عیدالاضحی اور ھم …… (تحریر ، لیاقت سردار)

میڈیاانڈسٹری میں بڑے پیمانے پر چھانٹیوں،ھزاروں ورکرز کی بے روزگارری،مالکان کی تنخواہوں کی بروقت اداٸیگی میں مجرمانہ غفلت،ڈھٹاٸ اور سول مارشل لا۶ کی پابندیوں نےپہلے عیدالفطر پر خوشیوں پر ماتم کرنے اور اب عیدلاضحی پرقربانی کا بکرا بننے پر مجبور کر دیا 90 فیصد میڈیا سے وابستہ افراد اھم مذہبی تہواروں کے موقع پر ایثار وقربانی سے سرشار جذبات کے ساتھ حکمرانوں اور میڈیا مالکان کے ظالمانہ اقدامات اور فسطاٸ ہتھکنڈوں پر ماتم اور چھریاں پھیرنے پر مجبور ھیں بڑے افسوس اور دکھ کے ساتھ یہ کہنے کی جسارت کر رھا ھوں کہ میڈیا سے وابستہ ہمارےصحافی نما وڈیرے اور لیڈر تواتر کے ساتھ مبارک باد کے پیغامات خوبصورت انداز میں پوسٹ کرنے میں مشغول عمل ھیں حالانکہ اس موقع پر بے روزگار، بے حال اور کٸ ماہ سےتنخواہواں کی عدم اداٸیگی کا شکار ورکرز سے اظہاریکجہتی اور ظالم حکمرانوں،میڈیا مالکان کے خلاف آ واز اٹھانی چاٸیے تھی-

اس انتہاٸی نازک موقع پر آج جتنی بلند آواز اٹھانے کی ضرورت ہے پہلے نہیں تھی یہ حقیقت اپنی جگہ پر ھے کہ جس طرح ملکی سطع پر قیادت کا بحران ھے ویسی ہی صورتحال میڈیا سے وابستہ تنظیموں اور دوسرے اداروں میں بھی ھے کمپروماٸزز اصولوں پر کٸے جاتے ہیں ذاتی مفادات اور اقتدار کو طول دینے کے لٸے نہیں جب گھی بیچنے والے سکول چلانے والے،منشیات کا کاروبار کرنے والے اور کرپٹ سرمایہ کار چینلز کے مالکان بن جاٸیں اور ایسے نام نہاد صحافی جھنوں نےاسکولوں کالجز، یونیورسٹیز کی شکل بھی نہیں دیکھی ھو اور وہ اھم عہدوں پر فاٸز ھو جاٸیں تو پھر یہ وقت دیکھنا پڑے گا ایسے چند درجن عناصر اگر وقتی طور پر بے روز گار ہو بھی جاٸیں تو ان کی جیبوں پر اثر نہیں پڑتا ایسے بھی ھیں جو بغیر تنخواہ اور معاوضے کے کام کر رہے ھیں آج ہمیں نثار عثمانی مرحوم جیسے لیڈر کی اشد ضرورت ھے وہ نثار عثمانی جس نے بھٹو کو للکارہ فوجی اور سول آمروں کو ان کی اوقات بتاٸی میڈیا مالکان کی ٹانگیں ان کے سامنے کانپتی تھیں-

ایک بڑے انگریزی اخبار کی مالکن کو ان کے قدموں میں بیٹھے دیکھنے کے عینی شاید آج بھی زندھ ھیں کیا اس وفت کی لیڈر شپ کو حکومتوں اور میڈیا مالکان کی جانب سے ذاتی آفرز نہیں کی گٸی ھوں گی لیکن انھوں نے ورکرز کے مفادات کو ترجیح دی آج جو کچھ ھو رھا ھے وہ روز روشن کی طرح عیاں ھے جو باعث شرم ھے کہ ھم نثار عثمانی اور منہاج برنا کے پیرو کار ھیں اور جو بھی ان کا نام استعمال کر کےصحافیوں اور انڈسٹری سے وابستہ ورکرز کے مفادات کا سودا کر رھا ھے یہ گھناٶنا فعل ان ہستیوں کی قربانیوں کے ساتھ سراسر زیادتی کے مترادف ھے اب وقت آگیا ھے کہ نثار عثمانی اور منہاج برنا کے ناموں پر چورن بیچنے کاسلسلہ بند کیا جاٸے کسی اور نام سے سیاسی دکانداری چمکاي جاٸے میڈیا سے وابستہ ہمارے دوست آ ج جس کرب سے گزر رھے ھیں وہ ناقابل بیان ھے لیڈر شپ کا فقدان، چند عناصر کی انا اور ذاتی مفادات کی سزا ھزاروں کارکنان بھگت رھے ھیں ورنہ کیا مجال کہ میڈیا مالکان اور سول ڈکٹیٹرز اپنی من مانیاں چلاتے، اللہ وقت کے فرعونوں سے نجات دلاٸے آمین-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں