول عمرہ ضرور ادا کریں۔یہ بھی اہتمام کر لیں کہ آپ کی خریداری بھی مدینہ پاک سے ہوجائے کیونکہ وہاں کے نرخ مکّہ سے کم ہیں ۔ کھجوریں تو مدینہ کی باغات کی ہی لیں کیونکہ اس زمین کی محبت سے ہی آپ کیلئے دنیا اور آخرت کی آسانیاں پیدا ہونگی۔ بہتر یہ ہے کہ آپ ترو تازہ کھجوریں لیں اور اپنے ساتھ ہی لے کر آئیں ، مجبوری کی صورت میں اگر بذریعہ کارگو بھیجنا مقصود ہو تو موسمی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اچھے انداز میں پیکنگ کر لیں۔آبِ زم زم میں اﷲ تعالیٰ نے ہر بیماری کی شفا رکھی ہے ہر ممکن کوشش کریں کہ مکّہ اور مدینہ میں ہوتے ہوئے اسی پانی کو پئیں(بیٹھ کر یہ پانی پینا افضل ہے لیکن مجبوری ہو تو کھڑے ہو کر بھی پیا جا سکتا ہے)۔ آپ کی واپسی پر ائیرپورٹ پر آٹھ ریال کے عوض پلاسٹک میں پیک آبِ زم زم کی پانچ لیٹر والی بوتل ملے گی ،وہ آپ اپنے ساتھ لا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہینڈ کیری میں آپ کی ہمت اور قسمت ساتھ دے تو کسی حد تک آبِ زم زم لایا جا سکتا ہے۔

مدینہ سے واپسی پر روضہ رسولؐ پر حاضری دیں اور درود و سلام پیش کریں ۔ اپنے گھر پہنچنے پر اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کو ان خوش قسمت لوگوں کی صف میں شامل کر دیا ہے جو اس کے گھر اور نبی پاک ﷺ کے روضہ رسولؐ پر جانے کی سعادت حاصل کرچکے۔ ورنہ زندگی کے مشاہدہ میں بہت سے ایسے لوگ آپ کو مل جائیں گے جن کے پاس ہر چیز کی فراوانی ہے لیکن وہاں جانے کی شاید تڑپ نہیں ۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔سب سے پریشان کن بات کہ منظوری نہیں ہو رہی ۔

جہالت اور حدود قیود سے بڑھ کر ہونے والی عقیدت سے جہاں تک ہو سکے بچیں، عبادات کی ادائیگی میں عام سے لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھریں ، تفرقہ بازی سے دور رہیں۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ دنیا کے سارے امام، ولی ، پیر، فقیر اور علمائے دین مل کر بھی کسی ایک صحابیؓ (اﷲ تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ کی تمام لغزشوں کو معاف کر دیا ہے اور وہ سب جنتی ہیں)کی شان کو نہیں پہنچ سکتے اور سب صحابہؓ اگر اکٹھے
ہوجائیں تو کسی ایک نبی ؐ کی شان کو نہیں پہنچ سکتے اور اگر سارے کے سارے نبیؐ پیغمبر اکٹھے ہو جائیں تو وہ ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ کی شان اور رتبے کو نہیں پہنچ سکتے۔ اﷲ تعالیٰ کی شان تو سب سے نرالی اور افضل ہے۔ جس کے ارادہ سے ہی دنیا قائم ہو گئی ۔ اﷲ عزوجل نے انسان کو اپنے ہاتھ اور مٹی سے اعلیٰ صورت میں پیدا کر دیا اس کی ساری ضروریات مٹی میں رکھ دیں اور مٹی نے ہی انسان کو ہمیشہ مدفون کی صورت میں جزا و سزا کیلئے قیامت تک اپنے اندر ہی رکھنا ہے۔

لہذا سطحی قسم کے عالم دینوں سے ہر ممکن حد تک بچیں ۔ اﷲ تعالیٰ کے علم ، قدرت اورکبریائی کو بالکل چیلنج نہ کریں کیونکہ اگر وہ اپنے گھر بیت اﷲ کی حفاظت ابابیل سے کروا سکتے ہیں تو اپنے ہی گھر کی امامت کیلئے اہلِ مکہ کو ہی کیوں کھڑا کرتے؟ دنیا میں ایک سے بڑھ کر ایک عالم دین موجود ہے۔اس چکر میں بالکل نہ پڑیں کہ ان کے پیچھے نماز ہوتی ہے کہ نہیں۔یہ یقین رکھیں کہ اﷲ کا فضل و کرم اور ہمارے نبی پاکؐ کی دعائیں ہر چیز پر حاوی ہیں۔ اپنے ایمان کی حفاظت کو مقدّم رکھیں ۔ اﷲ تعالیٰ نے جو علم اپنی قدرت اور طاقت سے پوری دنیا کو قیامت تک عطاکیاہے وہ تو بہت ہی کم ہے۔ ( جو علم تم کو عطا کیا گیا ہے وہ بہت ہی تھوڑا ہے)دنیا کے تمام اہلِ علم مل کر بھی الم (الف ۔ ل۔ م)کا ترجمہ کرنے سے قاصر ہیں ۔ اﷲ ہی پر بھروسہ کریں اور تقویٰ اختیار کریں ۔ گناہوں کا چھوڑنا بہت اچھی بات ہے لیکن گناہوں سے بچنے کا نام ہی تقویٰ ہے۔ لہذا اپنی اس مختصر سی فانی زندگی میں اس حج اور عمرہ کی فضیلت کو مدنظر رکھتے ہوئے تقویٰ اختیار کریں۔نہ جانے اس دھوکے والی زندگی کا کب اور کہاں خاتمہ ہوجائے اور ہمیشہ ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی کی سب سے زیادہ فکر کریں۔

نیز سفر حج و عمرہ میں پیش آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا چاہیے کیونکہ جس طرح اس کا اجر گھر سے روانگی کے وقت سے واپس گھر آنے تک برابر جاری رہتا ہے۔ اسی طرح مشکلات بھی اسی وقت سے شروع ہوجاتی ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عورت کا جہاد حج یا عمرہ ادا کرنا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو اتنی پریشانی تو اس سفر میں آئے گی جتنی پریشانی اور مشکلات جہاد کے میدان میں ہوتی ہیں۔

اﷲ تعالیٰ ہم سب کو قرآن و حدیث کی روشنی میں ان فرائض کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر اس سفر میں کی ہوئی تمام عبادات اور دعائیں قبول فرمائے۔ آمین یا رب العالمین ۔

نوٹ: یہ تمام مشاہدات میرے 2019 ء میں کیے ہوئے سفر کے ہیں کسی کی دل آزاری کرنا مقصود نہیں ، کسی غلطی کی صورت میں معافی کا طلبگار ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں