مونسپل لائبریری چک جھمرہ کی خالی بک شلفیں اور بکھرا ہوا سامان کس کی غفلت کا ثبوت ؟؟

چک جھمرہ(افضال احمد تتلا ) تحصیل چک جھمرہ کی مونسپل لائبریری میں سے کتابیں,فرنیچر ودیگر قیمتی سامان غائب ہوگیا انتظامیہ نے سامان تلاش کرنے کی بجائے لائیبریری کو ہی تالے لگا کر طالب علموں کا داخلہ بند کردیا ہے دوسری جانب تحصیل چک کے 207 پرائمری, مڈل,ہائی سکولز اور گرلز و بوائز ڈگری کالجز کے ہزاروں طالب علم چک جھمرہ کی اس اکلوتی پبلک لائبریری کے بند ہوجانے پر سرپا احتجاج ہیں جبکہ ارباب اختیار حقائق جاننے کے باوجود لائیبریری بحال کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق تحصیل چک جھمرہ کی ٹاوٴن مونسپل کمیٹی کی عمارت میں 4 اکتوبر 1990ء کو مونسپل لائبریری کے نام سے ایک پبلک لائبریری کا آغاز کیا گیا تھا اس لائبریری کا افتتاح اُس وقت کے کمشنر فیصل آباد شہزاد حسن پرویز نے کرتے ہوئے کتب خانے میں سینکڑوں تاریخی, ادبی, اسلامی ودیگر غیرنصابی کتابیں رکھوانے کے ساتھ ساتھ طالب علموں کو کرنٹ افیرز سے آگاہ رکھنے کے لیے قومی اخبارات کی سہولت بھی فراہم کی تھی تاہم چک جھمرہ کی انتظامیہ کی غفلت اور باہمی چپقلش کی بناء مونسپل لائبریری چک جھمرہ سے بہت سی قیمتی کتب, فرنیچر ودیگر قیمتی سامان غائب ہوگیا ہے جبکہ انتظامیہ نے کتب خانے سے غائب ہوجانے والے سامان کی تلاش کی بجائے اس عمارت کو تالے لگا کر لائیبریری کو ہی عوام کے لیے بدکردیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ مونسپل لائبریری چک جھمرہ میں کتابیں اور فرنیچر واپس رکھوا کر عوام کے لیے اس کے دروازے کھول دیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں