میں مصلی قبیلے کا لکھاری ہوں


تحریر، افضال احمد تتلا
[email protected]

مولُو۔۔۔۔ مولا بخش کی بگڑی ہوئی شکل ہے ہمارے معاشرے میں ناموں کو بگاڑ لینا کوئی نئی بات نہیں۔کرم علی کو”کرملی” غلام محمد کو”گاما”یا مختار کو”موکھا”کہا جاتا ہے اس عمل کی بنیاد محبت سے زیادہ حقارت پر ہے مصلی بھی مسلم شیخ کا بگاڑ ہے مختلف مذاہب کی نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے جب حلقہ بگوش اسلام ہوئے تو ان کو کوئی بلند سماجی رتبہ نہ مل سکا ان کو مسلم شیخ کہا جانے لگا ان افراد کا تعلق نچلے طبقوں سے تھا,کم مرتبہ اور کم حیثیت۔ اس لیے انھیں پہچان کے لیے دیا گیا لفظ مسلم شیخ بھی بگڑ کر”مصلی”بن گیا گویا مولو مصلی,دہری تحقیر کی عکاسی کرتا ہے مولا بخش سے مولُو اور مسلم شیخ سے مصلی۔

ادارہ اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب جو گورنمنٹ کالج لاہور کے پڑھے ہوئے ہیں انہیں نہ صرف 2010ء میں صدر پاکستان کی طرف سے ستارہ امتیاز عطا کیا گیا بلکہ معاشرے کی کمزور طبقوں کے لیے آواز اٹھانے اور ان کی رضاکارانہ خدمات کے اعتراف میں ملکہ برطانیہ کی جانب سے “common wealth’s point of light” کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ان کی کتاب مولُو مصلی جس کے سرورق پر ایک لاچار بابے,چار مسکراتے ہوئے چہرے والے کم عمر لڑکوں, ایک آس بری آنکھوں سے تکتی ہوئی بچی اور معاشرے کے دھتکارے ہوئے ایک خواجہ سرا کی تصویر چھپی ہوئی ہے اُس کتاب کا آغاز ہی اِس کالم کے پہلے پیرا گراف سے ہوتا ہے جیسے جیسے میں یہ کتاب پڑھتا گیا میں اپنے آپ سمیت بہت سے لکھاریوں کو بھی مولو مصلی کے قبیلے سے سمجھنے پر مجبور ہوتا گیا بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ مجھ جیسے لکھاری اس معاشرے میں مولو مصلی سے بھی بدتر زندگی گزار رہے ہیں تو جھوٹ نہ ہوگا مجھے اپنا آپ مصلی قبیلے سے کیوں محسوس ہوا اس پر بات کرنے سے پہلے ڈاکٹر صاحب کی کتاب میں سے چند واقعات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

ڈاکٹر صاحب اپنی کتاب میں معاشرتی تقسیم دکھانے کے لیے ایک واقع لکھتے ہیں کہ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کہ کچھ پولیس افسران نے ایک گھر کی تلاشی لینا چاہی تو جواب ملا خبردار یہ چوہدریوں کا گھر ہے کسی مولو مصلی کا نہیں اس پر پولیس افسران نے ہاتھ جوڑے معافی مانگی اور یہ کہہ کر واپس لوٹ آئے کہ ہمیں علم نہ تھا یہ چوہدری کا گھر ہے مولو مصلی کا گھر ہوتا تو کب کے داخل ہوچکے ہوتے۔اس سے ملتا جلتا واقع آپ میں سے اکثر نے دیکھا یا سنا ہوگا۔جب آپ کسی لائن میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوں جبکہ ایک چوہدری (بااثر شخص) آتا ہے اس کو لائن بنوانے سے لےکر وہاں پر موجود ہر عملہ سیلوٹ بھی مارتا ہے اس کا کام بھی سب سے پہلے ہوتا ہے تب وہاں لائن میں موجود ہر شخص خود کو مولو مصلی ہی محسوس کرتا ہے۔یہ کالم نگار خود دیہی علاقے کا رہائشی ہے اور بہت سے ایسے چوہدریوں کو جانتا ہے جو برملا کہتے ہیں ہمارا کام کیسے رک سکتا ہے ہم کوئی “نتھو, خیرے” ہیں یعنی ان کی نظر میں کسی نتھو اور خیرے یا مولو مصلی کا کام رک جائے تو یہ کوئی خاص بات نہیں مگر چوہدری صاحب کا جائز و ناجائز کام ہر صورت پورا ہونا چاہیے یہاں پر مجھے ایک واقع یاد آرہا ہے جو سابقہ جنرل الیکشن میں ایک دوست نے مجھے سنایا کسی گاؤں میں چوہدری صاحب ووٹ لینے جاتے ہیں تو وہاں پر موجود بزرگ چوہدری صاحب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم ووٹ آپ کو ہی دیں گے پر ہماری ایک شرط ہے کہ آپ جب جیت جائیں تو ہمارے جائز کام پورے کرنے کا وعدہ کریں اور چوہدری صاحب بڑے دھڑلے سے کہتے جائز کم تے ہر کوئی کروا دینیدا آساں تے تہاڈے ناجائز وی کراساں(جائز تو سب ہی کرواتے ہم تو آپکے ناجائز کام کروانے کی بھی سکت رکھتے ہیں) یعنی ہمارے معاشرے میں اگر کوئی باعزت زندگی گزارنا چاہتا ہے تو اُس کا بااثر ہونا ضروری ہے عام آدمی کو تو معاشرے میں کمی کمین کا درجہ دے دیا گیا اور اس طبقاتی تقسیم نے انسانوں میں جو نفرت کے بیج بو دئیے ہیں وہ اب تناور درخت بنتے جا رہے ہیں اگر معاشرے کی اس درجہ بندی پر قابو نہ پایا گیا تو وہ وقت دور نہیں جب نفرت کے ان درختوں کی چھاؤں ہار,جیٹھ کی دھوپ سے بھی زیادہ گرم ہوجائے گی اور ان کی زد میں آنا والا تپش ضرور محسوس کرئے خواہ وہ چوہدری ہی کیوں نہ ہو۔

اب میں اپنے قارئین کو بتاتا چلوں کہ مجھ جیسے لکھاری اس معاشرے میں مولو مصلی سے بھی بدتر زندگی کیسے گزارتے ہیں اصل میں ہم لاوارث لوگ ہیں اور ایسے لاوارث کہ ہمارا کبھی کسی کتاب میں بھی ذکر نہیں کیا جاتا بلکہ ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب نے اپنی اس کتاب میں معاشرے کے ہر پیسے ہوئے طبقے پر لکھا اگر نہیں لکھا مولو مصلی قبیلے کے لکھاریوں پر نہیں لکھا شاید یہ لاوارث لکھاری انسانیت دوست ڈاکٹر امجد ثاقب کی نظر میں بھی آنے کے قابل نہیں۔اب یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ لکھاری کیسے کسی معاشرے میں لاچار ہوسکتا ہے کیونکہ قلم سے ہی تو معاشرے کی سمت کا تعین ہوتا ہے مگر یہ اُن معاشروں میں ہوتا ہے جو آرٹسٹ کِلر نہیں ہوتے بدقسمتی سے مجھے یہ کہنا پڑرہا کہ جس طرح ہم فن اور فنکار دونوں کو برداشت نہیں کرتے اسی طرح ہمارے ہاں لکھاریوں کی اسی کلاس پیدا ہوچکی ہے جو مجھ جیسے نئے لکھنے والوں کو اس فیلڈ میں پیدا ہونے سے پہلے ہی مار دینے کی خواہش رکھتے ہیں بجائے حوصلہ افزائی یا رہنمائی کے طرح طرح کے نقص نکال کر نئے لکھاریوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے یہ کالم لکھنے سے پہلے جب اس حوالے سے تحقیق کی گئی تو میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ بہت سے ناموار لکھنے والوں کے پس پشت پے مبیّنہ طور پر کچھ گمنام لکھاریوں کی ہی محنت ہوتی ہے لیکن یہ تحریر اگر مولو مصلی(چھوٹے لکھاری) کے نام سے شائع ہوگی تو اس کو نہ تو کوئی ناموار اخبار شائع کرتا اور نہ ہی قارئین کی نظر میں اس کی اہمیت بن سکے گی(بد قسمتی سے اب قارئین کی بھی ایسی جماعت پیدا ہوچکی ہے جو جاندار موضوع اور بہترین الفاظ کے چناؤ کو دیکھنے کی بجائے تگڑے اخبار کے ٹھپے کو زیادہ ترجیح دیتی ہے)مگر جیسے ہی اُس تحریر پر کسی چوہدری (بڑے لکھاری) کے نام کا ٹھپہ لگ جائے گا تو اس تحریر کے الفاظ خودبخود ہی جاندار ہوجائیں گے یہاں تک اخباروں کے ایڈیٹر تک بھی اُس تحریر کی کانٹ چھانٹ کروانے سے گریز کریں گے نئے لکھنے والوں کے ساتھ اس ناروا سلوک کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ ہاں میں مصلی قبیلے کا لکھاری ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں