” امن کیلئے جنگ ضروری ہے “ ….. (تحریر ، سید سلیم گردیزی)

Can We Afford Another Train Missed?
ستائیس اکتوبر انیس سو سنتالیس کو جب بھارت نے ایک فضائی آپریشن کے ذریعے اپنی فوج سرینگر میں اتاری تو سرینگر کے نواح میں شال ٹینگ تک کا علاقہ مجاہدین کے قبضے میں تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے بھارتی فوج کی پیشقدمی روکنے کے لیے افواج پاکستان کے سربراہ جنرل گریسی کو فوری طور پر اپنی فوج کشمیر بھیجنے کا حکم دیا۔ اس وقت جنرل آرکنلیک پاک بھارت افواج کے مشترکہ کمانڈر انچیف تھے جن کا ہیڈ کوارٹر دہلی میں تھا۔ جنرل آرکنلیک نے پاکستانی فوج کشمیر بھیجنے کی صورت میں تمام برطانوی افسروں کو واپس بلوانے کی دھمکی دی جس کے باعث اس وقت پاکستانی فوج کشمیر نہ بھیجی جا سکی۔

چند ماہ بعد جب بھارتی فوج نے مجاہدین کو پسپا کرتے ہوئے اوڑی سے اس طرف دھکیل دیا تو آزادکشمیر کا وجود بھی خطرے میں نظر آنے لگا۔ اس بار جنرل گریسی نے قائد اعظم کی خدمت میں ایک نوٹ بھیجا جس میں پاکستانی فوج کشمیر میں تعینات کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ قائداعظم نے ان ریمارکس کے ساتھ جنرل گریسی کو فوج کشمیر میں تعینات کرنے کی اجازت دی-

Now you have missed the train.
اس مس کردہ ٹرین نے پاکستان کے در پر دوبارہ اس وقت دستک دی جب انیس صد باسٹھ میں نیفا کے محاذ پر چینی افواج نے بھارت کو تگنی کا ناچ نچانا شروع کر دیا۔ بھارت نے کشمیر سے اپنی فوج نیفا کے محاذ پر چین کے مقابلے میں جھونک دی۔ یہ موقع تھا کہ کہ پاکستان بغیر کسی مزاحمت کے، فوجی پیشقدمی کر کے کشمیر حاصل کر سکتا تھا اور چین نے اس کی دعوت بھی دی تھی لیکن پاکستان نے ناعاقبت اندیش ڈکٹیٹر نے یہ سنہری موقع ضائع کیا اور امریکہ کے بہلاوے میں آ کر بھٹو سورن سنگھ مزاکرات کا طویل اور لایعنی سلسلہ شروع کر دیا۔ جنگ سے چھٹکارہ پانے کے بعد بھارت نے حسب عادت پاکستان کو ٹھینگا دکھا دیا۔ پاکستانی حکمرانوں کو جب احساس ہوا کہ وہ بس مس کر چکے ہیں تو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق آپریشن جبرالٹر جیسا احمقانہ آپریشن لانچ کر دیا جس کی نہ کوئی سپلائی لائن تھی، نہ کمیونیکیشن نیٹ ورک اور نہ اندر مقبوضہ کشمیر میں کوئی زمینی تیاری اور لاجسٹک سپورٹ کا انتظام۔ اس کے باوجود آپریشن میں شریک جوانوں نے بارتی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تو بھارت نے لاہور پر حملہ کر دیا اور سترہ روزہ پاک بھارت جنگ کا نتیجہ معاہدہ تاشقند کی شکل میں نکلا۔ جس مسئلے کو تاشقند کے برفزار میں فریز کیا گیا، اس کے تابوت میں کیل معاہدہ شملہ کی صورت میں ٹھونکی گئی۔

پاکستان کی طرف سے مواقع ملنے کے باوجود بروقت فیصلہ کن اقدام نہ ہونے کے باعث مسئل سرد خانے کی نظر ہو گیا تو پھر کشمیری عوام نے از خود اس مسئلے کو زندہ کیا۔ 1987 کے ریاستی انتخابات میں سید علی شاہ گیلانی کی قیادت میں جماعت اسلامی سمیت تمام آزادی پسند تنظیموں نے مسلم متحدہ محاذ کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا تاکہ ریاست اسمبلی نے ہی 1953 میں بھارت کے ساتھ جس الحاق کی توثیق کی تھی، اسمبلی کے ذریعے ہی اس الحاق کو منسوخ کر کے آزادی کا اعلان کیا جائے جس طرح وسط ایشیائی جمہوریاؤں نے کیا۔ مسلم متحدہ محاذ کو زبردست عوامی پذیرائی ملی لیکن بھارت نے ریاستی اوف فوجی جبر کے ذریعے مسلم متحدہ محاذ کی فتح کو شکست میں تبدیل کر دیا تو ان ابتخابات کے بطن سے مسلح عسکری تحریک نے جنم لیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے وادی سے بھارتی قبضے کے تار و پود بکھر دیے۔ 1990 سے لے کر 1996 تک کشمیر عملا” مجاہدین کے کنٹرول میں تھا۔ بھارتی فوج بیرکوں میں محصور تھی اور عوامی زندگی پر مجاہدین کی مکمل عملداری تھی۔ پاکستان اس صورت حال کا ایڈوانٹیج لے سکتا تھا۔ اگر بھارت کو ایسا موقع ملا ہوتا تو اس نے اس سے فائدہ اٹھانے میں لمحے بھر کی تاخیر نہ کی ہوتی لیکن پاکستانی پالیسی ساز کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے قسم کے اندیشہ ہائے دور دراز کا شکار رہے اور یہ سنہری موقع بھی ضائع کر دیا۔

اب طویل انتظار کے بعد قسمت کی دیوی پھر مہربان ہوئی ہے اور گردش ایام پھر گھوم کر 1947ُکے مقام پر آن پہنچی ہے جب جنرل گریسی کی مس کی ہوئی بس سٹیشن پر واپس آ پہنچی ہے۔ اس مرتبہ بھی یہ موقع آپ کی کسی حکمت عملی کے نتیجے میں نہیں بلکہ بھارت کی مہم جوئی کے نتیجے میں آپ کو میسر آیا ہے۔ اب کی بار 1947 کے برعکس کشمیری قوم آپ کے لیے چشم براہ ہے۔ لوہا مکمل طور پر گرم ہے۔ عالمی برادری کے ردعمل کا خدشہ ہے؟ عالمی اوباشوں کی مخالفت کے باوجود ہم ایٹمی دھماکہ کر سکتے ہیں تو کشمیر میں فیصلہ کن کاروائی کیوں نہیں کر سکتے؟ یاد رکھیے، آپ اندیشہ ہائے دور دراز کا شکار رہیں گے تو عالمی طاقتیں آپ کو دھکیل کر بھارت کے قدموں میں بٹھا دیں گی اور آپ کا اپنا وجود ان نوسربازوں کے رحم و کرم پر رہے گا اور اگر آپ کھڑاک کر دیں گے تو یہی عالمی نوسرباز آپ کی ناز برداریاں کرتے نظر آئیں گے۔ مودی نے سٹیٹس کو توڑ کر آپ کو سنہری موقع فراہم کر دیا ہے۔ قدرت نے اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے کے اتنے مواقع بنی اسرائیل کو بھی نہیں دیے جتنے آپ کو دیے ہیں۔ یہ موقع ضائع کر دیا تو مرگ مفاجات کے لیے تیار رہیں۔ یاد رکھیے
We don’t afford another train missed!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں