نیب نئی گرفتاریوں کے لئے متحرک ، کونسے حکومتی اور اپوزیشن رہنما قابو میں آ سکتے ہیں؟؟

نیب حکام کی جانب سے احتساب کے عمل میں تیزی لائی جارہی ہے جس کے تحت نیب ہیڈکوارٹرز میں نئے “مہمانوں” کے لئے کمرے تعمیر کروا لئے گئے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ نئی گرفتاریوں میں حکومتی وزرا اور رہنما بھی شامل ہو سکتے ہیں – اس حوالے سے سینئر صحافی صابر شاکر کا کہنا ہے کہ احتساب کے عمل میں تیزی آگئی ہے، آصف زرداری کو اڈیالہ منتقل کردیا گیا، نیب جیل میں جگہ کی قلت کے باعث گرفتاریاں رکی ہوئی تھیں، نیب نے پانچ کمرے مزید بنا لیے ہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں اپنا تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں احتساب کے عمل میں عید کی چھٹیوں کے بعد تیزی آگئی ہے۔آصف زرداری کونیب کی جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ان کو خصوصی سیل میں رکھا جائے گا۔ ان کوبنیادی سہولیات کی درخواست پر ابھی فیصلہ ہونا ہے۔اڈیالہ جیل میں تب تک رہیں گے جب تک چلان نہیں ہوجاتا،ان کے ساتھ ملوث تین ملزم پلی بارگین کرچکے ہیں۔لیکن زرداری کو اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔آصف زرداری کو سکیورٹی خدشات کے باعث نیب جیل میں رکھا گیا تھا، نیب کا پورا علاقہ سکیورٹی کے حوالے تھا، ان کی تحقیقات بھی چل رہی تھی۔نیب کے کیسز بہت زیادہ پائپ لائن میں ہیں، لیکن آصف زرداری چونکہ نیب جیل میں تھے اس لیے وہاں جگہ نہیں تھی، اب بہت سارے ملزمان کی گرفتاری کا وقت آچکا ہے۔نیب نے چارپانچ کمرے اور بھی بنائے ہیں، تاہم جگہ کی کمی کی وجہ سے ملزمان کی گرفتاری کا سلسلہ رکا ہوا تھا۔اگلے ہفتے میں اگست میں گرفتاریوں میں تیزی آئے گی،پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن اور دیگرلوگ ہوں گے۔

انہوں نے اس بات کا بھی امکان ظاہرکیا کہ خیبرپختونخواہ اور وفاق میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے مشیر، معاون خصوصی، وزیریا رکن قومی اسمبلی بھی گرفتار ہوسکتے ہیں۔خاص طور پر مسلم لیگ نوازکے کچھ لوگ جوبہت زیادہ بول رہے ہیں، پہلے سی پیک کے پیچھے چھپے ہوئے تھے،اب کشمیراریشو کے پیچھے چھپ رہے ہیں،جیسا کہ احسن اقبال ، نیب ان کو اب گرفت میں لے گا۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے اس بارے رد عمل نہیں دیا گیا جبکہ احسن اقبال پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان کا دامن صاف ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں