جواب سفر نامہ ……….. وہ بھی …………. ترکی بہ ترکی


تحریر ، مرزا ممتاز علی بیگ

ڈاکٹر اعجاز تبسّم کی تصنیف ’’ترکی بہ ترکی‘‘ پڑھی جبکہ زرعی یونیورسٹی ، فیصل آباد میں کتاب کی تقریب رونمائی دیکھی تو شوق پیدا ہو ا تھا کہ قسطنطنیہ کو دیکھا جائے ، میں نے کوشش کی اور جانا ٹھہرگیا ، لیکن شومئی قسمت کہ رمضان میں عمرہ کی ادائیگی کے بعد طاق راتوں میں وہاں جانے کا پروگرام فائنل ہوا۔

مصنف نے اپنی کتاب میں ترکی کا جو نقشہ کھینچا تھا اس کو پڑھ کر دل مچل رہا تھا کہ ترکی کو دیکھا جائے مگر دل میں ایک دھڑکا بھی لگا ہوا تھا کہ کہیں مکّہ اور مدینہ شریف میں لاکھوں نیکیاں کمانے کے بعد ہزاروں گناہ کما کر نہ لوٹوں ۔ بہر کیف ایمان اور تقویٰ کی رسی کو استقامت سے پکڑے ہم استنبول پہنچ گئے۔ وہاں کی پُر شکوہ عمارتوں نے ہمارا کھلے بازؤں کے ساتھ استقبال کیا۔

اب رہنمائے سفر یہ کتاب ہی تھی جو انہوں نے اپنی سٹڈی ٹور کے دوران عرق بیانہ کے ساتھ لکھی تھی اور انہوں نے سندھ کی معروف ادب نواز شخصیت سید احتشام الدین کی نذر کی تھی ۔ مصنف ہمہ دم متحرک ادبی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ تحریر و تصویر کے انتہائی گرویدہ ہیں۔ ممتاز سائنس دان ہوتے ہوئے حیرت ہے کہ بڑے ادیب بھی ہیں۔ ان کا اندازِ بیاں پُر لطف ہوتا ہے اور ہر موضوع پر لکھتے ہوئے ہمیشہ حیران کر دیتے ہیں۔ کالم نگاری سے بھی لگاؤ رکھتے ہیں اور کہیں کہیں سائنس کا دامن چھوڑے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ اب تک دس کے قریب کتب لکھ چکے ہیں۔ سوشل ،الیکٹرونک یا پرنٹ میڈیا ہوسائنٹیفیک انداز میں ادب لکھ لیتے ہیں۔ میں کافی پریشان تھا کہ ڈاکٹر اعجاز تبسّم نے تقریباً بیس سال پہلے ترکی کا سفر کیا تھا اور اس وقت وہ زیرِ تعلیم تھے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ابھی حاصل نہیں کی تھی۔لیکن کتاب 2019 میں چھپی تھی ، اخذیات بھی 1994 سے 2015 کے دیے ہوئے ہیں ۔مجھے خدشہ تھا کہ کہیں یہ سفرنامہ کسی خبرنامہ یا اخذیات کا حسین امتزاج نہ ہو۔

ان دو دہائیوں میں تو دنیا ہی بدل گئی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے انقلاب برپا کر دیا ہے شاید اسی کی مدد سے ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب کو بامشکل پایہ تکمیل تک پہنچایا ہوگاکیونکہ وہ زمانہ طالب علمی سے لکھنے کی جسارت کر رہے ہیں۔سائنس دان آنے پہ آئے تو کیا کچھ نہیں کر دیتا۔ ملکوں کی تقدیر بدل کر رکھ دیتا ہے ۔ڈاکٹر اعجاز تبسّم نے پی ایچ ڈی تو ایگریکلچر (PBG ) میں کی تقرری ان کی شعبہ گندم میں ہے مگر نوکری شعبہ شوگر کین میں کر رہے ہیں ان کا پسندیدہ ریسرچ ایریا جو (Barley) ہے۔ ارحم جو (Barley) کے مشہور برانڈ کے نام سے دیسی گندم دلیہ، دیسی دلیہ جو، دیسی جو کا آٹا ، پرل بارلے اور دیسی ستو کے اچھے بھلے فروخت کنندہ بھی ہیں اور بھرپور انداز سے رشتے کروانے میں بھی طبع آزمائی فرما رہے ہیں۔ ،میرا خیال ہے کہ مصنف پاکستان کی پہلی پی ایچ ڈی شخصیت ہیں جو رشتہ سازی جیسے کام سے بھی منسلک ہے ۔ اب تو ماشاء اﷲ پراپرٹی کے کاروبار میں بھی خوب قدم جما چکے ہیں ۔ رشتہ سازی کی صنعت میں ہم نے بھی ان سے مستفید ہونے کیلئے بہت سارے لوگوں کیلئے ان کی رہنمائی چاہی ،لیکن قسم ہے کہ انہوں نے ایک بھی رشتہ پایا تکمیل تک پہنچایا ہو ۔ ان سب باتوں کے باوجود کچھ نہ کچھ کرنے کیلئے ہر وقت بے تاب رہتے ہیں ۔ زرعی یونیورسٹی میں سٹار ایوارڈز اور قائداعظم گولڈ میڈل ایوراڈ کے بھی محرّک اعظم ہیں ۔ موصوف بھی ان کی رہنمائی سے مستفید ہو چکے ہیں۔

ترکی پہنچ کر میں نے سب سے پہلے مصنف کی کتا ب کی تصاویر کی مدد سے 1979 کے انقلاب ایران میں ہونے والے شہداء کی فہرست، تہران کے یادگار چوک میدان آزادی، امام خمینی کے مزار، شہر مشہد ،جمکران مسجد (قم)وغیرہ اور استنبول کی اہم شاہراہ پر ٹرام کو چلتے ہوئے دیکھنے کا فیصلہ کیا ۔ میں نے جن لوگوں سے پوچھا انہوں نے کہا یہ سب چیزیں ادھر نہیں ہیں یہ تو ایران میں ہیں ، ہاں چلتی ہوئی ٹرام آپ کو دیکھا سکتے ہیں۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ مصنف نے تو رنگین تصاویر ان مقامات کی لگائی ہوئی ہیں اور ہر منظر لذت کشید کرتا ہوا نظر آتا ہے اور کتاب کا نام ترکی بہ ترکی رکھا ہے۔ میں سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ شاید ایران بیس سال پہلے ترکی کا حصہ نہ ہو اب بنگلہ دیش اور پاکستان کی طرح الگ ہو گیا ہو ۔ میں نے مزید تحقیق کرنا اس لیے گوارا نہ کیا کہ اگر مصنف یہ کتاب بیس سال بعد چھپوا سکتے ہیں اور ترکی میں ہونے والی حالیہ بغاوت کا پسِ منظر اور خود کش جیکٹ کا تصور بیس سال پہلے بتا سکتے ہیں اور دوران اشاعت شادی، بیوی ،بچوں ، دوستوں اور دانشوروں کو بھی شامل کر سکتے ہیں تو پھر کتاب میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ حیرت ہوئی کہ دودھ میں پانی ملانے کا تو اکثر سننے میں آیا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کے بالکل برعکس ادبی کتابوں میں پانی کے ساتھ دودھ ملایا جاسکتا ہو۔ اس کا جواب ادبی دانشور یا مصنف صاحب ہی سائنس کی رو سے دے سکتے ہیں ۔

میرا صحافت اور پریس کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ تھا اور آج بھی ہے۔ آپ اسے بہن بھائی بھی کہہ سکتے ہیں جوکہ بہت زیادہ ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ قصہ مختصر ڈاکٹر اعجاز تبسّم کی کتابوں کے بارے میں صدرِ پاکستان سے لیکر قومی دانشوروں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ میں تو ان کی دیگر(۹) تصانیف کو پڑ ھ ہی نہیں سکا اس لیے ان کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہ کر سکا چونکہ ترکی بہ ترکی دیکھ کر ہی شوق پید اہو گیا کہ ترکی کی سیر بذریعہ ڈاکٹر تبسّم ہی کروں گا۔ مصنف کے ساتھ میرا ہمدم درینہ تعلق ہے مجھے ان کی شادی میں بھی شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا تھا ۔ اس وقت ان کو صرف اپنی دوبارہ سے شادی کی فکر تھی ، باقی سب جائیں بھاڑ میں۔اب تو انہوں نے بے حساب ، سینکڑوں کی تعداد میں رشتے بذریعہ (Counter-Part, Marriage Consultant) کرا دیے ہیں ۔

ہم نے ہوٹل میں پہنچتے ہی سامان رکھنے کے بعد سب سے پہلے استنبول کی ہوا خوری اور محسور کن خوشبو سونگھنے کا فیصلہ کیا ۔ لیکن بمطابق کتاب چند ڈالروں کی خاطر گولی کی زد میں آنے یا خنجر کے آرپار ہونے کا خوف بھی لاحق تھا لہذا میں نے ایک فیصلہ تو کر لیا کہ یہ ڈالر ساتھ رکھنے ہی نہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ڈالر میرے لیے درد سر بن جائیں ۔ غنڈوں اور لٹیروں کا خوف بھی ستانے لگا اپنی سیکورٹی کیلئے ہوٹل انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے میرا مذاق اڑانا شروع کر دیا ،میں کافی پریشان اور شرمندہ سا ہوا، فوراً اپنے کمرے میں گیا اور مصنف کی کتاب ’’ترکی بہ ترکی‘‘
اٹھا لایا اور ان کو زرعی یونیورسٹی کے مایہ ناز سپوت کا ابتدایہ پڑھ کر سنایا یقین جانیئے ان کی ہنسی نہیں رک رہی تھی کیونکہ ان کو تو انگلش بھی اچھی طرح نہیں آتی تھی ادبی اردو خاک سمجھ آنی تھی مجھے اپنی غلطی کا فوراً ہی احساس ہوگیاتھا۔ پھر جب میں نے ان کو کسی نہ کسی طرح یہ سمجھا دیا کہ گولی ، خنجر اور لوٹنے کا ڈر ہے تو انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ ایسی کوئی بات نہیں آپ اکیلے بڑے سکون کے ساتھ ہوا خوری کر سکتے ہیں کیونکہ ہر سال ترکی میں تقریباً پانچ کروڑ سیاح آتے ہیں اور اگر کوئی ملک پر امن نہ ہو تو سیاح اُدھر کا رُخ تک نہیں کرتے۔

بس آبیل مجھے مار یعنی کلب،یو نیڈ گرل ، مساج اور صنفِ نازک جیسے چکروں میں نہیں پڑنا۔ میرا حوصلہ بڑھ گیا ۔ کافی سوچ بچار کے بعد میں نے استنبول کی سیر کیلئے کتاب کا دامن چھوڑنے کا اصولی اور آخری فیصلہ کر لیا تھا لیکن یہ طے نہیں کر پا رہا تھا کہ اس کتاب کا اب کیا کیا جائے۔یکا یک ہوٹل کے استقبالیہ میں ایک مہذب ترکش حسینہ نظر آئی اور وہ میرے قریب ہی آکر بیٹھ گئی۔ اندازاً عمر بیس سال کے لگ بھگ ہوگی۔ میں نے سلام کے بعد کتاب اس کے حوالہ کر دی اس نے انگریزی میں میرا شکریہ ادا کیا مجھے خوشی ہوئی کہ کم ازکم ہمارے جتنی انگلش تو وہ جانتی ہے ۔ جب میں نے اس کو بتایاکہ یہ کتاب آپ کی پیدائش سے پہلے کیے ہوئے سفر نامہ کی ہے اور اس کی تکمیل ابھی ہوئی ہے ، تو اس کی خوشی قابلِ دید تھی میں نے یہ پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھا کہ آپ اتنی زیادہ خوش کیوں ہیں۔ میرا خام خیال ہے کہ شاید وہ سوچ رہی ہو کہ میری پیدائش سے پہلے لکھی گئی کتاب میری جوانی میں میری شادی ہونے اور بچوں کی پیدائش کے بعد مجھے مل رہی ہے یقینا یہ نسخہ کیمیاء ہی ہوگی ۔ اب کتاب ’’ترکی بہ ترکی‘‘ کا بوجھ میں نے اپنے کندھوں سے اتار کر ترکش حسینہ کے کندھوں پر ڈال دیا وہ جانے اور اس کا کام جانے۔ ہوٹل کے قریب ترین جگہ ٹاکسم سکوائر تھا۔سیر کیلئے سب سے پہلے وہیں پڑاؤ ڈالا ۔ منتظر رہا کہ کوئی آئے اور میرے ہاتھ کو رازداری سے دباتے ہوئے مجھے کہے ہائے مسٹر پاکستانی لیکن میں بس منتظر ہی رہا۔ کوئی ایسا واقعہ رونما نہ ہوا۔

اپنے قیام کے دوران میں نے استنبول میں مزارِ حضرت ابو ایّوب انصاریؓ اور کونیہ (Konya) میں مولانا روم کے مزار کو قریب سے دیکھا اور ان کے لئے فاتح خوانی کی ۔اس کے علاوہ 1453 ء سے قائم استنبول یونیورسٹی ، بیلو مسجد (سلطان احمد) ، مارمارا یونیورسٹی ، استنبول بک فیئر میلہ، میوزیم آف ترکش اینڈ اسلامک آرٹ، آیا صوفیا میوزیم ، ٹاپ کاپی سرائے میوزیم، خاص ہیکی حمام، باتانِ سرنجی (زیرِ زمین تالاب)، ڈولما پاشا محل ،بافورس کروزشپ اور پرنس جزائر کی سیر ، انونو کے مقام پر تازہ اور لذیز فش کے ساتھ ڈنر، گرینڈ بازار، گلاٹا ٹاور، فلائی رائڈ استنبول، ٹاکسم سکوائر، استقلال سٹریٹ، کراکوئے (کالے شاہ والا پنڈ یعنی گاؤں)، قباتش ۔ باجیلر( بہنوں والا پنڈ یعنی گاؤں)، اورتاکائے(درمیان والا گاؤں) کے مقام پر باسفورس جھیل پر ایشیاء اور یورپ کو ملانے والا پُل، استنبول کے دونوں ایئرپورٹس(اتاترک اور صبیحہ گوکجن ایئرپورٹ)، استنبول فورم(مال) یہاں پر دنیا کے تمام نامی گرامی برانڈز کی دکانیں موجود ہیں جن کی میں نے خوب سیر کی۔

ڈاکٹر صاحب کی صحافت پر گرفت کافی مضبوط ہے انہیں چاہیے تھا کہ وہ کتاب چھپوانے سے پہلے پھر ترکی جاتے اور سب کچھ دل کی کھلی آنکھوں سے دوبارہ دیکھتے ۔لہذا میں نے سیر کے بعد کتاب اور استنبول کی موجودہ صورت حال میں جو فرق محسوس کیا اس کو مد نظر رکھتے ہوئے مصنف کو جوابِ سفر نامہ ’’ترکی بہ ترکی‘‘ دینے کا فیصلہ کر لیا ۔

پانچ دن کے قیام کے دوران جہاں بھی جانا ہوتا ٹاکسم سکوائر سے گزر کر جاتا لیکن مجھے من چاہی عمر والی دوشیزہ کی کوئی دعوت نہ ملی جو بہت اچھی بات تھی وگرنہ انسان تو ہمیشہ غلطی اور کوتاہی کا پتلہ ہوتا ہے۔ ’’دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا‘‘ جبکہ میرے اندر سے یہ خواہش تھی کہ بمطابق کتاب شہد سے بھرپور ہونٹ، صراحی دار گردن ، سمندری آنکھیں ، ملاحت والے جسم، سراپا مٹھاس، نشیلے نقش، ریشمی بدن والی کوئی تتلی کم ازکم نظر تو آجائے لیکن بھرپور کوشش کے باوجود یہ ممکن نہ ہوسکا۔ ڈاکٹر صاحب کی دیدہ دلیری کو سلام کرنے کو دل چاہتا ہے کہ گولی اورخنجر کی موجودگی میں انہوں نے اُس وقت دو شیزاؤں کے سوداگر کو اپنی ماں بہن لانے کا کہہ دیا ۔ان کی جرات قابل دید ہی ہوگی۔
خدا کرے تبسم تمہیں نظر نہ لگے
لکھا ہے خوب ، اس کا اجر تم کو ملے

سائنس میرا فیلڈ نہیں لہذا ترکی میں ایگرو انوائرنمنٹ سیمپوزیم میں مصنف نے جو باتیں ماحولیاتی عدم توازن ،قدرتی آفت کے وقوع پذیر ہونے کی نشانی ،رسٹ واچ کا عقیدہ ، شناسائی کا بم ، ذہنی بالیدگی کا پیمانہ ، زمینی درجہ حرارت کا بڑھنا ، گلوبل وارمنگ ، دل کا موسم ، مجبوری اور ترکی میں زلزلوں کو اخلاقی پن سے جوڑنا جیسے ایشوز پر کی ہونگی وہ بہتر ہی ہونگی۔

غیر ملکی سفر کیلئے پاسپورٹ بہت اہمیت کا حامل ہوتاہے مصنف سے وہ بھی گم ہو گیا اور باوجود کوشش کے نا مل سکا وہ اس موقع پر بھی ڈرامائی انداز میں بچ گئے۔ لیکن پاسپورٹ کی طرح اپنے رفقاء کو بالکل نہیں بھولے ان کا ذکر اپنی کتاب میں سائنسی انداز میں ادبی چاکلیٹ لگا کر کیا ،اکثر کو میں جانتا بھی ہوں اس بارے میں کچھ نہ ہی کہوں تو بہتر ہوگا چلو ایسے کہہ لیتے ہیں کہ مجھے چاکلیٹ بالکل پسند نہیں ہے ۔
ڈاکٹر صاحب نے میٹھے رنگ کی خوبرو کا بولنا ، سنگل بیڈروم، زہر ترکی نظارے، سفیدی مائل میٹھے رنگ کی خوبرو برقعہ پوش ، یو رپین دوشیزاؤں سے بچاؤ، جوان لڑکیوں کے ساتھ جانے کا ڈر، بس کی تبدیلی ، پاکستانی بتانے میں احتیاط، صباء کے دوستوں کے ساتھ الجھن، فلیش بیک، ترکی پر پہلا قدم ، بالغ بننے پر مجبور ہونا، آنکھ کا بند کرنا اور دوشیزاؤں کا میلا ہونا ،دل کے موسم، ساتھ دینے کی خواہش، بیلو مسجد ، آیا صوفیہ و توپ کاپی سرائے میوزیم پر اچھے پیرائے میں اظہار کیا ہے۔باسفورس جھیل پر ایشیاء کو یور پ سے ملانے والے پُل کی بیس سالہ پرانی تصویر لگائی ہے جبکہ اب وہاں پر دو براعظموں کو ملانے والے پُل کو جدید ٹیکنالوجی سے مزّین کر دیا گیا ہے ۔ اس پُل کو 2016 ء میں فوجی بغاوت کو ناکام بنانے اور جمہوریت کیلئے قربانی دینے والے لوگوں کے نام سے بھی منسوب کر دیا گیا ہے۔

اپنے مرشد پاک مفتی امین صاحب کو استنبول میں خواب میں ملنے اور یہ نصیحت کہ اپنی آنکھوں کی حفاظت کرنا بہت ہی اچھی بات کہی تھی کیونکہ ترکی جیسے آزاد اور سیکولر ملک میں سب چلتا ہے۔ ان کی کتاب کا سب سے دلچسپ اور رومانوی باب میڈم طاری کا لگا۔ وہ اپنے مرشد پاک کی نصیحت کے باوجود مساج سنٹر جانے کی کامیاب جسارت کرتے ہیں کیونکہ بقول ان کے وہاں سانس لینا بھی محال ہوتاہے۔ اوپر سے اپنے جسم کی سپردگی وہ بھی صنفِ نازک کے ہاتھوں میں ۔ ان کا عجیب و غریب شیطانی سوچ کے ساتھ اس ماحول کا دیکھنے کا اصولی فیصلہ کرنا اورفُل باتھ کے کمرہ نمبر F-4 کیلئے پوری پیمنٹ کی ادائیگی وہ بھی سٹوڈنٹ لائف میں بڑے ہی حوصلے کی بات ہے۔ مساج سنٹر کے ہر کمرے کو اندر سے بغور دیکھنا اور زرعی یونیورسٹی کے اپنے جیسے ہی ساتھیوں کو دیکھ کر بھی واپس نہ آنا ان کی جستجو کی عکاسی کرتاہے۔

22 سالہ میگی کو ملنا اس کو مکمل برہنہ ہونے سے روکنا پھر اس (ہاٹ مساج سنٹر) کی مالکہ کا آجانا اور اپنے مساج سنٹر کے پچاس سالہ کاروبار کا بتانا کہ یہ ایک ایسا کاروبار ہے جو 24 گھنٹے چلتا ہے اور پورا سال چلتا ہے۔ڈاکٹرصاحب کی مساج سنٹر کے اندر تبلیغ سے میڈم طاری کا ریزہ ریزہ ہونا اور اس کے قبیلے پر اثر انداز ہونا اس وقت کے بُرے ماحول پر بہت بڑی بات تھی۔

میڈم طاری کے اگلے دن ملنے کی خواہش پر مصنف کا ہاتھ پاؤں کا من من ہونے اور خوف کے سائے میں وہاں جانا دلیرانہ بات تھی۔ ایسے بے رحم طالب علم کی جرا ت کو اگر سلام پیش نہ کیا جائے تو ناانصافی ہوگی۔ میڈم طاری کے مساج سنٹر کا نہ ملنا اور اس کی تلاش میں تمام مساج سنٹروں کے اندر جھانکنا اس سے بھی بڑی دلیری کی بات تھی ۔مصنف کا اس یقین کے ساتھ جانا کہ میڈم طاری کو ضرور ملناہے اور میڈم طاری کو بھی یہ یقین سا ہوجانا کہ ڈاکٹر صاحب ضرور آئیں گے۔ اچانک ملاقات کا ہوجانا اپنے تمام عملے کے ساتھ مساج سنٹر جیسے پچاس سال سے چلتے ہوئے کاروبار کو چھوڑتے ہوئے پھولوں کے گلدستے پیش کرنا بھی بھرپور محبت کا اظہارتھا۔ ڈاکٹر صاحب نے میڈم طاری کو آنٹی طاری تک کا پاک سفر طے کرادیا تھا۔ مصنف اور آنٹی طاری کی ذہنی فریکونسی کا ایک ہونا، صحیح انڈرسٹینڈ کرنا، ہر موقع پر اتفاقیہ مل جانا، میڈم کا ڈاکٹر صاحب کی سوچوں کو اپنے اوپر طاری کرنا، ترک معاشرے کو تبدیل کرنے کی کوشش اور میڈم طاری کے ذہنی قبیلے کو بدل کر رکھ دینا بہت کمال کی بات تھی۔
اعجاز کا یہ اندازِ تکلم
واﷲ! بڑی بات ہے سوغات ، ہے اعلیٰ

پچاس سال عمر کے واضح فرق کے باوجود اپنا اور دوست لگنا خوش العین تھا۔ میڈم نے اپنی غلاظت کی نشاندہی ، اندر سے بیداری ، حلال اور حرام کی تمیز ، دل کا قبلہ بدلنے کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کو اپنا پیرومرشد مان لیا تھا۔ اس قربانی کے صلہ میں ڈاکٹر صاحب کو بھی چاہیے تھا آنٹی
طاری کو آنٹی کی بجائے والدہ کا درجہ دیتے اور اپنی کوشش کے بدلہ میں اب تبدیل ہونے و الی با پردہ 22 سالہ میگی کو اپنی بہن بناتے۔

وہ وقتِ آخر بھی آگیا جب مصنف صاحب استنبول بس ٹرمینل پر پاکستان واپسی کیلئے پہنچ گئے پھر وہ کمال ہوگیا جس کا ہم تصور ہی کر سکتے ہیں۔ آنٹی طاری اور ان کا وہ کنبہ جو ڈاکٹر صاحب کی خیالی دریافت تھے اچانک بس ٹرمینل پر ایک انتہائی خاص تحفہ دینے کیلئے نمودار ہوگئے۔ مصنف کے پیار کے عظیم اثرات کو محسوس کرتے ہوئے آنٹی طاری نے شفقتِ مادر سے ڈاکٹر اعجاز تبسّم کوپیار کیا۔ آنٹی طاری نے یونیورسٹی کے ان اساتذہ کو (جنہوں نے مصنف سمیت پتہ نہیں کتنے ہی طلبا ء کی تشکیلِ کردار میں اہم کردار ادا کیا تھا) سلام پیش کیا۔ سب سے اچھی بات یہ تھی کہ استنبول میں وہ الوداعی پارٹی جس میں آنٹی طاری، مصنف اور پانچ براعظموں کے لوگ شامل تھے ان میں سے کسی ایسے پاکستانی اساتذہ کو نہیں دیکھ لیا جو سب سے بے خبر محوِدنیاتھے اور تھرکتی جوانیوں کا بوسوں بھرا رقص کر رہے تھے۔

ڈاکٹر تبسّم کی ناانصافی دیکھیں کہ جب والدہ محترمہ جیسی شفقت سے بھرپور آنٹی طاری نے ایک تحفہ خاص اپنی بھتیجی جس کا نام ’’مرت‘‘تھا جوکہ تراکیہ یونیورسٹی کی طالبہ بھی تھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ڈاکٹر صاحب کے سپرد کر نا چاہا لیکن انہوں نے اسے قبول ہی نہ کیا۔ آنٹی طاری کی شدید خواہش تھی کہ میر ی بھتیجی پاک سرزمین ، پاک یونیورسٹی ، پاک معاشرے ، پاک روحوں، پاک لوگوں اور محترم ڈاکٹر اعجاز تبسّم کے ساتھ رہے۔ میرے خیال میں مصنف نے ان کی قربانیوں کا صلہ اچھے انداز میں نہیں دیا حالانکہ ان جیسی شخصیت ترک اور پاکستانی قوم کے درمیان بالکل اسی پل کی طرح جو ایشیا اور یورپ کو ملاتا ہے کا کردار ادا کر سکتے تھے وگرنہ اب یہ تعلق ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوچکا ہوتا۔

نوٹ: ڈاکٹر صاحب کے عزیزوں ، دوستوں ، دانشوروں سے جنہوں نے ان کی کتابوں پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور بطورِ خاص اپنے استاد پروفیسر ریاض قادری سے معذرت کے ساتھ جو میں نے پڑھا،دیکھا، محسوس کیا ، سوچا وہ معافی اور اصلاح کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ضابطہ تحریر کر دیا تاکہ بوقتِ ضرورت سند رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں