حکومت مودی کو بے نقاب کرنے کی بجائے پی پی اور ن لیگ سے انتقال لے رہی ہے، بلاول

حکومت پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے جبکہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر انتہا پسند مودی کو بےنقاب کریں اور ہم آواز ہو کر اس کے خلاف بولیں اس وقت (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی سے انتقام لیا جارہا ہے- ‘اپوزیشن کے مطالبے کے بعد کشمیر کے معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا اور اجلاس میں تنقید کے بعد کمیٹیاں قائم ہوئیں، ہمارے کشمیر پہنچنے کے بعد حکومتی نمائندے وہاں پہنچے، اس سے قبل کوئی وفاقی نمائندہ وہاں نہیں پہنچا تھا۔’ ان خیالات کااظہار پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں میڈیا نمائندگان سے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کیا-

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘کشمیری قیادت نے وزیر اعظم عمران خان کو دورے اور وہاں کی قانون ساز اسمبلی میں خطاب کی دعوت دی تھی، وہ دو دن تک انتظار کرتے رہے لیکن وزیر اعظم وہاں گئے ہی نہیں۔’ ، بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ ‘ہم حکومت کی ناکامی، نالائقی اور نااہلی ہر چیز میں برداشت کر سکتے ہیں لیکن کوئی پاکستانی کشمیر پر سودا برداشت نہیں کرے گا، حکومت کو وضاحت کرنی پڑے گی کہ وہ اس معاملے پر کیا کر رہی ہے، وزیر اعظم کو جواب دینا پڑے گا کہ انہوں نے ایک انٹرویو میں کیا اور کیوں کہا تھا اور وہ سب کیوں ہو رہا ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘ہر پاکستانی کشمیر کے مسئلے پر متحد ہے، اس وقت جب ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم سب مل کر انتہا پسند مودی کو بےنقاب کریں اور ہم آواز ہو کر اس کے خلاف بولیں اس وقت (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی سے انتقام لیا جارہا ہے اور جس دن کشمیر کی خبر سب سے بڑی خبر ہونی چاہیے تھی اس دن مریم نواز کی گرفتاری کی خبر سب سے بڑی بن جاتی ہے – ‘بزدل حکومت نے آدھی رات کو فریال تالپور کو ہسپتال سے جیل منتقل کیا جو قانون کے خلاف اقدام تھا کیونکہ قانون کے مطابق کسی کو شام 5 بجے کے بعد جیل منتقل نہیں کیا جاسکتا، حکومت کے ایسے اقدامات سے ہمیں یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے پر قومی یکجہتی چاہتی ہی نہیں اور حکومت قومی یکجہتی کو سبوتاژ کر رہی ہے – ایک مرتبہ پھر دعوی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘یہ اتنے چھوٹے لوگ ہیں کہ انہوں نے سابق صدر آصف علی زرداری کو درخواست کے باوجود عید کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی، سزائے موت کے قیدی کو بھی نماز کی ادائیگی کا حق حاصل ہوتا ہے، یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی کارروائیاں کرکے یہ ہمیں توڑ سکتے ہیں لیکن شہادتیں دینے والا خاندان کٹھ پتلی حکومت کے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے نہیں جھکے گا۔’

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ‘آزاد کشمیر میں مجھ سے یہ سوال پوچھا جارہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے یکطرفہ فیصلے میں آپ کی حکومت اور وزیر اعظم تو شامل نہیں، کیونکہ انہوں نے نہ کوئی ٹھوس پیغام دیا، نہ کوئی اعلان کیا، نہ کوئی حکمت عملی پیش کی اور وقت میں بھی حکومت کی اس قسم کی سیاسی انتقامی کارروائیاں جاری ہیں – ‘کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی ہر طرح سے آزادی ہے، کسی ایک کاغذ کر دستخط کرکے یا کسی نالائق وزیر اعظم کے غلط فیصلے کی وجہ سے کشمیر کاز کو ہم کبھی نقصان پہنچانے نہیں دیں گے۔

میڈیا نیوز کانفرنس کے دوران بلاول نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دئیے اور کل یوم جشن آزادی کو یوم آزاد کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان بھی کیا –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں