پی سی بی میں کپتان سرفراز اور کوچی مکی آرتھر کیخلاف عدالت لگ گئی، کیا پوچھا گیا ؟؟؟

کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں پاکستانی ٹیم کی فائنل فور میں رسائی نہ ہونے پر ابھی تک پوسٹ مارٹم جاری ہے اور اس حوالے سے پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کی اندرونی کہانی اب منظر عام پر آ گئی ہے – جس کے سربراہ ایم ڈی وسیم خان ہیں جبکہ ممبران میں لیجنڈ کرکٹرز وسیم اکرم، مصباح الحق، مدثر نذر، ذاکر خان اور عروج ممتاز شامل ہیں –

میڈیا رپورٹس کے مطابق پی سی بی کے رکن اور سابق کپتان نے سرفراز احمد سے سوال پوچھا کہ آپ نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کیوں کی۔ اگر فیصلہ سمجھ نہیں آرہا تھا تو آپ مجھ سے فون کرکے پوچھ سکتے تھے۔ پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔وسیم اکرم سرفراز احمد سے سوال پوچھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کے موقف کی بھی حمایت کررہے تھے۔اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کے قریبی دوست وسیم اکرم، مدثر نذر اور ذاکر خان بھی موجود تھے۔ عمران خان نے بھی بھارت کے خلاف میچ سے قبل سرفراز احمد اور مکی آرتھر کو پہلے بیٹنگ کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ہیڈ کوچ اور کپتان کو اسی حوالے سے زیادہ سوالات کا سامنا رہا۔ کمیٹی پہلے مرحلے میں کوچنگ اسٹاف کے حوالے سے تجاویز تیار کر رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کرکٹ کمیٹی کے اجلاس میں کپتان سرفراز احمدسے ان کی کپتانی اور انفرادی کارکردگی کے حوالے سے زیادہ سوالات ہوئے۔ پی سی بی کرکٹ کمیٹی نے میٹنگ کے دوران یہ تاثر بھی دیا کہ پاکستان ٹیم کے سینئر کھلاڑی محمد حفیظ اور شعیب ملک ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔اسی طرح کرکٹ کمیٹی نے زیادہ تر فوکس کوچز پر رکھا ان کے بارے میں سوالات کئے گئے۔ ورلڈ کپ میں قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی کے سوال پر ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر پاکستان کرکٹ بورڈ کو مطمئن نہ کرسکے۔

سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق مکی آرتھر نے شاداب خان کا نام مستقبل کے ٹی ٹوئنٹی کپتان کیلئے تجویز کردیا۔ کپتان اور کوچ نے ورلڈکپ میں ٹیم کی کارکردگی کو تسلی بخش قراردیا۔ اسی طرح سابق چیف سلیکٹر انضمام الحق کا کہنا تھا کہ بطور چیف سلیکٹرمیں نے اور پوری سلیکشن کمیٹی نے نیک نیتی کے ساتھ کام کیا۔ مکی آرتھر نے ٹیم کی ورلڈ کپ میں خراب کارکردگی کی وجہ فیلڈنگ اور کیچ ڈراپ ہونے کو قرار دیا –

میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس کی کارروائی کے جو معاملات سامنے آئے اس سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ بورڈ بڑے فیصلے کرنے بارے سوچ رہا ہے اور سب سے پہلے سرفراز کو تینوں فارمیٹس کی کپتانی میں سے کسی ایک کی قربانی دینا ہو گی جس کے بعد دیگر معاملات پر نظرثانی کی جائے گی –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں