سکیورٹی مسائل اور ہسپتال


تحریر، ڈاکٹر میاں محمد عدیل عارف

پرانے پاکستان میں اگر کسی مریض کو ہسپتال میں دوائی نہ ملتی یا مریض کیلئے بیڈ نہ ہوتا یا کوئی انتظامی مسئلہ ہوتا جس کو حل کروانا ڈیوٹی ڈاکٹر کے اختیار میں ہی نہیں تھا تو لوگ ڈاکٹر سے بد تمیزی سے پیش آتے اور عموماََ بات گالی گلوچ پر پہنچ کر ختم ہو جاتی ڈاکٹرزکاگریبان پکڑ لینا ایک بڑا واقعہ تصور کیا جاتاتھا۔ینگ ڈاکٹرز غریب مریضوں کے حقوق کے تحفظ اور انتطامی مسئلوں کے لیے برسرِاقتدار حکومت کے خلاف احتجاج کرتے تو ہماری ہیلتھ منسڑ صاحبہ نہ صرف ان مطالبات کی حمایت کرتی بلکہ خود بھی اپنی لیڈر شپ کے ساتھ احتجاج میں چکر بھی لگاتی تھیں۔
ینگ ڈاکٹرز بھی حکومت سے نا خوش تھے اور تبدیلی کے خواہشمندبھی۔ ینگ ڈاکٹرز تب بڑی تعداد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے چاہنے والے تھے اور سب نے الیکشن میں باقاعدہ پاکستان تحریکِ انصاف کے حق میں مہم بھی چلائی ۔ اگست 2018 میں نیا پاکستان معرضِ وجود میں آگیااور باقی طبقات کی طرح ڈاکٹر ز بھی امید لگائے بیٹھے تھے کہ مریضوں کو ہسپتال میں فری ادویات ملیں گی، بیڈز دستیاب ہوں گے،ڈاکٹرزاور دیگر عملہ کو سکیورٹی فراہم کی جائے گی اور اْن کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہونگے لیکن کچھ نہ ہو سکا۔

رحیم یار خان میں لیڈی ڈاکٹرکو ہراساں کیا گیاتو سکیورٹی بل کی بازگشت ینگ ڈاکٹرز کی چیخ و پکارسے اربابِ اختیار تک پہنچی پھر راولپنڈی ہسپتال میں یکے بعد دیگرے ڈاکٹرزپر تشدد کے واقعات ہوئے اس کے بعد ڈی ایچ کیو ننکانہ کی ایمرجنسی میں فائرنگ ہوئی ینگ ڈاکٹرز نے احتجاج کا علم اٹھائے رکھا لیکن بات وعدوں سے آگے نا بڑھ سکی پھر لاہور میں عوام کے احتجاج سے ایک مریض چل بسا لیکن پنجاب کے وزیرِ قانون نے سکیورٹی بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کر دیااور ڈاکٹرز کو ہی سارے ماعملات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیاگویا ڈاکٹرز خود چاہتے ہیں کہ باہر سے آ کر کوئی ان پر تشدد کرے اسکے بعد راولپنڈی کی ایمرجنسی میں فائرنگ کر کے دو افراد کو قتل کر دیا گیا۔

آج کل کے دور میں اس نوعیت کا یہ منفرد واقعہ ہے کہ لوگ اسلحہ لے کر انتہائی حساس علاقہ میں واقع ہسپتال کے اندرآتے ہیں کو ئی گارڈنہیں کوئی سکیورٹی نہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں فائرنگ کرتے ہیں دو افراد کو قتل کر دیتے ہیں اور موقع ِ واردات سے فرار ہو جاتے ہیں یہ تو قاتلوں کی مہربانی ہے کہ انہوں نے صرف دو افراد کو ٹارگٹ کیا وگرنہ۔۔۔۔

ان واقعات کے باوجود ڈاکٹرز ہر جگہ اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں ہسپتالوں میں سکیورٹی فراہم کرنا حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے اور حکومت اس میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ آپ کسی بھی سرکاری ادارے میں چلے جائیں وہاں جا کر کوئی بھی کام بغیر سفارش اور رشوت کے کروا کر دکھائیں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ سے بات بھی عزت سے کی جائے۔ ہسپتال میں موجود ڈاکٹرز بھی سرکاری ملازم ہیں اے ۔سی ،وکلا ،ججز،ڈپٹی کمیشنر،تھانیدار وغیرہ بھی سرکاری ملازم ہیں کبھی ان کے دفاتر میں جا کر بھی اپنا ہنگامہ آرائی کا اختیار استعمال کریں یا ان کے دفاتر میں آپ کے تمام مسئلے فوراََحل ہوجاتے ہیں؟

ڈاکٹرز 24 گھنٹے ہر غریب امیر کو مہیا ہوتے ہیں اور اپنی استطاعت سے بڑھ کر لوگوں کی خدمت کرتے ہیں ہاں حکومت ہمیں تنخواہ دیتی ہے لیکن یہی تنخواہ ججز ، اے۔سی ، اور بیوروکریسی کے مقابلے میں بہت کم ہے دوسرے ملکوں میں موجود ڈاکٹرز سے بھی کم ہے لیکن ہم پھر بھی لوگوں کی خاطر اپنے ملک کی خاطر کام کرتے ہیں اکژ ہمارے دوست انہی وجوہات کی بنا پر ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں لیکن ہم اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں سکیورٹی ہمارا حق ہے اور حکومتِ وقت کو ہمارا یہ حق دینا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں