بڑا تہلکہ ، دنیا بھر میں 2 سے 10 فیصد تک افراد ہم جنس پرست ہو سکتے ہیں ؟؟؟

دنیا کے ہر انسانی معاشرے میں2 سے 10 فیصد تک افراد ہم جنس پرست رجحانات کے حامل ہو سکتے ہیں ، ایک بڑی تحقیق نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا ہے – جس کا کہنا ہے کہ امریکا، برطانیہ اور سوئیڈن جیسے ممالک میں جنسی رجحانات پر ہونے والی تحقیق اور ہم جنس پرست افراد کے ڈیٹا کے مطالعاتی جائزے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ انسان کسی ایک مخصوص پیدائشی جین کی وجہ سے ہم جنس پرست نہیں بنتا – جنسی رجحانات کے حوالے سے اب تک ہونے والی سب سے بڑی مطالعاتی تحقیق کرنے والی ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ 4 لاکھ 9 ہزار کے قریب برطانوی جب کہ 68 ہزار سے زائد امریکی افراد کے جنسی رجحانات اور ان کے ڈی این اے ڈیٹا کا جائزہ لیا اور ساتھ ہی ماہرین نے سوئیڈن کے لوگوں کے رجحانات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے جس میں ماہرین نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ انسان میں کوئی پیدائشی چین ایسا بھی موجود ہوتا ہے جس کی وجہ سے انسان ہم جنس پرست بنتا ہے؟

سائنسی جریدے ’سائنس میگ‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ماہرین کی ایک ٹیم نے امریکا، برطانیہ اور سوئیڈن سمیت دیگر ممالک کے ہم جنس پرست افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جبکہ ماہرین نے یہ ڈیٹا امریکی کمپنی ’23 اینڈ می‘ اور برطانیہ کے ’یوکے بائیو بینک‘ سمیت سوئیڈن سے حاصل کیا – ماہرین کے مطابق ڈیٹا کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ انسان میں پیدائشی طور پر پائے جانے والے متعدد جینز اس کے جنسی رجحانات پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان ہی جینز کی وجہ وہ اپنے جنسی رجحانات کا تعین کرتا ہے – اور مطالعے سے بات واضح ہوئی کہ کوئی بھی انسان کسی ایک ہی جین کی وجہ سے ہم جنس پرستی کی جانب راغب نہیں ہوتا – ماہرین نے بتایا کہ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی انسان کے ہم جنس پرست بننے کا کوئی ایک سبب نہیں بلکہ وہ مختلف، 4 سے 5 اسباب کی وجہ سے اس طرح کے رویے کی جانب راغب ہوتا ہے – اسی طرح ماہرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ کچھ افراد طرز زندگی کی وجہ سے بھی ہم جنس پرستی کی جانب راغب ہوتے ہیں۔

اس تمام تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ دنیا کے ہر معاشرے کی مجموعی آبادی کے 2 سے 10 فیصد تک افراد ہم جنس پرستی کی جانب راغب ہوتے ہیں اور یہ شرح بتدریج بڑھ رہی ہے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں