برکاتِ الٰہی کا نزول، ممکن ہے، مگر….!


تحریر : رانا شفیق پسروری

ہمارے سلام اور دُعاﺅں میں کچھ کلمات ایسے ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے، ایسے کلمات جو ہم روز آپس کی گفتگو اور نمازوں میں دہراتے ہیں، جن میں دنیا و آخرت کی بھلائیاں جمع کر دی گئی ہیں، جن میں حال اور مستقبل کی سعادت مندی ہے اور وہ کلمات ہیں ” برکت کی دُعا۔

مسلمان اپنے بھائی سے ملتا ہے تو کہتا ہے ”السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ“ تو کیا کبھی ہم نے اس برکت کی دعاءکے معنیٰ پر غور کیا ہے؟ اسی طرح درود میں ہم دعا کرتے ہیں ” اللہم بارک علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما بارکت علیٰ ابراہیم۔“ اے اللہ! برکت نازل فرما محمد پر اور آپ کی آل پر جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر۔ اسی طرح دعائے قنوت میں ہم پڑھتے ہیں ” وبارک لی فیما اعطیت“ جوتو نے مجھے عطا کیا ہے اس میں برکت ڈال دے۔شادی پر مبارک دیتے ہوئے ہم کہتے ہیں ”بارک ا للہ لکما و بارک علیکمااللہ تم دونوں میاں بیوی کے لئے یہ باعث برکت بنائے اور تم پر ہمیشہ برکت کی برکھا برسائے رکھے۔ تو اس برکت کی حقیت کیا ہے؟

برکت کے اصل معنٰی بقا و دوام اور برقرار رہنے کے ہیں جبکہ اس کا معنیٰ بڑھنا اور کثرت خیر بھی ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے بارک اللہ وبارک فیہ وبارک علیہ اور مبارک وہی معاملہ ہے جس میں اللہ برکت کر دے۔ قرآن میں اسی معنیٰ میں ہے۔ ”اور یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو؟ “ (انبیائ) یہاں کثرت خیر اور فوائد کے معنی میں ہے۔ہر قسم کی برکت اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے کیونکہ رب تعالیٰ اکیلا ہی ” برکت والا“ ہے اور جو چیز بھی اس کی طرف منسوب ہو جائے وہ ”مبارک“ ہو جاتی ہے، سو اس کا کلام بھی مبارک ہے، اس کا رسول مبارک ہے، اس کا مومن بندہ مخلوق کو جو فائدہ دے، وہ بھی مبارک ہے، بیت اللہ الحرام بھی مبارک ہے، ارض شام بھی مبارک ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سر زمین کو قرآن مجید میں برکت سے تعبیر کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ اور اس کے اردگرد اللہ نے برکتیں رکھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق بھی یہی لفظ استعمال کیا ہے، ” تَبَارَکَ “ جس سے مراد ہے، اپنی ذات میں بابرکت اور تقدس والا، چنانچہ اللہ کے سوا کسی اور کے لئے اس کا استعمال جائز نہیں۔ جیسا کہ لفظ ”تَعَاظَمَ“ بولاجاتا ہے جو اللہ کی عظمت اور کثرت خیر کی دلیل ہے اور یہ صفت کمال ہے، دُنیا کی ہر چیز میں فائدہ اسی کے احسان کی وجہ سے ہے سو وہی عظمت و جلال والاہے، اس کی شان بلند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلام کے آغاز پر اس کی عظمت و کبریا ئی کا ذکر کیا جاتا ہے۔” وہ (اللہ عزوجل) بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ اہل عالم کو ہدایت کرے“(فرقان) ”کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر ٹھہرا۔ وہی دن کو رات کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے اور اسی نے سورج چاند اور ستاروں کو پیدا کیا۔ سب اسی کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی اسی کا ہے۔ یہ اللہ رب العالمین بڑی برکت والاہے “۔ (اعراف)

مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کچھ کو مبارک بنایا ہے جن کی وجہ سے خیر ہی خیر ماحول میں ہو جاتی ہے،ا س کے اثرات عظیم ہوتے ہیں، خیر کے اسباب انھی سے جڑے ہوتے ہیں۔ لوگوں کو اس سے بے انتہاءفائدہ پہنچتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا: ”اور میں جہاں ہوں (اور جس حال میں ہوں) مجھے صاحب برکت کیا ہے “ (مریم)

”برکت “ اللہ کا فضل ہے جو انسان کے پاس وہاں وہاں سے آ پہنچتا ہے جہاں سے اسے وہم گمان بھی نہیں ہوتا۔ سو ہر وہ کام جس میں غیر محسوس طریقے سے اضافہ اور کثرت نظر آئے تو یہ کہا جاتا ہے کہ اس میںبرکت ڈال دی گئی ہے۔ برکت اللہ کا عطیہ ہے جو انسان کو مادی اسباب سے ماورا عطا کیا جاتا ہے۔ چنانچہ جب اللہ کسی کی عمر میں برکت ڈال دیتا ہے تو اس کو اطاعت کی زیادہ سے زیادہ توفیق دے دیتا ہے یا اس میں بہت سی بھلائیاں جمع کر دیتا ہے اور جب اللہ صحت میں برکت ڈال دیتا ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ آدمی کی صحت کو پائیدار کر دیتا ہے۔ اور جب مال میں برکت ڈالتا ہے تو اس کو بڑھا کر زیادہ بھی کر دیتا ہے اور صالح بنا کر بھی دیتا ہے۔ اور صاحب مال کو خیر کے کاموں میں مال خرچ کرنے کی توفیق دے دیتا ہے اور جب اولاد میں برکت ڈالتا ہے تو اولاد کو نیک بنا دیتا ہے اور صاحب اولاد کو اولاد کا حسن سلوک نصیب کرتا ہے۔ جب اللہ بیوی میں برکت دیتا ہے تو اس کو خاوند کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دیتا ہے یو ں کہ جب وہ اسے دیکھے تو خوش ہو جائے، جب وہ گھر سے باہر ہو تو اس کی عزت کی حفاظت کرے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کام میں برکت دیتا ہے تو اس کے اثرات کو وسعت پذیر کر کے اس کے فوائد زیادہ کر دیتا ہے۔ اللہ کے لئے اخلاص اورنبی کریم کی اتباع جیسے اعمال سے بڑھ کر کوئی برکت والاکام نہیں ہو سکتا۔ ابن قیم ؒ فرماتے ہیں: ” ہر چیز جو اللہ کے لئے نہیں ہوتی برکت اس سے اٹھالی جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی برکت والاہے اور ہر برکت اسی کی طرف سے ہوتی ہے۔ مسند احمد میں حدیث قدسی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ” جب میری اطاعت کی جائے تو میں خوش ہوتا ہوں، جب میں خوش ہوتا ہوں تو برکتیں عطا کرتا ہوں اور میری برکتوں کی کوئی انتہاءنہیں۔

لوگوں نے اوقات و اشیاءاور اقوال و اعمال میں کتنی برکتیں دیکھی ہیں کہ کبھی تھوڑی چیز زیادہ ہو جاتی ہے، اس کا فائدہ عام ہو جاتا ہے، بھلائیاں ملتی رہتی ہیں، سرور کی کیفیت عام ہوتی ہے دل خوش ہوتے ہیں۔ عظیم لوگوں کی سیرت میں برکات کی بے شمار مثالیں ہیں کہ وہ بھی تو انسان ہی تھے لیکن اللہ نے ان کے عمل وعمر میں برکت دی۔ سیرت رسول پر غور کیجئے کہ اشرف المخلوق جناب محمد کی زندگی کا ہر دن مبارک ہے، آپ کے فیوض و برکات مسلسل جاری ہیں اور تا قیامت جاری رہیں گے۔ اسی برکت کی وجہ سے اللہ نے اسلام کی حکومت قائم کردی حالانکہ آپ کی دعوت کا دورانیہ 23 سال سے زیادہ نہیں تھا اور خلافت ابوبکر ؓ سال چند ماہ تھی انہوں نے بھی اس مختصر مدت میں کارہائے نمایاں انجام دئیے جو عام آدمی کئی سال میں کرنے سے بھی قاصر ہو گا۔ علم کے میدان میں نظر دوڑائیں تو علماءکو دیکھ کر تعجب ہوتا ہے۔ امام شافعی ؒ کو دیکھ لیجئے آپ کی عمر بوقت وفات زیادہ نہ تھی۔ایسے ہی امام طبری ؒ، امام نووی ؒ، شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ وغیرہ کو دیکھیے کہ کس قدر تالیفات اور کتابوں کی صورت میں وہ علمی ورثہ چھوڑ گئے ہیں کہ جن کو پڑھتے پڑھتے عمریں تمام ہو جائیں، تو یہ صرف اللہ کی مدد وبرکت ہی تھی جو ان کے اوقات میں ڈال دی گئی تھی۔لوگوں کی زندگیوں میں برکت کو دیکھا جائے تو چیز اگر با برکت ہو تو ان کو تھوڑی چیز بھی کافی ہوتی تھی، کیا دور تھادورِ ماضی بھی کہ ایک گھر میں کئی کئی خاندان بستے تھے، ایک کا کھانا دو کو کفایت کرتا تھا، قناعت ان پر سایہ فگن تھی اور خوشی ان کے چہروں سے عیاں تھی، سعادت مندی ان کو گھیرے ہوئے تھی۔آج لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ رزق کم ہوگیا ہے یا دل تنگ ہو گئے ہیں؟ وقت کی کمی ہے یا ہمتیں جواب دے گئی ہیں؟آج لوگوں پر آسائش کے ایسے ایسے اسباب و وسائل کے در کھلے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہ تھے، زمین کے خزانے پھوٹ پڑے ہیں، نئی نئی ایجادات، انکشافات اور صنعتیں عام ہو گئی ہیںمگر اس کے باوجود لوگوں کے فقر وفاقہ میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے، اس سب کے باجود لوگوں کے حصے میں شقاوت اور مجبوری ہی آئی۔ اسباب و آسائش وافر ہونے کے باوجود فقر وفاقہ کی تکلیف دنیا پر غالب آگئی ہے،زندگی تنگ ہو گئی ہے، وقت کی کمی ہے، مستقبل کا خوف ہے۔ سوچا جانا چاہئے کہ خرابی اورکمی کہاں ہے؟ یہی کہ برکت ختم ہو گئی ہے۔ ایک بڑی نفیس بات یہ بھی ہے کہ برکت کثرت سے نہیں ہوتی بلکہ برکت سے کثرت ہوتی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا:” بارش کا نہ ہونا قحط سالی نہیں بلکہ قحط سالی یہ ہے کہ بارشیں تو ہوتی رہیں لیکن ان میں برکت نہ ہو۔“ قرآن مجید میں بھی کچھ ایسا ہی فرمان ہے۔فرمایا ” اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہو جاتے تو ان پر آسمان اور زمین کی برکات کے خزانے کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی تو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا۔“ ( اعراف) ایمان، تقویٰ اور عمل صالح، رزق، اطمینان اور خوشی میں برکت کے اسباب ہیں ” اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی “ (طہ) ہاں اللہ سے روگردانی ٹھیک اسی شقاوت کا سبب ہیںجن کا شکوہ افراد اور قومیں آج کر رہی ہیں۔

کیا ہم ان اسباب پر غور و فکر نہیں کریں گے؟ بڑی بڑی اقتصادی قومیں اللہ نے ان کو علم وہنر عطاءکیا ہے اس کے باوجود وہ بنیادوںسے ہل رہی ہیں، کیا ہم غور نہیں کرتے کہ بے شمار قوانین، معاہدات اور تنظیموں کے ہونے کے باوجود دنیا کے طاقتور ترین ملکوں میں امن ختم ہو چکا اور ہر سو خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے، خانہ جنگی چھڑ چکی ہے، قتل عام ہو رہا ہے اور بے چینی کا سماں ہے۔

دُنیا کا اصل مدبر اللہ جل و علا ہی ہے، اس کے قوانین کے بغیر معاملات نہیں چل سکتے اور نہ ہی اس کی ہدایت پر عمل کے بغیر سعادت و آسائش حاصل ہو سکتی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اللہ سود کو نابود (یعنی بے برکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے “ (البقرة) اور فرمایا” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے لئے امن (اور جمعیت خاطر) ہے۔ اور وہی ہدایت پانے والے ہیں“ (الانعام) ”جو شخص نیک عمل کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے“ ( النحل) سو ایمان و تقویٰ اور عمل صالح خوشیوں، سعادتوں اور برکتوں کا سبب ہیں، معاصی اورگناہ برکت کو مٹا دیتے ہیںاور زندگی کو گدلاکر دیتے ہیں، رزق میں تنگی آتی ہے۔’ ’ اور اللہ ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی، ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا مگر ان لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا“ ( النحل)

بلکہ گناہوں کے برے اثرات اتنے کثیر اور قبیح ہیں کہ ہمارے انداز ے میں نہیں آ سکتے۔ امام بخاریؒ ادب المفرد میں روایت کرتے ہیں: ”دو محبت کرنے والوں میں جدائی بھی اس گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے جو ان دونوں میں سے کسی سے سرزد ہوا ہے۔غورکرو! میاں بیوی کے با ہمی تعلقات کو سورہ طلاق میں بیان کرتے وقت اللہ نے تقویٰ کا بار بار ذکر کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی فرمایا،” اور بہت سی بستیوں (کے رہنے والوں) نے اپنے پروردگار اور اس کے پیغمبروں کے احکام سے سرکشی کی تو ہم نے ان کو سخت حساب میں پکڑ لیا اور ان پر (ایسا) عذاب نازل کیا جو نہ دیکھا تھا نہ سنا۔سو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور ان کا انجام نقصان ہی تو تھا۔اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ تو اے ارباب دانش! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو “ (اطلاق) یہی قوانین قدرت ہیں، افراد اور گھروں کے احوال میں کار فرما ہیں اور اسی طرح قوموں اور بستیوں پر بھی۔ صحیح مسلم میں ہے، حضرت حکیم بن حزامؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: ” خرید و فروخت کرنے والوں کو سودا منسوخ کرنے کا اختیار ہے، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں، اگر وہ سچ بولیں اور ہر چیز کا عیب بیان کر دیں تو ان کی تجارت میں برکت ہوتی ہے اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور عیب چھپائیں تو ان سے برکت ختم کر دی جاتی ہے۔“ حدیث ابن عمرؓ میں نبی اکرم نے برکت کو مٹا دینے والی اور فقر و فاقہ و آزمائش کی طرف لے جانے والی نافرمانیوں کے اصول بیان کئے ہیں اور وہ ہیں بے حیائی کا عام ہونا، ناپ تول میں کمی کرنا، زکوة کی عدم ادائیگی، معاہدوں کی خلاف ورزی، امانتوں میں خیانت، شریعت کے علاوہ کوئی اور قانون نافذ کرنا۔ تو کیا تاجر اور کاروبار کرنے والے اسے مدنظر رکھیں گے؟ ملاوٹ کرنے والوں، رشوت لینے والوں، معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کیا اس کا کوئی پاس ہے؟کیا ایمان والوں میں بے حیائی پھیلانے والوں اور رذائل کی دعوت دینے والوں کو اس کا خیال ہے؟ اللہ نے سچ فرمایا،” اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کر دیتا ہے“ (الشوریٰ) ”(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (احد کے دن کفار کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دو چند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑ چکی ہے تو تم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آ پڑی؟ کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) “ (آل عمران)

اللہ کے بندو! تقویٰ اور نیکی کو اپنا شعار بناﺅ، جسمانی صحت، دلوں کے اطمینان، زندگی میں آسائش و سعادت کے اثرات کا مشاہدہ کرو۔ اللہ سے برکات کی دعا کر و اور اس کے اسباب کو اپناﺅ۔” اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے“ ( آل عمران)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں