” کبھی نہ کبھی تو ان کا بھی ضمیر جاگے گا ”


دعاگو ، خاور جاوید رانا

ایک طرف انسانیت سےعاری بھارت نہتے اور بیگناہ معصوم کشمیریوں پر ظلم و بربریت کے تمام پہاڑ توڑے چلا جا رہا ہے تو دوسری جانب مسلم حکمران ان تمام حالات و واقعات سے لاتعلق ہندوستان کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہیں ۔ ان کو اس بات سے کچھ غرض نہیں ہے کہ یزید وقت نریندر مودی نے ان کے مسلمان کشمیری بھائیوں پر عرصہ حیات کس قدر تنگ کر رکھا ہے ۔

دوستو!
ذرا ان دونوں تصاویر کو غور سے دیکھیے ،
پہلی تصویر ان دو ننھے منے بچوں کی ماں کی ہے جسے کہ ہندو درندوں نے شیلنگ کرکے اس کو اس کے اپنے ہی سائبان تلے شہید کر دیا ہے ۔ جبکہ دوسری تصویر
متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان کی ہے جو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ” آرڈر آف زید ” سے نواز رہے ہیں ۔

ایک وقت وہ تھا کہ جب دیبل کے قید خانے سے ایک بیٹی نے بصرہ کے والی حجاج بن یوسف کو مدد کے لیے پکارا تو حجاج بن یوسف نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسمؒ کی قیادت میں مسلم افواج کو خواتین کی مدد کے لیے ہندوستان روانہ کر دیا ۔ آج لاکھوں کشمیری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں مسلم امہ کی جانب امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہیں ۔ لیکن نیل کے ساحل سے لیکر تابخاکِ کاشغر ” ماسوائے ترکی” کسی ایک بھی مسلمان حکمران کی جانب سے ” غیرتِ ایمانی ” کا مظہر دیکھائی نہیں دیا ۔ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے تو بے غیرتی کی تمام حدیں ہی پار کر لی ہیں ۔ آج ان کے پتا جناب شیخ زاید بن آل نہیان کی روح کتنا تڑپ رہی ہوگی ۔ انہوں نے تو شہید ذوالفقار علی بھٹو اور سعودیہ کے فرمانروا شاہ فیصل بن عبد العزیز کے بعد سب سے بڑھ کر مسلم امہ کے اتحاد و یگانگت کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کیا تھا ۔ ان کی تو لیبیا کے معمر القذافی کے بعد پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لئے بیشمار گرانقدر خدمات تھیں ۔ سچ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی ولی کے گھر شیطان بھی پیدا ہو ہی جاتا ہے ۔

دوسری جانب اگر ہم تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو اس میں بھی ہمارے ملک کی خراب خارجہ پالیسی کا کافی عمل دخل نظر ارہا ہے ۔ ہمارے وزیراعظم اور ہمارے وزیر خارجہ کی خارجہ پالیسی ٹویٹر اکاؤنٹ تک ہی محدود ہے یاپھر وہ اپنا منہ ٹیڑھا کرکے مسخروں کے سے انداز میں پریس کانفرنس کر کے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ اس سے دنیا کو پیغام چلا گیا ہے لہذا سب اچھا ہے ۔ جبکہ دوسری جانب نریندر مودی نے چوبیس گھنٹے میں فرانس سمیت کئ ممالک کے دورے کر لیے ہیں اور لطف کی بات تو یہ ہے کہ اس کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود کراس کرنے کی خصوصی اجازت بھی دے دی جاتی ہے ۔ دوستو آئیے سب ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کریں کہ ،

یا رب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے​
جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے​

محرومِ تماشا کو پھر دیدۂ بینا دے​
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دِکھلا دے​

بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل​
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے​

پیدا دلِ ویراں میں پھر شورشِ محشر کر​
اس محملِ خالی کو پھر شاہدِ لیلا دے​

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں